دمِ اولیں سے یہ کھوج تھی کہ کہاں ہوں میں
یہ پتہ چلا دمِ آخریں ____ میں کہیں نہیں _!
یہ ہوائے کن میں، فنا کی دھن، اسے تو بھی سن
مِرے ساتھ گا، میں کہیں نہیں، میں کہیں نہیں _!
عمیر نجمی
تجربات سے گزر کر اور کئی مان ٹوٹنے کے بعد پیدا ہونے والی خود اعتمادی ایک مشعلِ راہ کی صورت میں ہمیں اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں ہمیں کسی انسان کے سہارے کی ضرورت نہیں رہتی🖤