عید کے دِن نہ سہی خیر سہی عید کے بعد
ہم نے تو عید منانی ہے۔۔۔ تیری دِید کے بعد
عید کے دِن اُنھیں فرصت نہ مِلی۔۔۔ آ نہ سکے
اب وہ کہتے ہیں کہاں جائے کوئی عید کے بعد
جہنم ہو کہ جنّت ، جو بھی ہوگا فیصلہ ، ہوگا
یہ کیا کم ہے ہمارا اور اُن کا سامنا ہوگا
سمجھتا کیا ہے تُو دیوانہ گانِ عشق کو زاہد!
یہ ہو جائیں گے جِس جانب، اُسی جانِب خُدا ہو گا
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانیِ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
ہاں تلخیِ ایّام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہلِ ستم مشقِ ستم کرتے رہیں گے
اپنی مِلّت پر قياس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکيب ميں قومِ رسولِ ہاشمی
اُن کي جمعيت کا ہے مُلک و نسب پر انحصار
قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعيت تری
دامنِ ديں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعيت کہاں؟
اور جمعيت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی!
ہر جُستجُو عَبث جو تِری جُستجُو نہ ہو
دِل سَنگ و خِشت ہے جو تِری آرزُو نہ ہو
وہ آہ رائیگاں ہے نہ لگ جائے جس سے آگ
اُن آنسووَں پہ خاک کہ جن م��ں لہُو نہ ہو
بے کیف بَادہ ہیچ ہے ، بے رَنگ گُل فضُول
وہ حُسن کیا کہ جس میں مُحبّت کی خُو نہ ہو
غالِبؔ نَمازِ عشق کی مقبولیت محال
جب تک کہ اپنے خُونِ جِگر سے وضُو نہ ہو
مرزا اسد اللہ خان غالِبؔ
دل سوز سے خالی ہے، نِگہ پاک نہیں ہے
پھر اس میں عجب کیا کہ تو بےباک نہیں ہے
وہ آنکھ کہ ہے سرمۂ افرنگ سے روشن
پُرکار و سخن ساز ہے، نم ناک نہیں ہے
کیا صُوفی و مُلّا کو خبر میرے جُنوں کی
اُن کا سرِ دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے
کب تک رہے محکومیِ انجم میں مری خاک
یا مَیں نہیں، یا گردشِ افلاک نہیں ہے
بجلی ہوں ، نظر کوہ و بیاباں پہ ہے میری
میرے لیے شایاں خس وخاشاک نہیں ہے
عالَم ہے فقط مومنِ جاں باز کی میراث
مومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے
علامہ محمد اقبالؒ
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صُبح و شام بدلتی ہیں اُن کی تقدیریں
قلندرانہ ادائیں، سکندرانہ جلال
یہ اُمّتیں ہیں جہاں میں برہنہ شمشیریں
خودی سے مردِ خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے
Shaban-e-hijran daraz chun zulf,
Wa roz-e-waslat cho umer kotah."
Long like curls in the night of separation,
Short like life on the day of our union."
~ Amir Khusrau
اے دِلِ ناداں اے دِلِ ناداں
آرزُو کَیا ہے جُستَجُو کَیا ہے
ہَم بَھٹکتے ہیں کیوں بھٹکتے ہیں دَشت و صحرا میں
اَیسا لَگتا ہے مَوج پیاسی ہے اَپنے دَریا میں
کیسی اُلجَھن ہے کیوں یہ ا��لجَھن ہے
ایک سایہ سا رُوبَرو کَیا ہے
کَیا قِیامَت ہے کَیا مُصِیبَت ہے
کہہ نہیں سَکتے کِس کا اَرماں ہے
زِندَگی جیسے کھوئی کھوئی ہے حیراں حیراں ہے
یہ زَمین چُپ ہے آسماں چُپ ہے
پِھر یہ دَھڑکَن سی چار سُو کیا ہے
اے دِلِ ناداں اَیسی راہوں میں کِتنے کانٹے ہیں
آرزُوؤں نے ہر کِسی دِل کو دَرد بانٹے ہیں
کِتنے گھائل ہیں کِتنے بِسمِل ہیں
اِس خُدائی میں ایک تُو کَیا ہے۔۔۔!
شاعر جاں نثار اخترؔ