عورت کولن کے موٹے یا چھوٹے ہونے سےکوئی فرق نہیں پڑتا بس لن پھدی کی جڑ تک جانا چاہیئے اس لیئےاکثر عورتیں مرد کو لٹا کر لن پر سواری کرتی ہیں تاکہ لن پھدی کی گہرائی تک جائے اور ٹٹے پھدی کی دیواروں پر اٹکے رہ جائیں اس طرح پھدی بھی فورآ پانی چھوڑ دیتی ہے اور لن بھی جلدی چھوٹ جا��ا ہے
مرد جب کسی بارعب اور حکم چلانے والی عورت کو الٹا لٹا کراوپر چڑھتا ہے وہ بےبس لیٹی منتیں کر رہی ہوتی ہے کہ گانڈ میں نہ ڈالو درد ہوتا ہےپھدی میں ڈال لو تو مرد کو بہت سکون ملتا ہےاسکی مردانگی اور بھی جوش مارتی ہےوہ روتی سسکتی حکم دینے والی ایسی محترمہ کی گانڈ پھاڑ کر غصہ نکالتا ہے
عورت کو وحشیانہ انداز میں چدوانا بہت پسند ہے اس کو ایسے مرد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کو باندھ کراچھی طرح چودے پھر گھوڑی بنا کر پیچھے سے بال پکڑ کر ایسے جاندار جھٹکے مارے کہ ہر جھٹکا عورت کا انگ انگ ہلا دے اورساتھ ساتھ عورت کی گانڈ پر تھپڑ بھی مارے تو عورت فوراً پانی چھوڑ دیتی ہے
لن کو صرف تنگ چوت نہیں، گرم اور گیلی پھدی سکون دیتی ہے۔ جہاں ہر جھٹکے پر گوشت کی گرمی محسوس ہو، زبان نپل پر ہو، اور گانڈ پر تھوک گرے۔ جب عورت کی آنکھیں بند ہوں، سانس بےقابو ہو، اور وہ خود مرد کو جکڑ لے… تو سمجھ لو یہ چدائی نہیں، وحشی تسخیر ہے جو عورت کو مرد کی غلام بنا دیتی ہے
شوق سے پالے ہوئے جانور کو زمین پہ گرانا اور نخریلی عورت کو بیڈ پہ گرانا برابر ہے دونوں کو اپنے شکنجے میں جکڑنا پڑتا ہے دونوں پر خرچہ ہوتا ہے دونوں سے محبت ہوتی ہے ایک کے گ��ے پر چھری اور دوسری کی پھدی پر جب لوڑا رکھا جاتا ہے تو دونوں کے چیخنے کی آواز دل پر لگتی ہے
ایک محبت شناس عورت جب اپنےمن پسند مرد کے ہاتھوں بےلباس ہوتی ہےتب آنکھوں سے زیادہ اور منہ سےکم بولتی ہے ایک پیشہ ور رنڈی بننا اور مرد کو اپنےجسم کے ہر انگ سےتسکین دینا اور مزہ کروانا اپنا فرض اول سمجھتی ہےاوربستر پر مرد کےنیچےلیٹے مرد کی کہی ہر بات اس کے لیئےحکم کا درجہ رکھتی ہے