نوجوان نسل اب تھک چکی ہے اور چونکہ انہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ طاقتور حلقوں کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، اس لیے وہ ملک چھوڑ رہی ہے۔ یہ سوچنا بھی حد سے زیادہ رومانویت ہو گی کہ وہ کرپشن کے خلاف کوئی بڑی تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جانا بہتر سمجھتے ہیں اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے، کیونکہ ان کے وہ دوست جو بولے تھے، خاموش کرا دیے گئے۔ زورین نظامانی کا آرٹیکل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#ReleaseSohrabBarkat