دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
یہ صرف چند لمحوں کی جذباتی کیفیت نہیں، ایک وابستگی کی تصویر ہے۔
لانگ مارچ کے لیے فنڈ ریزنگ میں ایک معذور نوجوان نے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا اور آبدیدہ ہو کر کہا کہ عمران خان کے لیے جو کچھ ممکن ہوا، وہ کرتا رہے گا۔
اس موقع پر کئی اسپیشل افراد، بچوں، بزرگوں کی شرکت کے جذباتی مناظر سامنے آئے۔
عمر، حالات اور وسائل مختلف ہوسکتے ہیں، مقصد ایک ہے۔
عمران خان، عمران خان کی رہائی۔
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
حقیقی آزادی کی اس جدوجہد میں مزدور، معذور افراد، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہو چکے ہیں۔
اب یہ جدوجہد ہر طبقے کی آواز بن چکی ہے، اور منزل قریب ہے۔
#umeedpakistan#pti#imrankhan
حکومت رکاوٹیں کھڑی کرے یا بات چیت کا راستہ اختیار کرے، عوام لانگ مارچ کے لیے تیار ہے۔
یہ جدوجہد عمران خان کی رہائی اور اپنے آئینی حقوق کے حصول تک جاری رہے گی۔
#umeedpakistan#pti#imrankhan@salmanAraja
میرا لیڈر ڈرپوک نہیں میرے لیڈر نے اس ملک کے لئے
اس ملک میں بسنے والے لوگوں کے لیے اور بے غیرتی بے شرمی کے راج کو ختم کرنے کے لیے اس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا
سابق وزیر گلگت بلتستان خالد خورشید کی گفتگو
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ سے گفتگو (یکم جولائی، ۲۰۲۵)
(نوٹ: یہ ٹویٹ یکم جولائی 2025 کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے)
”جعلی پارلیمنٹ کے ذریعے چھبیسویں کے بعد ستائیسویں ترمیم لانے کا تکلف کرنے کی بجائے کھل کر “بادشاہت” ڈکلئیر کر دینی چاہییے، کیونکہ ملک پر اس وقت مکمل طور پر ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے-
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” ہے- یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزادی دیتا ہے- پاکستان کو بڑی قربانیاں دے کر انگریز سے آزاد کروایا گیا تاکہ ایک ایسا ملک بنے جہاں ہر شہری کو شخصی آزادی حاصل ہو- مگر یہاں حالات بالکل برعکس ہیں اور ایک مافیا پوری قوم کو غلامی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ میں جیل کی کال کوٹھڑی میں رہ لوں گا لیکن غلامی قبول نہیں کروں گا۔ میرا تمام لوگوں کو پیغام ہے کہ سب کو ایسی غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیئے کیونکہ جب ہم باہر آزاد ہی نہیں ہیں تو پھر ایسی رہائی کا کیا فائدہ؟ علامہ اقبال کا شاہین اونچا اڑتا ہے، وہ کسی کا غلام بن کر نہیں رہتا-
پوری قوم خصوصاً تحریک انصاف کے ورکرز اور سپورٹرز کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک میں جاری ظلم کے نظام کے خلاف تحریک کا آغاز کریں۔ میرے لیے اس غلامی کے نظام کو قبول کرنے سے بہتر موت ہے۔
میری آواز ہر طرح سے دبائی جا رہی ہے تا کہ لوگوں تک میرا پیغام نہ پہنچ سکے اور جبر کے خلاف کوئی کھڑا ہونے والا نہ بچے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا- اور میرا اپنے رب پر یقین ہے کہ پاکستان سے ظلم کا سایہ جلد ختم ہو گا-
جمہوریت میں چار چیزوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے: ووٹ کا حق، قانون کی حکمرانی، اخلاقیات اور آزاد میڈیا- چھبیسویں آئینی ترمیم نے ان چاروں کو ختم کر کے رکھ دیا ہے-
۱: ووٹ کا حق: جب ایک ڈکٹیٹر آتا ہے تو اسے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوتی تو وہ ڈنڈے کے زور پر ملک چلاتا ہے- جس طرح فارم 47 والی اسمبلیاں بنائی گئیں اور اب مخصوص نشستیں بانٹی گئیں اس سے عوام کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
۲: قانون کی حکمرانی: عدلیہ کو حکومت کے ایک ذیلی محکمے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ عدالتیں اپنی مرضی کے ججز سے بھر دی گئی ہیں اور آزاد ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے ہیں- ایسا صرف مارشل لاء میں ہی ہوتا ہے۔
۳: معاشرے کی اخلاقیات: اس ترمیم سے معاشرے میں اخلاقیات دفن کر دی گئی ہیں۔ اسمبلیوں میں ایسے لوگ بٹھا دئیے گئے ہیں جو عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں- ارکان اسمبلی کی کھلے عام خرید و فروخت جاری ہے- اور عدلیہ بھی اسی مافیا کے انگوٹھے کے نیچے ہے-
۴: آزاد میڈیا: ڈکٹیٹرشپ میں میڈیا کو مکمل طور پر زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ آزادی اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ آزاد صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور باقیوں کو خرید لیا گیا ہے-
احتجاج بنیادی جمہوری اور آئینی حق ہے“
مسلسل ایک ہی پیغام۔۔۔
اہلیان کراچی کے نام۔۔۔۔۔
آپ نے 4 اکتوبر کو گھروں سے نکلنا ہے اس لیڈر کے لئے جو اپنے پورے خاندان کے ساتھ جیل میں ناحق قیدہوکر بھی ہمارا آزادی خود مختاری اورمستقبل کی جنگ لڑ رہا ہے اس عظیم لیڈر کا نام عمران احمد خان نیازی ہے۔۔۔
#اکتوبر4_آغاز_مزاحمت
Imran Khan believes in the Nation and the Nation believes in him.
We will prevail soon, InshaAllah! This regime has collapsed, they have killed innocent people for their greed of power, they were never going to survive.
#ReleaseImranKhan
طارق روڈ کراچی سے 4 اکتوبر کے احتجاج کے حوالے سے اہم پیغام!
4 اکتوبر کو کراچی کے عوام بھی اپنے حقوق کے لیے پُرامن احتجاج کریں گے۔ عوام روٹی، کپڑا، مکان، پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ حکمران اربوں روپے کی شاہ خرچیوں میں مصروف ہیں۔
عوام اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا چھوڑیں گے نہ عمران خان کا ساتھ چھوڑیں گے۔ عمران خان کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
راؤ محمداعظم خان ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، پی ٹی آئی کراچی ڈویژن
یہ بات کنفرم ہوگئی ہے کہ اگر آپ ہجرت کامران کی طرح پارٹی میں کوئی ورکر ہو تو آپ کا کوئی نہیں سنے گا نہ پارٹی اور نہ ہی سوشل میڈیا مفاد پرست ٹولہ اگر ایم پی اے کے طرح ہو اور اغواء ہوگئے ہو تو پوری سوشل میڈیا بھرا نظر ائے گا 🚨
مردان سے نامعلوم مسلح افراد نے چند روز قبل ہجرت کامران ، حاجی فیاض قطر، زاہد زمان، شبیر چوہان، رحمان اور پانچ مزید ورکرز پر شدید تشدد کرتے اغوا کیا تھا جن کا تاحال کوئی پتہ نہیں نہ وہ کسی تھانے میں ہیں اور نہ ہی کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
اس سے بڑی چارج شیٹ کیا ہوسکتی ہے عاصم منیر اور ان کی ٹیم پر۔ اور اس بات پر تو استعفیٰ مانگنا چاہیے پوری قوم کو کیونکہ جو کام ان کا ہے (پاکستان کو محفوظ رکھنا) وہ کام کر نہیں رہے اور جو کام نہیں کرنے کے ہیں (جیسے کہ سیاست میں شامل ہونا) وہ سارے کام کر رہے ہیں۔
انٹیلیجنس ایجنسیز کو اصل دہشت گردوں پر لگائیں تو شاید پاکستان دہشتگردی کی ضد میں پہلے نمبر کا ملک نہیں ہوں۔ ترجیہات ٹھیک کریں، ہر پاکستانی کی جان بہت قیمتی ہے۔
“Every Pakistani should study the Hamood ur Rahman Commission Report and get to know who was the true traitor, General Yahya Khan or Sheikh Mujibur Rahman.” - Founding Chairman PTI Imran Khan
#غدار_کون_تھا