اللہ کے سامنے جتنا چاہے رو لیں، وہ بیزار نہیں ہوتا، وہ مذاق نہیں بناتا، وہ مزید نہیں رلاتا، وہ نہیں کہتا کہ "تمہاری تو عادت ہے رونے کی، چھوٹی چھوٹی باتوں پر" وہ بڑا قدردان ہے ان آنسوؤں کا، اسے احساس ہے اپنے بندے کے دکھ کا، وہ موقع دیتا ہے بندے کو اپنے سامنے کھل کر رونے کا، تاکہ دل کا سارا غبار نکل جائے، دل صاف ہو جائے اور پھر وہ اس شفاف اور حساس دل کو سکون ��ے بھر دے۔
UAE leaders extend warm congratulations to Pakistan’s President Asif Ali Zardari on the nation’s Independence Day, highlighting strong UAE-Pakistan ties.
https://t.co/6km606SQIr
سب لڑکیوں کے باپ ایسے ہونے چاہییں۔
ایک نکاح کی تقریب ہے۔ حق مہر کے 5 سے 8 لاکھ مقرر کرنے کی بات ہو رہی ہے اور ساتھ 5 تولے سونا
سسر اپنے داماد کو ساتھ والی کرسی پر بلاتا ہے۔ سرگوشی میں پوچھتا ہے، بیٹا آپ کتنا مہر آسانی سے دے سکتے ہیں۔
داماد کہتا ہے آپ لو�� جو مقرر کریں منظور ہے لیکن میں اگر زیادہ کوشش کروں تو دو لاکھ دے سکتا ہوں۔ سسر نکاح خواں کو کہتا ہے مہر ایک لاکھ ہو گا
جب سسر نے سونے کے متعلق پوچھا تو داماد نے کہا میں دو
تولے بنا چکا ہوں تین اور بنا لوں گا۔ سسر نے سب کو مخاطب کر کے کہا کہ سونا دو تولے ہو گا
سب عزیز و اقارب ناراض ہوئے کہ اتنے کم مہر اور سونے پر آپ نے کیوں بات ختم کی
سسر نے کہا
"آج اگر میں اس شخص کو جو بھی ڈیمانڈ کروں تو مجبوراً یہ پورا کرے گا۔ لیکن بعد میں یہ میری بیٹی کو جو پوری روٹی دے گا اس کو آدھی کر دے گا۔ وجہ یہ ہے کہ لوگوں سے قرضے لے کر یہ ڈیمانڈ پوری کر رہا گا
میں چاہتا ہوں کہ میری بیٹی بعد میں آرام اور خوشی سے رہے
اس شادی کے 15 سال ہو گئے۔ وہ داماد اپنی بیوی کا خیال رکھتا تھا اور سسر کی خود سے زیادہ عزت ��رتا تھا۔
یہ ایک سچی کہانی ہے،
نکاح کو آسان بنائیں اور تحریر اچھی لگے تو لائک اور شیئر ضرور کریں
جزاک اللہ ❤️