چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان وزیر اعلیٰ پنجاب آفس پہنچ گئے-
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے وزیر اعلی چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کی ملاقات
ہم 2002ء سے2008ء تک اور پھر حالیہ چھ ماہ اقتدار میں تھے لیکن کبھی کسی کے خلاف کوئی کیس نہیں بنایا، بچہ سقہ کی حکو مت دو ماہ کیلئے آئی تو اس نے ہر بندے کے خلاف کیس بنا دئیے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی آئی ایم ایف کو شہبازشریف اور اسحاق ڈار کی گارنٹی دینے کو تیار نہیں۔آئی ایم ایف اور عالمی برادری جان چکے شہبازشریف کی حکومت کمزور بیساکھیوں پر کھڑی ہے جس کا کوئی مستقبل نہیں۔
این اے 157 وہاڑی سے امیدوار چودھری محمد ایوب بندیشہ، چودھری اعجاز احمد وڑائچ، سید نور محمد شاہ، سابق تحصیل صدر وہاڑی چودھری محمد غضنفر الیاس بندیشہ،احسن ایوب بندیشہ سابق وائس چیئرمین شکایات سیل وہاڑی، عامر سعید راں ایڈووکیٹ اور سرور بٹ سیکرٹری جنرل سرکل کبڈی فیڈریشن سے ملاقات۔
ادارے بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشی حالات کسی ایڈونچرکے متحمل نہیں ہو سکتے۔الیکشن کے سوا موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کا کوئی حل نہیں۔الیکشن کے بعد پنجاب میں ن لیگ کی سیاسی موت اور پی ڈی ایم کی سیاست انشاء اللہ دفن ہو جائے گی۔
عمران خان نے قوم کو عزت و وقار سے جینے کا شعور دیا ہے۔ عمران خان کے تاریخی جلسہ نے حکومت پر سکتہ طاری کر دیاہے۔عمران خان وکٹری سٹینڈ پر پہنچ چکے ہیں۔مقدمے، گرفتاریاں اور پر تشدد کارروائیاں اب بیکار ہیں۔
پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کا دعویٰ کرنے والوں نے آج تک کچھ نہیں کیا، آئی ایم ایف کے ترلے منتیں بھی کسی کام نہیں آ رہی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلا رمضان ہے جس میں عوام کو سحر اور افطار کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔
تحریک انصاف کو الیکشن مہم سے روکنے کیلئے کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتار کیا جارہی ہے۔ رانا ثنا ءاللہ اور مریم نواز عدلیہ اور ججز کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔نا اہل حکمران جو مرضی کر لیں عوام انہیں الیکشن سے بھاگنے نہیں دینگے۔حالات کیسے بھی ہوں کرپٹ مافیا کے خلاف باہر نکلنا ہو گا۔
الیکشن کی تاریخ کےاعلان کے بعد پنجاب میں انشاءاللہ عمران خان کی حکومت دوبارہ قائم ہونے میں اب کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ملکی تاریخ میں یہ پی ڈی ایم کی حکومت پہلی حکومت ہےجو الیکشن سے بری طرح خوفزدہ ہے۔پی ڈی ایم الیکشن سے فرار کےحیلے بہانے کرکے عملی طور پر اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے
پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس نے بدترین سفاکیت سے نہتے کارکنوں پر تشدد کیا گیا.کیا ایسے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی لاشیں گرا کر انتخابات کرائے جائیں گے. پنجاب حکومت کا ظلم جبر اور سفاکیت اس وقت انتہا پر پہنچ چکے ہیں. آئین اور قانون کو مسخ کر کے پنجاب میں جنگل کا قانون رائج ہے.
یہ وہ قیامت ہےجو خون کے پیاسےمجرموں کےکرپٹ گروہ نےقوم پر ڈھائی ہے۔انہوں نےہمارا آئین،ہمارےبنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو پامال کیاہے۔خواتین سمیت تحریک کےمعصوم اور نہتےکارکنوں کوپولیس کی بدترین وحشت وتشدد کانشانہ بنایاگیاجبکہ زیرِحراست ایک کارکن کو موت کی نیند سلا دیا گیاہے
شہبازشریف کی نام نہاد گڈ گورننس اور اسحاق ڈار کی جادوگری کا پول کھل چکا ہے.ملکی معیشت کو سنبھالنا اس نااہل ٹولے کے بس کی بات نہیں. شہباز شریف نے قوم کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں بیچ دیا اور پیسے اپنی جیب میں ڈال لیے.نااہل حکومت کی اتنی بڑی فوج ظفر موج عوامی خزانے پر بوجھ ہے.
انشاء اللہ عمران خان وزیراعظم بنیں گے تو ہی معیشت کا پہیہ صحیح سمت میں چلے گا۔ عمران خان نے آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد کرکے پٹرول 150 سے اوپر نہیں جانے دیا۔
سابق ارکان اسمبلی اور مختلف رہنماؤں سے ملاقات۔ ملاقات میں سابق ایم این اے عامر سلطان چیمہ، خرم منور منج، سابق ایم پی اے میاں جلیل احمد شرقپوری شریک۔ ڈاکٹر اے آر خالد، طاہر نصراللہ وڑائچ، رائے عزیز اللہ، سجاد حیدر چیمہ، علی سلمان صدیق، رائے حماد اسلم بھی ملاقات میں موجود۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پارٹی کا مرکزی صدر بنادیا۔ آج شب برات ہے، اللہ تعالیٰ اس میں آئندہ سال کیلئے خصوصی فیصلے فرماتا ہے۔ اس رات میں جو دعا کی جائے قبول ہوتی ہے، ایسی گھڑی میں فواد چودھری یہ بابرکت فیصلہ لے کر آئے۔ میں عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کا بھی شکرگزار ہوں۔