Amber Godil
اللہ پر کچھ چھپا نہیں،زمین میں نہ آسمان میں
create your own sunshine.
#گفتگو_صوفیانہ قرآن پاک، واصف علی واصف
شیخ سعدی عمیرہ احمد، نمرہ احمد
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ می��ی بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لی�� بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
دیکھیں آئی ایس پی آر صاحب، میری ذرا غور سے بات سن لیں، آپ جب پیدا بھی نہیں ہوئے تھے نہ تب میں اپنے ملک کو دنیا میں represent کرتا تھا، میں نے اپنے ملک کا دنیا کے اندر سر اوپر کیا، عزت دلوائی اپنے ملک کو۔ عمران احمد خان نیازی
🎨 A 2-month online course designed especially for women and girls:
Only 2 classes per week Easy-to-follow video uploads
Homework support and group feedback
Learn comfortably from home, at your pace — no pressure!
join our WhatsApp group
https://t.co/xA1vRK8lEi
✨ خواتین کے لیے خصوصی کورس! ✨
اگر آپ خطاطی اور فنونِ لطیفہ سے محبت رکھتی ہیں — اور ہمیشہ سے فری اسٹائل یا ماڈرن کیلیگرافی سیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں — تو “اسرار الحروف” آپ کے لیے ہے۔
آپ گھر بیٹھے سیکھ سکتی ہیں — آسان، قابلِ رسائی اور رہنمائی کے ساتھ
👇
https://t.co/gSj6UuFZiC
✨ Exclusive Calligraphy Course for Women! ✨
If you love the beauty of letters and the art of freestyle calligraphy — and have always wanted to learn modern calligraphy in a simple, approachable way — Asraar al-Huroof is just for
For more details:
https://t.co/xA1vRK8TtQ
پاک ائیر فورس کے شہزادے کامران مسیح کا گھر واپسی پر شاندار استقبال کیا جا رہا ھے ۔۔
گھر میں گُھس کے مارنا کوئی ان سے سیکھے ۔۔
اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہماری حفاظت کرنے والے شیر جوانوں کو سلام ۔
A moment of deep humiliation for us.
Three PAF pilots wrote farewell letters before what was expected to be a suicide mission striking three of our major airbases.
Against all odds, they hit their targets and returned safely.
We, with all our radar, might, and preparation, couldn’t stop them.
They came. They struck. They left. And we watched.
#IndiaPakistanWar