اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾
۔ ( فرشتوں سے کہا جائے گا کہ : ) گھیر لاؤ ان سب کو جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور ان کے ساتھیوں کو بھی ، اور ان کو بھی
*سورة الصافات*
Ayat22
ہمارے ماں باپ نے ہمیں بس نفرت کرنا سکھایا ہے. وہ بھی اس لیے کیونکہ ان کو ان کے اباؤاجداد نے وارثت میں اپنی جہالت پر اور نفرت دی ہے....
آج سارا دن سنی شیعہ ہی سنا ہے میں نے جب کہ میرے علم کے مطابق
"سنی" کا مطلب سنت کی پیروی کرنے والا ہے، جبکہ "شیعہ" کا لفظ عربی میں گروہ یا پیروکار کے معنی دیتا ہے۔ لیکن ہماری اصل پہچان، جسے قرآن نے بار بار اجاگر کیا، "مسلمان" ہونا ہے۔
ہمیں فرقوں پر طنز اور گالم گلوچ اپنے فرقہ پرست عالموں سے سیکھا ہے...
االلہ فرماتے ہیں کہ قرآن آسان ہے، اور انسان کہتا ہے کہ فرقہ پرست عالم کہتا ہے تم اسے خود نہیں سمجھ سکتے... تو پھر سچا کون ہے. اللہ تعالیٰ یا فرقہ پرست عالم.
اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کہ فرقے مت بناؤ، گروہ مت بناؤ اور دین میں مختلف راہیں مت نکالو۔
﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾
"بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہ بنا لیے، آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔"
(سورۃ الانعام، آیت 159)
اور عالم کہتا ہے کہ اپنے فرقے پر ڈٹ جاؤ...
تو سچا کون ہے؟ اللہ، یا آپ کا عالم؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾
"کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُس کے حضور سفارش کر سکے؟"
(سورۃ البقرۃ، آیت 255)
اور ایک جگہ فرمایا:
﴿قُل لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا﴾
"کہہ دیجیے! تمام سفارش کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔"
(سورۃ الزمر، آیت 44)
پھر اگر کوئی یہ کہے کہ میری سفارش فلاں پیر، فلاں ولی یا فلاں بزرگ ضرور کریں گے،
سفارش کا اصل اختیار اللہ کے پاس ہے، یا ہمارے اپنے بنائے ہوئے تصورات کے پاس؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
(سورۃ البقرۃ، آیت 153)
اور فرمایا:
﴿وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾
"اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔"
(سورۃ النجم، آیت 39)
اللہ تعالیٰ تمہاری نماز، تمہارے صبر اور تمہارے اپنے اعمال کی طرف بلاتے ہیں، اور تم کہتے ہو کہ ہمارا وسیلہ صرف داماد رسول، صحابی، بزرگ اور اولیاء ہیں۔
یاد رکھو! قیامت کے دن ہر انسان اپنی فکر میں ہوگا۔
﴿يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ﴾
"اس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے بھی بھاگے گا۔"
(سورۃ عبس، آیات 34-35)
پھر سوچو... تمہارا بھروسہ اللہ پر ہونا چاہیے، یا مخلوق پر؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ﴾
"نبی ﷺ مؤمنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔"
(سورۃ الاحزاب، آیت 6)
اور فرمایا:
﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ... أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ... فَتَرَبَّصُوا﴾
"کہہ دیجیے! اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی... تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو۔"
(سورۃ التوبہ، آیت 24)
پھر سوچنے کی بات ہے...
جب ایک مسلمان کی سب سے پہلی نسبت اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ہے، تو پھر ہم اپنی پہچان کو "میں علی والا ہوں" یا "میں عمر والا ہوں" تک کیوں محدود کر دیتے ہیں؟
سب سے پہلے ہم اللہ والے ہیں، رسول اللہ ﷺ والے ہیں، ان کی تعلیمات فرقہ پرستی نہیں ہے