خیبر:
“150 بلین ڈالرز اس غرض سے کے پی میں خرچ کیے گئے کہ یہاں دہشتگردی ختم کرینگے لیکن بے سود رہا۔
یہ جرگہ پشتون کو اپنے حق پر ڈٹےرہنے کے سفر کا پہلا قدم ہے، خیبرپختونخواہ معدنیات سے مالا مال ہے یہاں یورینیم، زمرد، گیس،نیفرائڈ، سونا سب کچھ ہے لیکن پشتون قوم کو ان کے فائدے سے
خیبر پختونخوا کے سابق وزیر شکیل خان کو 47 روز میں آٹھویں مرتبہ گرفتار کیا گیا ہے۔ وہ ابھی بھی (ظالم و جابر کی) منشاء سے انحراف کی راہ پر پوری طرح ثابت قدم اور تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے سے انکاری ہیں۔
ماشاءاللہ، ہمارے مستقبل کی یہی تو وہ قیادت ہے جو (ظلم کی تاریک رات کا سینہ چیر کر) ابھر رہی ہے اور اس پاکستان کی بنیاد ڈالے گی جو حقیقی آزادی کی منزل سے ہمکنار ہوگا، انشاءاللہ۔
مجھے کسی حد تک مجرموں اور فسطائیوں کے اس گروہ کا بھی شکرگزار ہونا چاہئے جنہوں نے صحیح معنوں میں نظریاتی کارکنان اور قائدین کی دریافت و نشاندہی (جیسے قدرے کٹھن کام) کو میرے لئے آسان بنایا۔
میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا جب سوات میں امن و امان کی صورتحال کی خرابی کے باعث فوج کی آمد ہوئی، جب تک حالات میں اتنی گنجائش بنتی کہ عید یا چھٹیوں پر گاؤں چلا جاتا تو موضوع ایک ہی ہوتا تھا “علاقے کے حالات” ایسے میں اگر کسی سے پوچھ بیٹھتا کہ کون حق پر ہے تو سب کا ایک ہی جواب ہوتا؛ ”ایک جانب فرشتے ہیں، دوسری طرف اولیاء کرام ان کے درمیان گناہگار تو بس ہم انسان ہیں۔۔ حشر تو سارا ہمارے لیے ہی رچا ہے“
ارشد شریف کا جنازہ ہو یا ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور مقبول ترین لیڈر کو دھمکیاں دینا آئی ایس پی آر گھنٹوں صحافیوں اور قومی چینلز کو یرغمال بنا کر پریس کانفرنس کرسکتی ہے لیکن اپنے اصل کام؛ ملک کی سیکیوریٹی صورتحال پر بریفنگ دینے کا وقت نہیں ہے۔ پہلے آپریشن عدم استحکام کی خبر چلا کر عوامی نبض کو جانچا جاتا ہے، ردعمل دیکھ کر وزیراعظم آفس سے وضاحت دی جاتی ہے، اور پھر ذرائع سے خبریں چلوا کر مزید کنفیوژن پھیلائی جاتی ہے۔ ان بیانات، تشریحات اور وضاحتوں کے درمیان مالاکنڈ ڈیویژن میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کردی گئی ہے۔ دیر میں یکدم کاروائیاں شروع ہوگئی ہیں، اور باجوڑ میں سینیٹر ہدایت اللہ حملے میں شہید کردیے گئے ہیں۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ جون ۲۰۲۲ سے گزشتہ برس اپریل ۲۰۲۳ تک ہم نے امن تحریک چلائی جس کے نتیجے میں مالاکنڈ ڈیویژن سے دہشتگردوں کی واپسی ہوئی۔ آپ نے خود بریکنگ نیوز چلوا کر اس بات کا کریڈیٹ لیا اگرچہ آپ کا دعوی تھا کہ وہاں ایسے کوئی عناصر موجود ہی نہیں تھے مگر ان کی واپسی کا کریڈیٹ آپ نے لیا!
پھر جب مالاکنڈ میں شکست کے بعد جنوبی اضلاع میں یہ بساط بچھائی گئی تو آپ کو آگاہ کیا، خبردار کیا کہ اس آگ کو پھیلنے سے روکیں اس میں ہم سب کے گھر جلیں گے۔ آپ کے کانوں پر جوں کیا رینگتی آپ کی موجودگی میں آپ کی آنکھوں کے سامنے سالم انسان، بمع اسلحہ قافلوں کے قافلے آ بسے۔ قرائن کچھ ایسا بیان کرتے ہیں کہ جن پہ تکیہ تھا انہوں نے شعلوں کو ہوا ہی دی۔ اب اگر یہ غلط بیانی ہے تو کیا یہ جاننا قوم کا حق نہیں بنتا؟ اور یہ بھی کہ جب دہشت گرد آرہے تھے تب تو آپ بولنے والوں کو فسادی اور نشاندہی کو پراپگینڈہ گردان رہے تھے۔ تو اب تاک میں کن کی بیٹھے ہیں؟ اور اب بھی جو جاگے ہیں تو یہ جاگے ہیں یا خود ساختہ فرشتوں اور خود ساختہ اولیاء کے مابین فیصلہ ہوا ہے ایک مرتبہ پھر ہم انسانوں کے ناکردہ گناہوں کی سزا پانے کا وقت ہوا چاہتا ہے؟
سوات سرکٹ ہاؤس اور اسی طرح کے آپ دیگر سیف ہاؤسز پر ہونے والی وہ خوشگوار ملاقاتیں، جن کا انجام ہم عوام کے لیے عموماً ناخوشگوار رہا ہے یوں نظروں سے چھپی ہوئی بھی نہیں ہیں، دیکھنے والوں کو آپ کی ان ملاقاتوں سے کافی تشویش لاحق ہے، فکرمندی میں گویا ہی نہ ہوجائیں۔
میں صوبائی حکومت سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ امن او امان کے نام پر میٹنگز انتظامیہ کے دفاتر میں منعقد کرائیں نا کہ کیمپ آفسز میں۔ آپ کے ماتحت پولیس کے ادارے میں افسران کی ان حاضریوں کے باعث اہلکاروں میں چہ مگویاں بڑھ رہی ہیں۔
ہوش کے ناخن لیں۔ جو قوم ۲۰۰۷ میں جانتی تھی کہ ان کے ساتھ کھیلے جانے والے کھیل میں کھلاڑی کون ہیں اور تماش بین کون وہ ۲۰۲۴ میں تماشائی نہیں بنی بیٹھی رہے گی؟ ان کا ایک ہی پیغام ہے؛ بہت اٹھا لیے جنازے، اپنے ناکردہ گناہوں اور ان زعما کی غفلتوں کا بوجھ بھی!
We remember you most days, but especially these days... really wish you were amongst us, bro.
Inshallah soon you will lead the movement from the front...
@MuradSaeedPTI
#قومی_مطالبہ_خان_کی_رہائی
ہمارے موجودہ صورتحال ایسی ہی ہے جیسے انگریزی میں “It was the best of times, it was the worst of times” کہتے ہیں۔ مقابل اپنی آخری آخری چالیں چل رہا ہے، سائفر سے جس تنزلی کے سفر کا آغاز کیا تھا؛ عدت جیسے بیہودہ کیس میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے قائد کو قید رکھ کر مقتدرہ اپنی قبر کھود چکی ہے۔ اُس کی ساری امیدیں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ ہی ہیں جو اُس کے مردہ وجود کو جینے کا سہارہ دے سکتے ہیں۔ It is the worst of times کیونکہ ہر شاطر دشمن کا بدترین وار اندرونی ہوتا ہے، وہ خدشے، وسوسے، اندیشے اور بدگمانیاں ڈال کر آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ آپ کی صفوں میں مایوسی پھیلاتا ہے۔ آپ کو تقسیم کرتا ہے۔ مگر it is the best of times کیونکہ وہ صرف آپ کے ردعمل پر اپنی ساری امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ اُس کے پاس مزید کوئی داؤ نہیں ہے۔ عمران خان نے ہمیں ۱۴-۱۵ مارچ کو بھی اپنی ڈھال بننے کو نہیں کہا تھا۔ ۱۸ مارچ کو بھی یہ عمران خان کا حکم نہیں تھا کہ قوم گولیوں کے سامنے کھڑی ہو۔ نہ ۹ مئی کو عمران خان نے احتجاج کی کال دی تھی۔ ہر مرتبہ اُس کی قوم اُس کا کارکن خود نکلا تھا۔ تو کیا ۵ اگست کو عمران خان کی گرفتاری اُس کی قوم کی ناکامی تھی؟ کیا عمران خان کا کارکن لڑ لڑ کر تھک گیا تھا جو اُس نے روزِ روشن کی طرح عیاں بدنیتی کے باوجود عمران خان کو ایک بوگس کیس میں گرفتار ہونے دیا؟ نہیں! عمران خان کا کارکن تھکا ہوتا، اُس کی قوم نے ہار مانی ہوتی تو ہماری سامنے ۸ فروری نہ ہوتا۔ نشان چھن گیا، ۱۰۰ اور یاد کرلیے۔ امیدوار اٹھا لیا، ۱۰ اور کھڑے ہوگئے۔ پولنگ والے دن عوام نے جو جنگ لڑی تاریخ کی کتابوں میں تحریر ہوگی۔ ۹ اپریل ۲۰۲۲ اے لے کر آج دن تک کیا کیا نہیں سہا ہم نے تو کیا چار دن اور گولیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے؟ آج عمران خان ہمارے درمیان ہوتا۔۔ عمران خان کی گرفتاری وہ کڑوی گولی تھی جو ہم نے اپنے کپتان کے حکم پر اُس کے ہم پر لاگو کیے ڈسپلن کے سبب نگلی۔ آپ کو کیا لگتا ہے سردی گرمی میں بنی گالہ سے لے کر زمان پارک تک جو لوگ عمران خان کے لیے کیمپوں میں پڑے رہے تھے۔ جنہوں نے ریاست کی بدترین فسطائیت کا مقابلہ کیا۔ ۱۸ مارچ کے حالات تو آپ کی آنکھوں کے سامنے تھے، ۱۵ مارچ کی صبح ایک موقع ایسا آیا تھا جب پولیس زمان پارک کا گیٹ توڑ رہی تھی اور ہم اندر بمشکل ۳۰-۴۰ بندہ رہ گئے تھے۔ ان کے پاس تازہ دم فورس تھی، شیل تھے، اسلحہ تھا، ہمارے پاس اپنے سروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تب خان صاحب نے باہر آکر ہمیں سمجھایا تھا کہ میں گرفتاری دے دیتا ہوں۔ لڑکوں نے کہا ہم مرجائیں تو بے شک دے دیں۔ کیا ایسے لوگ ۹ مئی کے بعد زمان پارک سے اپنی جان بچانے چلے گئے تھے؟ نہیں جب تک خان صاحب روک نہیں رہے تھے ہم نے اُن کے کہنے کا انتظار نہیں کیا۔ مگر جب وہ جان گئے کہ یہ ہوس اقتدار میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ یہ اپنی طاقت کو دوام دینے کے لیے اپنے ملک کو خاکستر کرنے سے بھی گریز نہ کریں گے اور اُن کی جانب سے باقاعدہ تاکید کی گئی پیچھے ہٹنے کی تب ہم پر واجب تھا کہ ہم لیڈر کا حکم مانتے۔ یہ جو لیڈر شپ ایک سال اپنے گھروں سے، اپنے والدین اپنے بچوں سے دور رہی۔ جن کے گھر توڑے گئے، جن کی خواتین کو ہراساں کیا گیا، اس ملک میں قانون نامی کسی چیز کا شائبہ بھی ہوتا تو خدا کی قسم جیل اس دربدری سے کہیں بہتر رہتی۔ ہفتے میں ایک بار کسی اپنے کی شکل دکھائی دے جاتی۔ دن میں ایک بار سہی آسمان تو دیکھنے کو ملتا ہوگا۔۔ تو کیا لگتا ہے یہ سب پارلیمان کی سیٹ اور ایم این اے بننے کے لیے سہا تھا؟ یا پارٹی عہدوں کے لیے؟ کیا لگتا ہے آج عمران خان باہر ہوتا تو یہ ”موقع پرست“ محض ایم این اے ہوتے یا اس کی کابینہ میں وزیر مشیر ہوتے؟ کون سی پوزیشن ذیادہ بہتر ہے؟ اس ایک سال میں میں ذاتی طور پر خان صاحب سے درجنوں مرتبہ اجازت مانگ چکا ہوں۔ جب اور جتنی اجازت ملی ہے اس حد تک کیا ہے۔ جہاں انہوں نے رُکنے کی تاکید کی ہے۔ میں رُکا ہوں، دل پر جبر کرکے رُکا ہوں کیونکہ وہ میرا لیڈر ہے۔وہ میرے سامنے ہوتا میں اُس کی سٹریٹجی پر اُس سے بحث کرتا، اپنی رائے دیتا۔ فیصلے کا اختیار اُسی کا تھا، اُسی کا رہے گا۔ میں پھر کہتا ہوں it is the best of times یہ آخری چال ہے، مشاہدہ کریں، تبصرہ کریں، بحث کریں کھل کر سب سامنے آنے دیں۔ لیکن اپنا فوکس مت تبدیل کریں نہ کسی کو کرنے دیں۔ عمران خان جیل میں اپنی پارٹی کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمران خان جیل میں اس بدبودار، تعفن زدہ نظام کی وجہ سے جہاں عوام تو عوام جج تک انصاف کے دروازے سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔ جہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غداری ہے اور فرض کی بابت سوال کرنا بغاوت۔ جہاں اپنے ملک کی خودمختاری کا علم اٹھانا ننگی تلوار پر چلنے برابر کردیا گیا ہے۔ عمران خان جیل سے اُس دن نکلے گا، جب ہم اپنے اتحاد سے اس متعفن لاش پر مٹی ڈالیں گے نہ کہ اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر ڈال کر اُس کو سانس لینے کا موقع فراہم کرکے۔ ایسا کرنا عمران خان سے اصل غداری ہوگی۔
آج سے قریباً ڈیڑھ دہائی پہلے ہواؤں پر تیرتی ایک آواز ہمارے پہاڑوں پر چاندنی کیطرح اتری، راتوں رات اس کی روشنی میں پوری وادی نہلا گئی، لوگوں کی آنکھیں اس روشنی سے دمک اٹھتی تھیں۔ جن لبوں پر ذکر آتا تھا ان پر انگلیاں دبا کر پلکوں سے لگائی جاتیں۔ ٹمٹماتی آنکھوں، فرط جذبات سے دہکتے گالوں کے ساتھ عورتیں کلائیوں سے طلائی زیور اتار سفید چادروں پر ڈھیر کرتی جاتیں۔ کڑیل جوانوں نے جوانیاں دان دینے کی قسمیں کھائیں بزرگوں نے پیری میں اپنا مال ومتاع لٹا دیا۔ اللہ کی رضا کی خاطر۔ ایک دن علم ہوا وہ روشنی اتنی خیرہ کن اس لیے تھی کہ فریب کے خدوخال ڈھکے رہیں۔ چندھیائی آنکھوں کے سامنے رچنے والا کھیل تب واضح ہوا جب اندھیرے کے سوداگر اپنے جُبے اتار کر میدان میں اترے۔ مگر تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ اب سامنے آگ اور خون کا دریا تھا۔ اور آبلا پائی کا ایک لمبا سفر درپیش۔۔ ٹوٹے، بکھرے، گرتے، سنبھلتے بڑا رستہ طے کرلیا۔ منزل کے قریب، رستے زخموں کو سہلانے چار گھڑی چھاؤں میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر وہی سیاہ مکروح سائے منڈلاتے دیکھے۔ جہاں ہاتھ سے روکنے کا حوصلہ تھا وہاں ہاتھ سے روکا، جب اختیار چھن گیا زبان سے روکا۔ مگر جس عفریت کی جڑوں کو آپ کے اپنوں کے ہاتھ دوام دے رہے ہوں اُس سے لڑنے کے لیے صرف حوصلہ کافی نہیں ہوتا۔ حکمت بھی چاہئے ہوتی ہے۔ مسئلہ درپیش ایک آکٹوپس ہے کہ جس نے سر پر بیٹھ کر آنکھیں ڈھانپ دیں ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اپنے وزن تلے دبا دیا ہے اور ساتھ ہی ہاتھوں پیروں سے لپٹ کر انہیں ناکارہ بنا رہا ہے۔ جو دِکھ رہا ہے، محظ وہی تصویر نہیں۔ جو پس پردہ ہیں وہ حقیقتیں اپنے گھناؤنے پن میں فقید المثل ہیں مگر جب حسیں بحال ہوں گی تو پلوں کے نیچے سے پانی بہہ چکا ہوگا۔ اور آپ مفلوج، مفلوک اُسی آبلہ پائی کے سفر میں ہوں گے۔ سیاہ سائے حسب ضرورت، حسب موقع، حسب منشاء کبھی پہاڑوں کے اُس پار دھکیلے جائیں گے کبھی اس پار۔ کبھی اپنی روشنی سے آنکھیں خیرہ کریں گے تو لبھی اپنی آگ سے جسم راکھ۔۔
میری قوم اس بات پر گواہ ہے کہ جب جولائی ۲۰۲۲ میں مالاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردی کی نئی لہر کی بساط بچھائی جانے لگی تو میں نے اس سلسلے کے آغاز سے قبل اپنی قوم کو آگاہ کیا اور سوال اٹھائے۔ جواباً آئ ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے میڈیا ونگ کی جانب سے میرے خدشات کو پراپگینڈہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ میں بےجا خوف و ہراس پھیلا رہا ہوں۔ جب یہ عناصر مالاکنڈ میں داخل ہوگئے اور بھتہ خوری اور دھمکی آمیز کالز اور خطوط کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے حکومت اور سیکیوریٹی اداروں دونوں سے درخواست کی کہ ۸۰ ہزار شہدا بشمول ۱۰ ہزار سیکیوریٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانی دے کر ہم نے یہ امن حاصل کیا ہے خدارا اب مزید پاکستانیوں کو کسی اور کی جنگ کا ایندھن نہ بنایا جائے۔ جس پر اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے بیان آیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور میں شرپسند ہوں، پراپگینڈہ کر رہا ہوں۔ حکومت اور سیکیوریٹی اداروں کی نیت جان کر میں نے اپنی قوم سے رجوع کیا اور ان کے ساتھ مل کر ایک مسلسل تحریک چلائی اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قطرہ خون بہائے بغیر مالاکنڈ ریجن سے دہشتگردوں کو واپس پلٹنا پڑا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس امن کے نام پر اربوں روپے ڈالر ہڑپے گئے اور ہزاروں جانیں گنوائیں گئیں اس کو صرف قوم کو یکجا کرکے بحال کرنے پر ریاست داد دیتی۔ یہ کاوش ایک کیس سٹڈی کے طور پر دیکھی جاتی الٹا ریاست نے مجھے مطلوب قرار دے دیا۔ مجھ پر مقدمے درج ہوئے، اداروں کی سرپرستی میں میرے گھر پر اسلحہ بردار افراد بھیجے گئے، خاندان کو ھمکیاں دیں گئیں، رستے سے ہٹانے کی کوششیں ہوئیں۔ میرے ہی ایم پی ایز کو بلا کر سمجھایا گیا کہ یہ نادان ہے ”ask him to stay out of it” معلومات بہت تھیں۔ ان کے منصوبوں کا بھی علم تھا لیکن الزام تراشی کے بجائے اپنے لوگوں کے امن کو ترجیح رکھا اور بار بار رکھا اگرچہ دھوکے اور چالبازیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دھونس دھمکیاں بھی مگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر امن کے لیے اپنی قوم کو یکجا ہونے کا پیغام دیا۔ ملاکنڈ سے مایوس ہو کر پلان کا رُخ جنوبی اضلاع کی جانب موڑ دیا گیا۔ اب واپسی کا راستہ وہ اپنانا تھا جہاں سے ماضی میں اس گھناؤنے کھیل کی شروعات کی گئیں تھیں۔ لہذا میں نے لکی مروت، وزیرستان، بنوں، اورکزئی، کُرم، ڈی آئی خان، ٹانک، کرک، ہنگو، کوہاٹ کے نوجوانوں کے ساتھ جرگے کیے اور ان کو موبالائیز کیا۔ تفصیل طویل ہے مگر مختصر یہ کہ جس سرحد کو محفوظ بنانے پر قوم کے اربوں روپے لگے، جس امن کو یقینی بنانے کے لیے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، جس جنگ کا ایندھن ہمارے ہزاروں شہری اور فوجی جوان بنے اُس سے قوم کو بچانا اتنا بڑا گناہ عظیم تھا کہ اگست ۲۰۲۲ سے اپریل ۲۰۲۳ تک بارہا مجھے قتل کرنے کے غرض سے پلان ترتیب دیے گئے۔ مجھ پر انگریز کے زمانے کے بغاوت اور غداری کے وہ مقدمے درج کیے گئے جن کی سزا موت ہے اور پھر مئی ۲۰۲۳ سے اس مقصد کے حصول کے لیے مزید نئے بہانے تراشے گئے۔ قانونی اور غیر قانونی ہر راستے کا انجام ایک ہی لکھ دیا؛ موت۔ میں جو پہلے سے ہی روپوش تھا مکمل طور پر رابطے سے باہر ہوگیا۔ اور یوں پوری قوم کو دہشتگرد قرار دے کر اصل دہشتگردوں کو کھل کر کھیلنے کے لیے زمین فراہم کردی گئی۔ نگران حکومت کے دور میں انہیں پوری طرح لکی مروت اور بنوں میں آباد ہونے کا موقع دیا گیا۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ آپریشن کا اعلان کردیا گیا ہے تو مجھ پر جو شرپسندی اور پراپگینڈہ کی تہمت لگائی گئی اس کا کیا؟ بس یہی وجہ تھی نہ کہ حالات اس نہج پر لانا ضروری تھا؟ کیونکہ مقاصد کا حصول اس پر موقوف تھو؟ جب خیبر پختونخواہ میں ہماری حکومت بنی تب ہی یارانِ غار کو خبردار کردیا تھا کہ ناصرف اس خطے کے لیے نئے گیم پلان پر عملدرآمد جاری ہے بلکہ اگلے چند ماہ میں اسی عمل کو آپ کے خلاف بطور چارج شیٹ استعمال کیا جائیگا لہذا کھل کر اس مسئلے پر سامنے آئیں اور قوم کو آگاہ کریں۔ اور میں آج بھی اپنی قوم کو بتا رہا ہوں جو آگ ہماری دہلیز پر جلادی گئی ہے آپ جانتے ہیں کہ اُس کے شعلے نہ پہلے میری دیواروں پر رُکے تھے نا آگے اٹک کے پُل پر ٹہرنے ہیں۔ دریاؤں کا کے یا ریگستانوں کی خشکی سے نہیں رُکتی یہ قاتل لہریں۔ مہران بیس سے لے کر واہگہ بارڈر تک آپ اور میں بھی مریں گے اور وہ سیکیوریٹی جوان بھی جو ہمیشہ ریاست کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ پھر وہی کھیل رچایا جائیگا۔ سوال اٹھانا غداری۔ نشاندہی بغاوت۔مگر کل کا پراپگینڈہ آج کی حقیقت میں ڈھل رہا ہے، اب آپریشن ہوں گے، جنازے اٹھیں گے، بے گھری، بے سروسامانی، ذلت ہوگی اور پھر اپنی غلط پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان مظلوموں کا خون بیچا جائیگا جو اپنے وطن کی محبت میں بلا چوں چراں میدان میں اترتے ہیں۔۔ میں اس ملک کے پالیسی سازوں سے بھی کہتا ہوں وہ جو خود کو ریاست کہلانے پر مصر ہیں؛ ۷۷ سال ہوگئے خدارہ قوم کے بچوں کو لکڑی کے ان ٹکڑوں برابر ہی سمجھ لو جن کو ایندھن بناتے ہیں، انہیں بھی کچھ سوچ سمجھ کر شعلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ اتنے تن کٹیں تو جنگل بھی بنجر ہوجاتے ہیں جتنے سر ہم نے کٹا دیے۔ اگر آپ اپنے آقاؤں کے آگے اتنے ہی بے بس ہیں تو کچھ وقت کے لیے پیچھے ہٹ جائیں ہم کل کیطرح آج بھی بنا ایک قطرہ خون بہائے اپنا امن قائم رکھ سکتے ہیں۔ بس یہ اپنوں کے ہاتھ نہ شامل ہوں بربادئ گلشن میں تو دشمن سے نمٹنا تو ہماری تاریخ ہے۔
صوبائی حکومت نے آپریشن کی مخالفت کردی تو رات کو وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیا گیا کہ آپریشن کے حوالے سے تاثر غلط گیا ہے مگر ایک ہی دن میں خیبر پختونخواہ میں بڑے پیمانے ہر فوجی قافلوں کی نقل وحرکت ہوئی۔ دیر میں بھی بڑے پیمانے پر کاروائی ہورہی ہے۔تحصیل کبل، سوات (میرے حلقے) میں بھی فوج نے محاذ سنبھال لیا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کی گاڑیاں فوجی قافلوں کے موومنٹ کے دوران ان کی سیکیوریٹی پر معمور کردی گئی ہیں۔ ۲۰۲۲ میں امن تحریک کے نتیجے میں مالاکنڈ سے دہشت گرد واپس چلے گئے تھے اور اُس کے بعد سے وہاں دہشت گردی کا کوئی واقعہ بھی نہیں ہوا لیکن انتظامیہ اور پولیس سے لے کر سب کو روزمرہ امور سے ہٹا کر اپنے آگے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ جب کہ میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو آپریشن، مذاکرات، بیانات اور بیانیے میں الجھایا جارہا ہے۔۔اس کے پس منظر میں کونسی بساط بچھائی جارہی ہے شاید کچھ دن تک عقدہ کھلے۔۔ ۲۰۲۲ میں دہشت گردی کی واپسی کے حوالے سے کہا گیا کہ پراپگینڈہ کیا جارہا ہے۔ پھر جب عوامی طاقت سے ان عناصر کو نکالا تو آئی ایس پی آر نے بریکنگ نیوز چلوائی کہ “کچھ دہشت گرد آئے تھے جن کو نکال دیا گیا”، تو پہلے کا denial حقیقت تھا یا ان کو نکالنے والی بریکنگ نیوز؟ ان کی موجودگی حقیقت تھی یہ تو آپ نے نکالنے والی بریکنگ نیوز چلا کرتسلیم کرلیا، تو جن دہشتگردوں کو وہاں سے نکال دیا تھا اب کیا وہ دوبارہ آگئے ہیں؟ کیسے؟ سرحد پر تو باڑ لگی تھی، کیا ان کی واپسی بارڈر سیکیوریٹی کی غفلت تھی؟ اگر تھی تو کیا اس پر کوئی تحقیقات ہوئیں؟ عوامی طاقت سے ہم نے انہیں نکالا، دوبارہ آئے دوبارہ قوم کو متحد کیا۔ اتنے جلسے جلوس ہوئے، سوشل میڈیا آج بھی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔ کیا اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی آپ خبردار نہیں ہوئے؟ تو پھر یہ واپس کیسے آگئے؟ کیا ہماری جانب سے دو سال پہلے نشاندہی نہیں کی گئی تھی کہ اب یہ سلسلہ جنوبی اضلاع سے شروع ہوگا۔ تو کیسے بارڈر سیکیوریٹی کو فعال نہیں کیا گیا؟ کیسے ان کی بھاری اسلحے کے ساتھ دوبارہ واپسی اور پھیلاو ممکن ہوا؟ کیا ایسی کسی نقل وحمل کو روکنا آپ کی ذمہ داری نہیں تھی؟ جنوبی اضلاع میں تو آپ کنٹرول سنبھالے بیٹھے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہاں حالات خراب تر ہورہے ہیں اور اب آپ نے مالاکنڈ کا رُخ کرلیا ہے۔۔۔ شروع دن سے کہہ رہا ہوں کہ ان عناصر کی واپسی رجیم چینج آپریشن کا دوسرا مرحلہ تھا۔اگر ایسا نہیں تھا تو رجیم چینج آپریشن کے دو مہینے بعد افغانستان وفد کس نے بھیجا تھا اور وہاں کیا بات ہوئی تھی؟ جب ہم نے دہشت گردوں کے واپسی کے حوالے سے متنبہ کیا تو ہمیں ہی دہشت گرد کیوں قرار دیا گیا؟ رجیم چینج کے دوسرے مرحلے میں جنہوں نے اس نئی گیم کا فیصلہ کیا تھا وہ غدار ہیں یا ہم؟ ہماری پوری تحریک میں تو ایک بھی ریاست مخالف نعرہ نہیں لگا پھر پاکستان کے امن کے لیے قوم کو متحد کرنے پر دھمکیوں سے لے کر، میرے سر کی قیمت لگانے تک کے تمام اقدامات کرنے والے کس کی ایما پر ہمیں اس آگ میں جھونکنے کی سہولتکاری کررہے تھے؟ میرے پاکستانیو! یہ میری جنگ نہیں ہے۔ یہ عمران خان کی جنگ بھی نہیں ہے۔ یہ آپ کی زندگیوں کا سوال ہے۔ یہ آگ نہ کل میری دہلیز پہ رُکی ہے نہ آج رکے گی۔ پرامن احتجاج کے ذریعے واضح پیغام دیں کہ ہم نہ کسی کی جنگ میں ایندھن بنیں گے۔ نا ہی کسی کے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اپنے گھر چھوڑیں گے۔ ۲۰۰۸-۲۰۰۹ کا ہمارا تجربہ ہے کہ آپریشن کا اعلان ہوتے ہی دہشت گرد پھیلا دیے جاتے ہیں۔ اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں۔ اس موجودہ سرکس کی آڑ میں اگر ایسی کوششیں ہوتی ہیں تو متحد ہوکر اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ہمارے گذشتہ کامیابی ہمارے اتحاد کے مرہونِ منت تھی لہذا سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اگر آپ کا بدترین مخالف بھی امن کا داعی ہے تو اپنے ذاتی اور سیاسی اختلاف پس پشت رکھیں۔ یاد رکھیں امن ہوگا تو یہ سیاستیں بھی ہونگی اور حکومتیں بھی ہونگی۔ ہم نے تب بھی کہا تھا اور آج بھی دہرا رہا ہوں۔ یہ آگ بیس سال پہلے بھی قبائلی علاقوں پر نہیں رکی تھی، یہ اب بھی پختونخواہ پر نہیں رکے گی۔ ہمیں پختون، پنجابی، سندھی، بلوچی سے بالاتر ہولر پاکستان کے امن کے لئے آواز اٹھانی ہوگی۔ اس وقت کوئی بھی حادثہ یا واقعہ ہوسکتا ہے آپ کی توجہ بٹانے کے لیے یا آپ کو تقسیم کرنے کے لیے۔ اس بات کا اشارہ آپ کو حالیہ ایک واقعہ کے وقت بھی دیا تھا۔ اپنی توجہ اپنے امن پر مرکوز رکھیں۔ میں جانتا ہوں میرے رفقاء میں سے بھی بہت سوں کو ۲۰۲۲ میں بھی میری باتیں بے وقوفانہ لگتی تھیں۔ کوئی ایک جانب سے خوف دلاتا تو کوئی دوسری جانب کے غیض سے آگاہ کرتا تھا مگر بعد میں آپ سب نے تسلیم کیا کہ میرا مؤقف درست تھا، اور بروقت نشاندہی نے ہمیں کتنے بڑے خطرے سے بچایا۔ میں امید کرتا ہوں کہ قوم کے ساتھ کھیلے جانے والی اس چھپن چھپائی کے لیے آپ اپنا کندھا فراہم کرنے کی مجرمانہ غفلت کےمرتکب نہیں ہوں گے۔ شعور اللہ کی نعمت کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے اگر آج اللہ نے ہمیں صحیح اور غلط کے مابین فرق کرنے کا شعور دیا ہے، تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے حرف، اپنی زبان، اپنے عمل سے اپنے اور اپنے لوگوں کے جان و مال کو کسی کی ہوس زر او اقتدار کی بھینٹ چھڑنے سے بچائیں۔
My deepest and most sincere gratitude to my leader, Imran Khan sb, along with party leadership for trusting me. To my people of NA-2 Swat, I promise to uphold the rule of law and protect our people. I will continue to stand firm with PTI and Khan sb’s vision for a naya Pakistan.
خدا را ۔۔۔ پاکستان سے محبت کرنے والے نوجوانوں کو دہشت گردی اور بغاوت کی شاہراہ کا مسافر نہ بناؤ ۔۔۔۔ مراد سعید ۔۔۔ اللہ تیرے ساتھ ہے ۔۔۔ تیرے دشمن در اصل امن دشمن اور وطن دشمن ہیں ۔۔۔ تو غیور و جسور جوانوں کے جگردار قبیلے کی آنکھ کا تارا ہے ۔۔۔ تو آبروئے وطن ہے
@MuradSaeedPTI
Murad Saeed is the 2nd Most popular leader in PTI after Imran Khan.
He is dominantly popular in Kpk followed by Punjab & Karachi among PTI supporters.
Asad Umar is the third most popular leader of PTI.
جب عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہو، بروقت اپنی عوام کو ریلیف فراہم ہو اور خدمت عین وقت پر پُورا ہو
تو پھر عوام اپنے قائد کی استقبال کچھ یوں کرتے ہیں...
@MuradSaeedPTI