پارٹی کا سوشل میڈیا کون ہیڈ کرتا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ رہی ہے یا نہیں۔ جب تک مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی مسائل کم نہیں ہوتے، سوشل میڈیا کی بہترین مہم بھی عوامی حمایت میں خاطر خواہ فرق نہیں ڈال سکتی۔
ہمارے بچے یہاں سرکاری سکول پڑھے ہیں سرکاری سلول اگر اچھی کوالٹی کے تو سٹرگل کرتے بہت سے سفید پوش فیملیوں کے لئے یہ بہت آسانیاں لا سکتے صحت اور تعلیم دو ایسے شعبے جس پر لوگوں کی آمدن کا بڑا حصہ لگ جاتا ہے
بہتر سرکاری سکول بہت سے سفید پوشوں کے بچوں کا بہتر مستقبل ہے
یہ وہ شرمناک بل ہے جو پنجاب حکومت نے میرٹ کا قتل کرنے کے لیے میڈیکل یونیورسٹیوں کے باوا آدم کے زمانے کے بڈھے وائس چانسلروں کی عمر کی حد 75سال کرنے کے لئے اسمبلی میں لایا ہے
چھ میڈیکل یونیورسٹیاں ہیں کیا تیرہ کروڑ آبادی کے پنجاب میں چھ قابل وائس چانسلر حکومت نہی ڈھونڈ سکتی کہ 75 سال والے بابے دوبارہ تعینات کرنے ہیں ؟
@arshdchaudhary چودھری صاحب کنفرم کریں کہ حنیف عباسی صاحب کی میاں منشا سے انکی قومی اسمبلی میں تقریر کے بعد کوئی اب ملاقات ھوئی ھے یا کہ اپ کی خبر والی مارچ میں ملاقات کی تصاویر میڈیا میں چل رہی ہیں؟
https://t.co/YDqluy5ZFW
پنجاب میں تعلیم کا ہر لحاظ سے بیڑہ غرق ہو رہا ہے میڈیکل کی تعلیم پر بھی عذاب اترا ہوا ہے عرصہ دراز سے سیٹوں سے چمٹے وائس چانسلرز اب مزید ایکسٹینن چاہتے اب عمر کی حد 75 سال کر رہے تاکہ ان کو تیسری ایکس ٹینشن دی جا سکے اب میڈیکل کے استاد اس پر احتجاج مر رہے ہیں
دعویٰ ہے ہم نے یونیورسٹی میں وائس چانسلر لگا دیے لگائے کیسے اس کی تفصیل یہاں پڑھ لیجئے 👇👇👇
وزیر تعلیم کا کیمرے کے سامنے اساتذہ کی تنخواہ پندرہ / بیس ہزار ہونے کا اعتراف۔۔پنجاب اور باقی صوبوں میں کم ازکم تنخواہ مزدور کی چالیس ہزار مقرر ہے۔۔اور مستقبل کے معماروں کی تربیت کرنے والے پندرہ/بیس ہزار پر یہ مقدس فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔۔ @MaryamNSharif یہ مئسلہ آپکی توجہ کا منتظر ہے۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمیشنر کا کہنا ہے کہ اب تک انیس حلقوں کے نتائج فائنل ہوئے ہیں جب کہ باقی پانچ حلقوں کے مختلف پولنگ سٹیشنز پر کچھ بے ضابطگیاں ہیں جن کے پیش نظر پندرہ جون کو وہاں پردوبارہ پولنگ ہو گی۔ تا ہم حتمی نتائج والے انیس حلقوں کی پارٹی پوزیشن نہیں بتائی گئی۔
پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کے ہارنے کی اور پیپلزپارٹی نے جیتنے کی مبارکباد بھی وصول کر لی ہے۔ اور مٹھیائیاں کھا کر بھنگڑے بھی ڈال لئے ہیں۔
مٹھائی کی الٹیاں نہ کرنی پڑ جائیں۔
😂😂😂
“1947سے 1974 تک یعنی 27 سال تک مہاجرین کی 12 نشستیں موجود نہیں تھیں“
یہ دعویٰ تاریخی حقائق کے برعکس ہے مگر افسوس تاریخ سے نابلد کئی دانشوروں نے اسے ری ٹویٹ کیاجن میں مشاہد حسین سید اور حامد میر بھی شامل ہیں۔آزاد کشمیر میں پہلی بار الیکشن ایوب خان کے دور میں ہوا جب بنیادی جمہوریت کا نظام متعارف کروایا گیا۔بی ڈی سسٹم کے تحت “آزاد جموں کشمیر اسٹیٹ کونسل“تشکیل دی گئی جو 24 ارکان پر مشتمل تھی،12 نشستیں آزادکشمیر کے مکینوں کی اور اتنی ہی مہاجرین کی یعنی یکساں نمائندگی تھی۔ اس نظام کے تحت اکتوبر 1962میں پہلا صدارتی الیکشن ہوا جو خورشید حسن خورشید نے جیتا،اس وقت 6 صدارتی امیدواروں میں سے 4 مہاجر تھے۔بعد ازاں 1974 میں صدارتی نظام کو پارلیمانی نظام میں تبدیل کیا گیا تو مہاجرین کے لئے نشستوں کا تناسب کم ہوا مگر جو کابینہ تشکیل پائی اس میں دو مہاجر وزرا شامل تھے۔جن کشمیری مہاجرین نے ہجرت کی ،اگر آپ ان کا حق تسلیم نہیں کرتے تو یہ مسئلہ کشمیر کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر راولپنڈی ،سیالکوٹ یا لاہور میں قیام پذیر مہاجرین کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں تو برطانیہ میں میرپور (آزاد کشمیر) سے تعلق رکھنے والے تقریباً دس لاکھ کشمیریوں سے بھی لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔
@HamidMirPAK جیسے اب ٹھیکیداروں کی مدد کے لئے کسانوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رھے ہیں اسی طرح اسی کی دہائی میں شوگر ملوں کو کامیاب بنانے کے لئے دفہ 144 لگا کر گڑ بنانے پر پابندی لگائی جاتی تھی اور بیلنا لگانے والوں کو گرفتار کیا جاتا تھا
موجودہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی قوت خرید سے محروم ہو چکی ہے کسانوں کا برا حال ہے پنجاب حکومت کسانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر اُن سے گندم چھین رہی ہے کم از کم کسانوں پر ظلم تو بند کر دے
میرے دوست کا ایک فیکٹری ورکر دو دن سے میو ہسپتال لاہور جارہا ہے۔ اس کی بیوی کو گردے میں پتھری ہے۔ بتاتا ہے کہ پرچی بنوائی تو لمبی لائن۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو لمبی لائن۔
ٹیسٹ لکھ کر دیے تو لمبی لائن۔ دوائی لینی ہو تو لمبی لائن۔ یعنی مریض دکھانے کےلیے بندہ ٹوٹل فارغ ہونا چاہیے
بجلی کی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں سمیت بجلی کے نظام کی نجکاری پر سب متفق ہیں۔
وہی آئی پی پیز والا پرانا طریقہ کار ، غیر ملکیوں کو شامل کر کے ملک اور قوم کے ہاتھ پاؤں باندھنے کا بندوبست۔
جون کا مہینہ ھے اگر اسی طرح قوم سوئی رہی تو پھر مستقبل قریب میں جو عذاب نازل ھو گا لوگ آئی پی پیز کے عذاب کو بھول جائیں گے
@CSMR786 پنجاب حکومت کو کوئی سمجھائے ، پنجاب بھر کے دس لاکھ سے زائد ملازمین کے مسائل بھی نہایت سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ھیں ، پنشن، گریجویٹی ، تنخواہوں میں عدم مساوات ، جبکہ دیگر صوبوں میں پینشنری رولز تبدیل نہیں کئے گئے پنجاب نے دس لاکھ سے زائد خاندانوں کو رگڑا لگا دیا