تربتِ یار پہ اک یار نے کیا مانگا ہے
پھر وہی شام حسیں باغ ہرا مانگا ہے
میکدے میں بھی بغاوت کی ہوا چلنے لگی
ساقیا ! جام کے بدلے میں خدا مانگا ہے
آج منصب پہ کوئی کمّی کمیں بیٹھنا ہے
بس اسی واسطے سورج نے دیا مانگا ہے
https://t.co/xke9TLGF1i
چہرہ چھپا کر وار کرنے والوں سے کیا ڈرنا،
ہم نے تو دشمن بھی سامنے سے پہچانے ہیں۔
تم اپنی شناخت چھپا کر جیت سمجھتے ہو،
ہم نے خاموش رہ کر بھی کئی راز جانے ہیں۔
دشمنی ہے تو سامنے آ کر نبھاؤ اسے،
پیٹھ پیچھے کے وار تو بزدلوں کے بہانے ہیں۔ 🖤🔥
https://t.co/J8sw4tRY0w
منزل سے بہت دُور ہوں، لیکن جُدا نہیں
مرکز کے گرد گھومتی، پرکار دیکھ لے
شامل نہیں ہوں دوڑ میں، پہنچا ہوا بھی ہوں
بیٹھا ہوں میں سکون سے، رفتار دیکھ لے
https://t.co/RUvBTbsbPI