اب جو عدلیہ تحریک چلانے کا چورن عوام میں بیچنے کا پر��گرام ترتیب دے رہے ہیں وہ خود اسی عدلیہ اور انہیں ججز کے متعلق کیا فرماتے تھے مکمل دھیان کے ساتھ سماعت فرمائیں
اگر 63A کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی ہیڈ کو ووٹ کس کو دینا ہے اسکا فیصلے کا اختیار نہیں،تو پارٹی ہیڈ (عمران خان ) کو اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کرنے کا اختیار کیسے مل گیا؟؟ ذرا سوچیے
https://t.co/qMmPsSuyve
چیف جسٹس ہمیں نصیحت کر رہے کہ اس معاملہ کو مل بیٹھ کر حل کرناچاہئیےاورخود چیف صاحب نےمعزز عدالت کو تقسیم کردیا ہے،ہم کس کےساتھ بات کریں،ایک مجرم کے ساتھ جس کودھاندلی کے ذریعے لایا گیاتھا؟ہم نے پندرہ ملین مارچ کئے،آزادی مارچ کئے،اس وقت آپکواحساس نہیں ہوااز خود نوٹس کیوں نہیں لیا ؟
از خود نوٹس کیس چاراور تین سے مسترد ہوچکا،اس پر اب دوبارہ سماعت کی کوئی حیثیت نہیں،اس بینچ اور چیف جسٹس پر عدم اعتماد کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کوغیرجانبداررہنے دیاجائے،ہم عمران کےساتھ الیکشن کی تاریخ سے متعلق کسی قسم کےمذاکرات کاحصہ نہیں بنیں گے،ناہی کسی مجرم کےساتھ مذاکرات کریں گے۔
خیبرپختونخواہ اسمبلی
وزیراعظم شہبازشریف کے سستا آٹا سکیم کے اعلان کا مذاق اڑانے پر اختیارولی خان اور وزیراعلی محمود خان کے درمیان سخت لڑائ۔
آج شہبازشریف نے چند ماہ میں نہ صرف سستا بلکہ مفت آٹے کا وعدہ پورا کردیا۔
مجھے فخر ہے کہ میں حق پر لڑ رہا تھا محمود خان آپ غلط تھے
جو آرٹی ایس سسٹم بٹھا کر پورے ملک کے آئین قانون اصول ضابطے کو ریپ کر کے اقتدار میں آیا ہو اُسے عدم اعتماد سے نکالا جانا سازش نظر آتی ہے کپتان سب کو اپنی طرح ذہنی طور پر ماؤف سمجھتا ہے
آج فواد چوہدری کا دعوی ہے کہ ہمارا جسٹس فائز عیسی سے احترام کا تعلق ہے۔ ہمیں اُنکے خلاف ریفرنس فائل نہیں کرناچاہیے تھا۔ مگر دیکھیےحکومت میں فواد چوہدری جسٹس قاضی فائز عیسی کے بارے میں کیا کہتے تھے۔
اقرار الحسن صاحب کے ڈبل اسٹینڈرز جرنلزم
آٹے کی لائنوں میں لگے لوگوں کی موت کو وزیراعظم شہباز شریف کو مورد الزام قرار دیتے ہوئے دریائے فُرات کے کنارے کتے کی مثال دینے والے اقرار صاحب ساہیوال ایک فیملی کے روڈ پر دن دیہاڑے سفاکانہ قتل سے اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان صاحب کو بری الزمہ قرار دیا کرتے تھے۔
ہماری نظر میں سپریم کورٹ اور موجودہ بینچ اس کیس میں واضح طور پر فریق کا کردار ادا کر رہاہے۔دو صوبوں میں انتخابات سے متعلق فریق کےموجودہ کردار کے بعد عدالت پر کوئی اعتماد نہیں رہا،چیف جسٹس صاحب ہو یا انکے ساتھ شریک دومع��ز جج صاحبان کی جانبدارانہ روش نےسپریم کورٹ کو تقسیم کردیا ہے۔
مریم نواز شریف صاحبہ پارٹی کا اثاثہ اور مسقبل ہیں مریم بی بی کی جدوجہد نے ان کو پاپولر لیڈر بنادیا ہے پاکستانی قوم ان کی بہادری اور صلاحیتوں کو تسلیم کرتی ہے مریم بی بی جلد پاکستان کی وزیراعظم بنیں گی انشاءاللہ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے تین رکنی بنچ کے فیصلے کو چیف جسٹس یا رجسٹرار کا سرکلر undo نہیں کر سکتاہے
آئینی ماہرین PLD1998 SC 161 میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کا فیصلہ پڑھ لے
اگر چیف جسٹس کے تین رکنی بنچ نے کوئی فیصلہ کیا تو وہ غیر آئینی و قانونی ہو گا