جھنگ سے تعلق رکھنے والی طالبہ ایشال فاطمہ کا افسوسناک کیس پورے شہر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ لاپتہ ہونے کے بعد ایشال فاطمہ کو تشویشناک حالت میں ایک سرخ رنگ کی کار میں سوار تین نوجوان مقامی ہسپتال چھوڑ کر چلے گئے، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور انتقال کر گئیں۔
#JusticeforEshal
لاہور سے دبئی تک لڑکیوں کی سپ لائ کا مکروہ دھندا
یہ کوئی فلمی کہانی نہیں۔ یہ ان لڑکیوں کی کہانی ہے جو روزانہ ہمارے گردوپیش سے غائب ہوتی ہیں اور ہم جانتے بھی نہیں۔
سابق سی آئی آفیسر ظہیرالدین بابر اعوان نے جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔
وہ ماں جس نے اپنی بیٹی بیچی
پانچ بچوں کی پرورش کے لیے چھٹی بچی کو ایک برادل ہاؤس کے حوالے کر دیا۔ ایڈوانس پیسے لیے اور بیٹی سے کہا کہ یہ تیری ذمہ داری ہے۔ اس بیٹی کی اجرت سے اس کے نام نہاد شوہر کو موٹرسائیکل ملی سونے کی زنجیر ملی اور ماں نے باقی بچوں کا گھر چلایا۔ چند ہزار روپے ماہانہ میں ایک زندگی خرید لی گئی۔
ظہیر بابر اعوان جب ایک برادل ہاؤس پر چھاپہ مارنے گئے تو ایک بائیس سالہ لڑکی نے انہیں پکڑ کر کہا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے جاؤ۔ اس کا بخار 104 ڈگری تھا۔ وہ اسی حال میں وہاں کام پر لگی ہوئی تھی۔ اعوان صاحب نے اپنے ضمیر کی بات مانی اور اسے سرکاری ہسپتال بھجوایا۔ قانوناً یہ غلط تھا لیکن انسانیت کے اعتبار سے یہ واحد درست کام تھا۔
لاہور سے دبئی تک ۔ ایک سپلائی چین
پہلے ہیرا منڈی تھی پھر گھروں میں شفٹ ہوئی پھر گیسٹ ہاؤسز بنے اور پھر آیا دبئی کا لالچ۔
لڑکی کو کہا جاتا تھا کہ دبئی میں بیوٹی پارلر کا کام ہے یا کسی دکان میں ملازمت ہے۔ وہاں پہنچتے ہی پاسپورٹ اور ویزہ کلب اونر کے پاس چلا جاتا۔ اب نہ واپسی ممکن تھی نہ مزاحمت۔
یہاں سے گئی بیوٹی پارلر کی لڑکی وہاں پہنچ کر اسٹیج پر ناچ رہی تھی۔
پروموٹر یہاں پاکستان میں بیٹھے ہوتے تھے۔ کلب اونر وہاں دبئی میں۔ لڑکی کو سات لاکھ میں خریدا جاتا اور اس کی کمائی کا صرف چوتھا حصہ اسے ملتا باقی سب اوپر چلا جاتا۔
اور جب دبئی کا معاملہ سخت ہوا تو یہ سلسلہ تھائی لینڈ منتقل ہو گیا۔
لاہور کی 200 پارٹیاں وہ بھی روزانہ
پانچ سال پہلے تک لاہور میں روزانہ دو سو سے زیادہ ایسی پارٹیاں ہوتی تھیں جن میں ناچ گانا نشہ اور خواتین سب کچھ موجود ہوتا تھا۔ کچھ میں سات آٹھ لوگ کچھ میں سو سو افراد۔ دبئی کا سارا کاروبار لاہور منتقل ہونے لگا تھا۔ پھر پولیس نے کریک ڈاؤن کیا اور وہ طوفان روک لیا گیا۔
نشہ ۔ آخری زنجیر
جب لڑکی پھنس جاتی تو اسے پہلے شراب کی عادت ڈالی جاتی پھر چرس پھر مہنگا نشہ جسے آج آئس کہتے ہیں۔ جب یہ نشے کی عادی ہو جاتی تو نہ نکلنا ممکن رہتا نہ انکار۔ پھر یہی لڑکی سمگلروں کے ہاتھ میں چلی جاتی اور پھر واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔
اعوان صاحب کہتے ہیں کہ لیڈی ولنگٹن ہسپتال جاؤ۔ وہاں سینکڑوں خواتین ایسی ملیں گی جن کے جسم ان کی بے بسی کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان کی بیماریاں قابل علاج تھیں لیکن علاج کرانے گئیں تو راز کھل جاتا ہے ۔
یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ بس شہر بدلے ہیں نام بدلے ہیں لیکن سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
جھنگ ایشال فاطمہ کیس
خصوصی رپورٹ کے مطابق
17/18 سالہ ایشال فاطمہ سلطان کالونی سے اغوا کے بعد قتل ہوئی۔
خلیل الرحمان نامی لڑکا فرسٹ ائیر کی طالبہ کو لے گیا۔
لڑکی کو خلیل حسیب خان نامی شخص کی قریبی عزیزہ کے گھر لے جایا گیا۔
گھر میں امیش جوگی اور حسن کوڑیانہ کو بھی بلایا گیا۔
سب نے مل کر لڑکی کو ڈانسنگ گولیاں اور نشہ آور ادویات دیں۔
بچی کی حالت غیر ہوئی، 2 دن تک ٹیکے لگاتے رہے مگر حالت نہ سنبھلی۔
حالت بگڑنے پر حسن اور امیش لڑکی کو مقامی ہسپتال چھوڑ گئے۔
خلیل گاڑی میں باہر بیٹھا رہا، تھوڑی دیر بعد لڑکی انتقال کر گئی۔
والد کی FIR کے بعد CCD اور پولیس متحرک ہوئی۔
سب انسپکٹر ملک علی رضا CCD نے امیش جوگی کو فوری گرفتار کیا۔
انچارج اسد دھولکہ، انسپکٹر حافظ عثمان ہراج ریڈ کر رہے ہیں۔
SHO سیٹلائٹ ٹاؤن ذیشان حیدر سیال نے گاڑی برآمد کی۔
باقی ملزمان حسیب، حسن، خلیل الرحمان کی تلاش جاری ہے۔
CCD کیس میں محنت سے کام کر رہی ہے، ایک ملزم گرفتار، باقیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
فوجی فاؤنڈیشن کے 6 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں اس کے علاوہ 9 اور کمپنیاں ہیں جن کے اثاثے ایک ارب ڈالر سے زائد کے ہیں یہ کمپنیاں کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہیں؟
اے میرے مالک 15, 20 گاڑیوں کے پروٹوکول کیساتھ اور 10کروڑ کی لینڈ کروزر میں بیٹھ کر گورنر پنجاب کی طرح پیاز (وسل ) کے ساتھ روٹی کھانے کی سادگی ہر پاکستانی کو نصیب فرما۔
"کراچی کے علاقے ڈیفنس (خیابانِ مسلم) میں غیر اخلاقی سرگرمیاں اور جسم فروشی کا دھندا ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہا ہے، جو ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت شہر میں کوئی ایسی قیادت یا قوت نظر نہیں آتی جو ہماری نسلِ نو کے مستقبل کو بچانے کی فکر کرے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر متعلقہ محکمے بھی اس سنگین معاملے کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں.
چار کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کر ٹشو پیپر سے روٹی پکڑ کر کھانے والا گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر پاکستانی عوام کو بتا رہا ھے کہ "پیاز سے روٹی کھاتے" اس کا دل عوام کیلئے رو رہا ھے۔
"لکھ دی لعنت ھے اس غلیظ سسٹم پہ"
کراچی
22 لڑکیوں سے زیادتی کے ملزم کا تھانے میں پروٹوکول خاتون سب انسپکٹر کا ویڈیو بیان مجھے تفتیش مکمل نہیں کرنے دی جا رہی مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے خاتون سب انسپکڑ کا الزام آئی جی سندھ اس معملے کی انکوائری کریں
اس درندے نے بائیس بچیوں کا ریپ کیا ہوا ہے
اور ڈی ایس پی اس کو ریمانڈ میں ہونے کے باوجود اس محترمہ کو اس سے تفتیش نہیں کرنے دے رہے
الٹا اس کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں
ایک غیر ملکی جو سمندر کے رستے پاکستان آیا 22 لڑکیوں کا ریپ کر چکا ہے عدالت نے ریمانڈ دیا ہے لیکن تھانہ نیپیئر کے اہلکار اور ڈی ایس پی لیڈی سب انسپکٹر کو لڑکے سے تفتیش نہیں کرنے دے رہے ڈی ایس ہی صاحب تھانہ اہلکاروں سے کہتے ہیں تم اس خاتون سے ڈرتے کیوں ہو اس کا ریپ کرو کچھ نہیں ہو گا ، لیڈی سب انسپکٹر ۔۔
A young maid in Lahore was raped by the owner's son and driver for 5 months straight. When she got pregnant, they took her for an abortion, she never came back.
Justice must be served 💔
عمران خان کو آخر کدھر کدھر سے مائنس کرو گے؟عمران خان اب صرف ایک شخص یا سیاسی جماعت کا نام نہیں رہا، وہ ایک نظریہ، عوام کی ضد اور ایک ایسی کیفیت بن چُکا ہے جس کیفیت میں لوگ کئی بار موت کو بھی سینے سے لگا چُکے ہیں۔آپ ایک انسان کو قید کر سکتے ہیں، اُس کی آواز دبانے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن اُس سوچ کو کیسے قید کریں گے جو کروڑوں دلوں میں زندہ ہو چکی ہو؟تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو طاقت سے نہیں ہرایا جا سکتا۔ مہرقصوری✍🏻
سبی کاظمی نے خود کو 50 ڈگری ٹمپریچر گرمی میں ایک کمرے میں بند کر کے پاکستانیوں کو بتایا کہ ایسے عمران خان اڈیالہ جیل میں آپ کی آزادی کیلئے بیٹھا ہوا ۔۔۔۔۔۔
This is how the leaders of professional armies operate and are remembered.
Field Marshal Sam Manekshaw is still remembered today, perhaps others sitting across the borders can still learn a few things from him.