عید کی رات قتل کیے گئے نصیب زادہ کے یتیم بیٹے اور اس کے گونگے باپ کی دردناک باتیں
نصیب زادہ شمالی وزیرستان کی تحصیل شیواہ کا رہائشی تھا۔ وہ ایک نہایت شریف، مخلص اور خوش اخلاق انسان تھا۔ کچھ عرصہ پہلے وہ شوال اسکول میں بطور استاد خدمات انجام دے رہا تھا اور اس کے ہزاروں شاگرد تھے۔
نصیب زادہ کے اہلِ خانہ کے مطابق:
عید کی رات نقاب پوش مسلح افراد آئے۔ اس وقت نصیب زادہ اپنے چھوٹے بیٹے اور ایک کم عمر بھتیجے کے ساتھ جا رہا تھا۔ مسلح افراد نے انہیں گھیر لیا۔ نصیب زادہ نے بچوں کا ہاتھ چھوڑ دیا اور چیخ چیخ کر ان سے کہنے لگا:
“میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں، جہاں چاہو مجھے لے جاؤ، مگر خدا کی قسم، میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ میں ہر طرح کی صفائی دینے کے لیے تیار ہوں۔”
مسلح افراد اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ گاؤں میں شور اور چیخ و پکار مچ گئی۔ رات تاریک تھی۔ مسلح افراد نے نصیب زادہ کے اہلِ خانہ پر بھی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک لڑکے کی آنکھ میں چھرا لگ گیا۔
مسلح افراد نصیب زادہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور اگلی صبح اس کی لاش گھر سے دور ایک ویران علاقے میں ملی۔
نصیب زادہ اپنے پیچھے ایک بیٹا اور دو کم سن بیٹیاں چھوڑ گیا۔ اس کا والد کانوں سے بہرا اور زبان سے گونگا ہے۔
کل جب ہم ان کے گھر گئے تو اس کے گونگے والد سے ملاقات ہوئی۔ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے ہمیں گلے لگایا اور اشاروں میں کہا:
“میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے۔ میرے بیٹے نے ایسی کون سی بڑی غلطی کی تھی کہ اسے قتل کر دیا گیا؟”
ہم حجرے میں بیٹھے تھے کہ ایک چھوٹا بچہ دوڑتا ہوا آیا اور میری گود میں بیٹھ گیا۔ کسی نے بتایا:
“یہ نصیب زادہ کا بیٹا ہے۔”
میں نے بچے کی طرف دیکھا۔ بخار کی وجہ سے اس کا جسم کانپ رہا تھا۔
پھر اس نے معصومانہ انداز میں کہا:
“میرے بابا کو کیوں مار دیا؟
بابا میرے لیے جوتے لائے تھے۔
بابا کہتے تھے کہ ہم رزمک سیر کے لیے جائیں گے۔
پھر میرے بابا کو کیوں مار دیا؟
بابا نے کیا کیا تھا؟”
جب ہم نے بچے کی یہ باتیں سنیں تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ وہاں موجود لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ہمارے پاس ایسی کوئی بات نہیں تھی جس سے ہم اس معصوم بچے کو تسلی دے سکتے۔
ہم نے صرف اتنا کہا:
“جب تک ہمارے اندر سانس ہے اور ہماری زبان بول سکتی ہے، ہم تمہارے اور تمہارے خاندان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم نصیب زادہ کے قتل کے بارے میں سوال اٹھاتے رہیں گے اور حقیقت جاننے کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔”
گاؤں اور علاقے کے لوگوں کو اس واقعے کی حقیقت معلوم ہونی چاہیے۔ رات کی تاریکی میں اس طرح کے قتل نہ قابلِ قبول ہیں اور نہ ہی انہیں قبول کیا جانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص مجرم تھا تو اس کا جرم پورے گاؤں اور قوم کے سامنے واضح کیا جانا چاہیے۔ کسی انسان کو بے خبری میں قتل کرنا حق اور انصاف کے خلاف ہے۔
علاقے میں سرکاری فورسز بھی موجود ہیں اور طالبان بھی منظم انداز میں سرگرم ہیں۔ سوال یہ ہے کہ نصیب زادہ کو ان کے درمیان کس بااثر فریق نے قتل کیا؟
نصیب زادہ کے قتل کا فیصلہ کس نے کیا؟
کون سا قاضی اور کون سی عدالت تھی جس نے اسے مجرم قرار دیا؟
اس نے ایسا کون سا جرم کیا تھا جس کی سزا موت دی گئی؟
اگر وہ واقعی مجرم تھا تو اب اس کی موت کے بعد اس کا جرم پورے گاؤں اور قوم کے سامنے ظاہر کیا جائے۔
ہم تمام متعلقہ اور ذمہ دار فریقوں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ نصیب زادہ کے قتل کی حقیقت اس کے خاندان، گاؤں اور قوم کے سامنے مکمل طور پر واضح کی جائے۔
اس طرح خفیہ انداز میں ہونے والی ہلاکتیں معاشرے میں شدید نفرت، غصہ اور بے چینی پیدا کرتی ہیں۔
#StopStateTerrorism
#PashtunLivesMatter
#StopPashtunGenocide
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف نام نہاد مقدمہ درج کرنا یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ پشتونخوا وطن کو نوآبادیاتی ریاست اب بھی اپنی کالونی کی طرح چلا رہی ہیں۔ پشتونوں کو نہ تو بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں اور نہ ہی ان کی بنیادی سیاسی حقوق تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ اب تو پشتونوں کی سیاست پشتون قوم کی سرزمین پر پشتون قوم کا استصال کیا جارہا ہیں پشتونوں کی سیاسی رائے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔
پشتونوں کی پرامن سیاسی تحریکوں اور جماعتوں کو کالعدم قرار دینا، ان کے سیاسی بیانات پر مقدمات درج کرنا، اور سیاسی آوازوں کو دبانا انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس سے استعماری قوتیں نہ صرف اپنے استحصالی منصوبوں کو دوام دے رہی ہیں بلکہ اپنا قبضہ مزید مضبوط بھی کر رہی ہیں۔
History is witness to the fact that military dictatorships in Pakistan have been attractive for the Western powers because these are “one window operation” for them in using Pakistan as their “front-line-state”, unlike the democratic dispensations that can be messy and noisy.
8-year-old Hasnain from Shewa, North Waziristan lost both hands and one eye in a landmine blast near an abandoned FC post while collecting firewood for Eid.
Pashtun children continue to suffer the deadly consequences of militarization and war.
#StopStateTerrorism
یہ عید اپنے وطن، قومی حقوق اور ظالم کے جبر و استبداد کے خلاف جیلوں کی تاریک کوٹھریوں میں ریاستی تشدد، قید و بند اور اذیتیں سہنے والے اسیرِ مزاحمتی دوستوں کے نام!
مزاحمت زندہ باد!
Seven years after the #KharQamarMassacre, the memories of the innocent lives lost to state brutality continue to live on. Truth cannot be buried through silence and fear.
آج عید کے دن بھی پشتون کے بزرگ اپنے جوان بیٹوں کی میتوں کے پاس بیٹھے ہیں۔ قاہر میانی شہید کے والد اپنے نوجوان بیٹے کی لاش کے پاس سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ فریاد کریں تو کس سے کریں؟
آج شارگ ہرنائی میں پانچ جنازے پڑھے گئے۔
#StopStateterrorism
A Pashtun father sits frozen beside his son’s dead body, killed by unknown assailants today. It is a moment no parent should ever face, yet in Pakistan scenes like this are not unheard of,
@fawadchaudhry Yeah they are nationalist because they have a nation not a crowd of slaves you fatty ass is on fire everytime,, elders says who got fat neck and ass don't expect good things from them