حضرت امام حسین علیہ السلام نےایک ظالم کی فوج جو تعداد میں ان سےکہیں بڑھ کرتھی، کا سامنا کرتے ہوئے باطل(جھوٹ)کیخلاف حق و سچ پر ڈٹ جانے کی پاداش میں کربلا میں اپنے اہلِ بیت اور ساتھیوں سمیت جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
ہمارےمکمل طور پر نہتے،جانثار اور پرجوش کارکن علی بلال کو پنجاب پولیس نےشہیدکردیا۔انتخابی ریلی میں شرکت کیلئےآنے والےنہتےکارکنان کیساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہایت شرمناک ہے۔پاکستان اس وقت خون کے پیاسےمجرموں کےچنگل میں ہے۔ہم IG، CCPO اور دیگر کیخلاف قتل کے مقدمات درج کروائیں گے۔
پاکستان کے قرضوں کا بوجھ 15 برس کی کم ترین سطح پر، مجھ سے پوچھیں تو سیاسی عدم استحکام، سیلاب، انڈیا سے جنگ اور مشرق وسطیی کے بحران میں ۔۔۔ اقتصادی تباہی کو شکست دینا بھارت کو شکست دینے جیسا ہے۔ ایک بڑی کامیابی ہے۔ اعداد و شمار پر آپ کی توجہ تعصب سے بالاتر ہو کے درکار ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں صرف 5 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ کم از کم 15 برس کی کم ترین شرح ہے۔ اس کے برعکس مالی سال 2023 میں قرضوں میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق یہ سست روی حکومت کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کے تحت قرض لینے کے طریقہ کار اور لاگت میں بنیادی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
برسوں تک پاکستان کے عوامی مالیات ایک ایسے مشکل چکر میں پھنسی رہیں جہاں ملک اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لیتا، بھاری سود ادا کرتا اور پھر دوبارہ قرض لینے پر مجبور ہو جاتا تھا۔ تاہم اب متعدد اہم اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ سلسلہ ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔
اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے پر بھی بحث جاری ہے کہ پاکستان کے قرضے 97 سے 100 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ حکومتی حکام اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں وفاقی حکومت کے قرضوں کو نجی شعبے کی واجبات سمیت ایک وسیع مالیاتی زمرے کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور قرضے کم ہیں یا زیادہ اس کا فیصلہ ان کا حجم نہیں بلکہ جی ڈی پی سے شرح کرتی ہے جیسے میری جیب میں ایک کروڑ موجود ہیں تو میرے لئے نئی ٹویوٹا یارس مہنگی نہیں ( بلکہ سستی ہے) لیکن اگر دس بیس لاکھ ہیں تو بہت مہنگی ہے۔
یعنی وفاقی حکومت کے قرضوں کا حجم اس وقت تقریباً 81.9 کھرب روپے ہے، جبکہ قرضوں کی پائیداری کا اندازہ صرف مجموعی رقم سے نہیں بلکہ معیشت کے حجم کے مقابلے میں قرضوں کے تناسب سے لگایا جاتا ہے۔اس پیمانے ��ر پاکستان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ قرض بہ نسبت مجموعی قومی پیداوار (Debt-to-GDP Ratio) مالی سال 2020 میں تقریباً 76 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2026 میں تقریباً 68 فیصد رہ گیا ہے۔ اسی طرح بیرونی قرضے، جو غیر ملکی کرنسیوں میں ہوتے ہیں اور زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جی ڈی پی کے 28 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 21 فیصد پر آ گئے ہیں۔
حکومت نے اندرونی قرضوں کی مدت بھی بڑھائی ہے۔ اوسط میعاد 2.8 برس سے بڑھ کر 3.8 برس ہو گئی ہے، جس سے ادائیگیوں کا دباؤ طویل مدت میں تقسیم ہو گیا ہے اور ریفنانسنگ رسک یعنی مختصر مدت کے قرضوں کی دوبارہ فنانسنگ کے خطرات میں کمی آئی ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں 2.5 فیصد شرح پر ایک غیر ملکی بانڈ بھی جاری کیا، جسے حکام نے ملکی تاریخ کی کم ترین شرح قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں محتاط مگر واضح بحالی کا اشارہ ہے۔
علاوہ ازیں حکومت نے 4.7 کھرب روپے کے مہنگے قر��ے قبل از وقت ادا کیے، جن میں 2.47 کھرب روپے اسٹیٹ بینک کے واجبات اور 2.3 کھرب روپے مارکیٹ سے قبل از وقت واپس خریدے گئے قرضے شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس پیمانے پر قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی کی مثال نہیں ملتی۔
عام شہریوں کے لیے سب سے اہم تبدیلی وفاقی بجٹ میں سودی ادائیگیوں کے بوجھ میں کمی ہے۔
مالی سال 2023 میں وفاقی حکومت کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 64 فیصد صرف قرضوں کے سود کی ا��ائیگی پر خرچ ہو جاتا تھا، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر عوامی خدمات کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر بچتے تھے۔ اب یہ تناسب کم ہو کر تقریباً 40 فیصد رہ گیا ہے، جس سے حکومت کو ترقیاتی اخراجات کے لیے زیادہ مالی گنجائش حاصل ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سود کی مد میں اخراجات 8.89 کھرب روپے سے کم ہو کر رواں مالی سال میں تقریباً 6.94 کھرب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، یعنی ایک سال میں تقریباً 2 کھرب روپے یا 22 فیصد کمی۔ پاکستان کی بیرونی مالی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
ایک وقت تھا جب زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی تھے، جس سے معیشت بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہو گئی تھی۔ اب یہ ذخائر تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو چکے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ان ذخائر میں اضافے کا بڑا حصہ غیر قرضہ ذرائع سے حاصل ہوا ہے، جس سے ذخائر کا معیار بہتر ہوا ہے۔
اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ، جو پہلے مسلسل خسارے میں رہتا تھا، اب سرپلس میں آ چکا ہے۔ مالی سال 2022 میں پاکستان کو 17.4 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا تھا، جو ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا خسارہ تھا۔ اب مسلسل دو برس سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں ہے، جس سے بیرونی قرضوں پر انحصار میں نمایاں کمی آئی ہے۔
جاری 👇
تحریک انصاف اور بیرسٹر گوہر خان!
تحریکِ انصاف گزشتہ تین برسوں سے بیرسٹر گوہر خان کی سربراہی میں ایک بڑی قومی سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے۔ بلکہ یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
تاہم ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان تین برسوں میں بطور چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی کارکردگی کا کبھی پارٹی کے کسی فورم پر جائزہ لیا گیا؟ کیا یہ جانچا گیا کہ انہوں نے تنظیم سازی، ادارہ جاتی اصلاحات، داخلی احتساب، پارٹی انتخابات، کارکنوں کی تربیت، پالیسی سازی اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے؟
کسی بھی فعال سیاسی جماعت کی کامیابی صرف عوامی مقبولیت سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس کی تنظیمی صلاحیت، داخلی جمہوریت، احتساب، پالیسی سازی اور گورننس کی استعداد بھی اس کے بنیادی اشاریے ہوتے ہیں۔ ان معیارات پر تحریکِ انصاف کی کارکردگی اطمینان بخش دکھائی نہیں دیتی۔ پارٹی کی غیر معمولی عوامی مقبولیت کو ایک مضبوط، منظم اور ادارہ جاتی سیاسی قوت میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔
یہ دلیل کہ حالات سازگار نہیں تھے، اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، لیکن اگر کوئی جماعت ملک کی نصف سے زیادہ آبادی کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہو تو اسے منظم ہونے سے مکمل طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ مضبوط سیاسی جماعتیں مشکل ترین حالات میں بھی اپنی تنظیم، پالیسی، کارکنوں کی تربیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بناتی رہتی ہیں۔ یہ�� وہ پہلو ہے جہاں تحریکِ انصاف نمایاں کمزوری کا شکار نظر آتی ہے۔
اس کا ایک عملی اظہار خیبر پختونخوا میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں تحریکِ انصاف طویل عرصے سے حکومت میں ہے۔ اگر ایک جماعت سازگار ماحول میں بھی گورننس کے میدان میں نمایاں اصلاحات نہ لا سکے، تو اس کی تنظیمی صلاحیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ آج بھی وہی نوآبادیاتی قوانین، وہی روایتی بیوروکریسی، وہی فرسودہ انتظامی ڈھانچہ، وہی عدالتی پیچیدگیاں اور وہی عوام سے دور حکمرانی کا نظام بڑی حد تک برقرار ہے۔ مقامی حکومتوں سے لے کر صوبائی سطح تک ایسے نمایاں ادارہ جاتی اقدامات کم نظر آتے ہیں جنہیں ایک ماڈل اصلاحات کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
اسی لیے تحریک انصاف کے لیے ضروری ہے کہ بیرسٹر گوہر خان کی کارکردگی کا جائزہ لے اور پھر اس بابت حتمی فیصلہ کرے۔
ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک کی تنقید کسی سیاسی جماعت یا قیادت کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان میں جمہوریت، مضبوط سیاسی جماعتوں اور بہتر حکمرانی کے فروغ کے لیے ہے۔ تحریکِ انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو مثبت اور تعمیری تنقید کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ ��ضبوط جمہوریت صرف مضبوط اور منظم سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی پروان چڑھ سکتی ہے۔ جب تک تحریکِ انصاف ایک حقیقی ادارہ جاتی اور منظم سیاسی جماعت نہیں بنتی، اس کے لیے اپنے سیاسی اہداف کا مستقل حصول اور مؤثر حکمرانی دونوں مشکل رہیں گے۔
گورننس پر بہترین کام ریپبلک پالیسی کی گورننس بکس میں دستیاب ہے، جو وینگارڈ بکس، ریڈنگز، سنگِ میل، کتاب سرائے، سعید بک بینک اسلام آباد اور ملک کے نامور کتب خانوں پر دستیاب ہیں۔
#Pakistan #PTI #Democracy #PoliticalParties #Governance #InstitutionalReforms #PublicPolicy #RepublicPolicy #RuleOfLaw #PakistanPolitics
آپ جیسے لوگ اگر اس دور میں ہوتے تو یزید کے لشکر میں ہوتے اور اس کی خوشامد میں ذمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے
فرشی سلام کررہے ہوتے
آپکاٹوئیٹ ��رف باتوں کی جگالی ہے
جیسے نواز ، شہباز اور مریم کے کھوکھلے اور مشکل الفاظ ہوتے ہیں
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح
#ہر_زمانہ_میرے_حسین_کا
پتھر کوگہردیوار کو درکرگس کوہما کیالکھنا
ہوتے ہیں توہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گےدرباری
ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثناکیا لکھنا
ورثے میں ہمیں یہ غم ہےملا اس غم کو نیاکیا لکھنا
ظلمت کوضیاصرصر کوصبا بندے کو خدا کیا لکھنا
#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام
@muzamil_45@BUTT_566 کرتی نہیں کرواتی ہے
فوج نے ECP کو حکم دیا کہ مہر شرافت علی کے تین ہزار ووٹ چوری کرکے مریم ک�� جتواو
کمشنر پ��ڈی لیاقت چٹھہ اور
گورنر سندھ ٹیسوری کا اعتراف جرم موجود ہے
اور کیا ثبوت چاہیے
حرمت شریفاں کے لسانی متعصب رکھوالوں کو
انہیں گیارہ ارب کے جہاز کی عیاشی بھی نظر نہیں آتی
مزاحمت اوراختلاف ضمیر کی زندہ ہونے کی علامت ہے
جو فقط بااصول اور دلیر لوگوں کاشیوہ ہے
جبکہ مفاد پرستی،بزدلی اورلالچ انسان کو چاپلوسی کی اندھی گلی کامسافر بنا دیتے ہیں
جہاں زندگی تو گزرجاتی ہےمگرغیرت مر جاتی ہے
@PTIofficial#ڈٹ_جاو_حسین_کے_انکار_کیطرح#حسینی_خان_بمقابلہ_یزیدی_نظام