یوسف علیہ السلام جانتے تھے کہ سارے دروازے بند ہیں پھر بھی بند دروازے کی طرف دوڑ پڑے تھے اور خدا نے ایک ایک کر کے سارے دروازے کھول دیئے.. کبھی اگر لگے کہ تمہارے لیے بھی دروازے بند ہیں تو جان لو کہ تمہارا اور یوسف کا رب ایک ہی ہے.
I want to make you a unique alphabet
In it I want
The rhythm of the rain,
The dust of the moon,
The sadness of the grey clouds,
The pain of the fallen willow leaves
Under the wheels of autumn.
#October
جب پاکستان اسلحے کی کوئی خریداری کرتا ہے تو اس کی خبر چند ارب ڈالر کی ہوتی ہے
زیادہ سے زیادہ 10 ارب ڈالر.
لیکن سعودیوں نے جب بھی ایسی کوئی ڈیل کی تو خبر سینکڑوں ارب ڈالر کی آئی
زیادہ سے زیادہ 10 ارب ڈالر کی خریداری کرنے والا پاکستان دنیا کی اہم ملٹری پاورز میں شمار ہوتا ہے
ہمیں اپنی سرزمین کے دفاع کے لئے کسی ملک سے فوج مانگنے کی کبھی ضرورت پیش آئی اور نہ ہی انشاءاللہ آئے گی
سعودی عرب کا یہ حال ہے کہ خود خادم الحرمین بنے بیٹھے ہیں
اور محافظ الحرمین انہیں باہر بلوانے پڑے
اب یہ انہی محافظ الحرمین سے کہہ رہے ہیں
"پایان حوثیوں سے لڑنا ہے !"
اور پایان کہہ رہے ہیں
"ہم ثابت کرسکتے ہیں کہ صرف حرمین کے تحفظ کی بات ہوئی تھی"
یہ سن کر لاڈلۃ الحرمین نے ان سے مدد مانگی..
٭ امریکہ
٭ روس
٭ چین
٭ ملیشیا
٭ مصر
٭ شامی ال ق ا ع د ہ
اور ان سب نے ٹھینگا دکھا دیا
اگر عالمی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو یورپ چھوڑیئے، مسلم ممالک تک کو سعودی صورتحال پر کوئی پریشانی نہیں.
آپ کو کسی مسلم ملک کی جانب سے بھاگ دوڑ تو کجا، مذمت تک نظر نہیں آئے گی
سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟
وجہ بالکل واضح ہے !
چین اور روس جیسے بڑے ممالک کے صدور بھی آئے روز کسی نہ کسی ملک کے دورے پر ہوتے ہیں
ماسکو اور بیجنگ میں بھی مختلف سربراہان مملکت کے طیارے لینڈ ہو رہے ہوتے ہیں
ملاقاتیں اور سٹیٹ ڈنر چل رہے ہوتے ہیں
کیوں ؟ کیونکہ تنہاء جینا ممکن نہیں ہوتا، آپ مشکل میں دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو وہ بھی وقت آنے پر آپ کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں
اور اس کے لئے بین الاقوامی تعلقات قائم کئے جاتے ہیں
آپ کو سعودی بادشاہ یا ولی عہد جب بھی کسی غیر ملکی دورے پر ملیں گے وہ ممالک بس یہ تین ہوں گے
٭ امریکہ
٭ برطانیہ
٭ فرانس
یعنی غریب غربا چھوڑیئے، آل سعود نے کبھی جرمنی اور اٹلی سمیت یورپین ممالک کو بھی گھاس نہ ڈالی
انہیں لگتا تھا کہ ہمارے پاس پیسہ بہت، ہم کچھ بھی خرید سکتے ہیں
سو یہ پچھلے 80 سال سے بس آڈر پر پانی، کھانا، گاڑی، جہاز اور اسلحہ منگواتے رہے اور خوش تھے کہ یہ نعمتیں اس لئے برس رہی ہیں کہ
"نحن ابناء اللہ"
سو یہ بھی سمجھ بیٹھے کہ ہماری سکیورٹی کے لئے سدیس کی دعائیں کافی ہیں
اب ان پر واضح ہو رہا ہے کہ آپ پیسے سے مال اور اہلحدیث تو خرید سکتے ہیں مگر سیکیورٹی نہیں.
جن اہلحدیثوں کو یہ پچاس سال سے پال رہے تھے، انہی کو حوثیوں سے لڑوا کر دکھا دیں، ہم مان جائیں گے
لکھ کر رکھ لیجئے !
سب تقریریں ہی کریں گے، اور یہ گھسے پٹے جملے دہرائیں گے
"مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں"
واللہ العظیم یہ بس کھڑے ہی رہیں گے، کریں گے کچھ نہیں !
بالخصوص قربان ہونے کی غلطی تو احسان الہی ظہیر مرحوم کا گھرانہ بھی نہیں کرے گا
اگر یقین نہ آئے تو یاد کیجئے یہاں پاکستان میں ایک اہلحدیث عسکری تنظیم تھی
وہی جو ایک ایک دن میں 186 انڈین فوجی ماردیا کرتی تھی
محمد بن سلمان ذرا، انہی کو جہاد کی کال دے کر دیکھ لے !
ذرا ہم بھی تو دیکھیں کہ ان تلوں میں کتنا تیل ہے ؟
تحریر: رعایت اللہ فاروقی
مجھے کچھ دن پہلے کسی زرائع نے بتایا اسحاق ڈار ہی خیبرپختونوا کابینہ ارکان فائنل کررہے ہیں تو مجھے یقین نہ آیا۔
خیر اب صوبہ میں ایک ایسے سابق سینٹر کو اہم عہدہ بھی دیا ہے جس نے اس وقت کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے 2014میں پانچ سو ملین ڈالرز کے مہنگے ترین بانڈز فلوٹ کرنے کے ہوش ربا ایشو کو سینٹ
میں اپنی تقریر میں بریک کیا تھا کہ کیسے جب انڈین ریلائنس کمپنی نے
صرف 2.25 % پر 800 ملین ڈالرز مارکیٹ سے اکٹھے کیے تو اس وقت ہی وزیرخزانہ ڈار صاحب 8.25 % سود پر کیسے مارکیٹ میں فلوٹ کیے تھے؟
یہ پاکستانی تاریخ کا مہنگا ترین بانڈ تھا۔ اس پر چوہدری شجاعت حسین نے انکشاف کیا تھا دراصل پاکستان سے چند بڑے خاندانوں /فرنٹ مین نے وہ بانڈز خریدے تھے کیونکہ پرافٹ بہت بڑا تھا اور مہنگے بانڈز فلوٹ کرنے کا مقصد بھی یہی تھا۔
اس پر سینٹ کی فنانس کمیٹی کے چیرپرسن سینٹر سلیم مانڈوی والا نے اپنی کمیٹی میں انکوائری شروع کی تھی کہ کس کس پاکستانی نے وہ بانڈز خریدے تھے ۔ سلیم مانڈوی والا نے اجلاس میں کہا تھا انہیں پتہ چلا تھا 70 ملین ڈالرز کا فگر تھا۔
اس پر بنکوں کو بلایا گیا۔ اس وقت کے سیکرٹری فنانس ڈاکٹر وقار مسعود کو کمیٹی نے بلایا کہ تفصیلات دیں کس کس نے پاکستان سے تاریخ کے یہ مہنگے بانڈز خریدے تھے۔ ڈاکٹر وقار نے تفصیلات دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ ڈار صاحب باس تھے اور ڈاکٹر وقار بھی اس میں شریک تھے۔
آج وہی سینٹر جنہوں نے وہ تفصیلات سامنے لائے تھے وہ صوبائی کابینہ میں شامل ہیں۔
@SenatorSaleem@Financegovpk@CMShehbaz@MIshaqDar50@BilalAKayani@StateBank_Pak@PalwashaKhan18@sherryrehman@abdul_aleemkhan@senatorMtalha
جب سچ کہنے کی آزادی نہ ہو اور اپنے ضمیر کے خلاف بولنا ممکن نہ ہو، تو خاموشی اختیار کر لینا بہتر ہے۔ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے بہتر ہے کہ انسان خاموش رہے ۔
میری غیر موجودگی میں مجھے یاد کرنے، خیریت دریافت کرنے اور محبت بھرے پیغامات بھیجنے والے تمام احباب کا تہِ دل سے شکریہ ۔
@AbbassFr پاکستان میں جو مسلئہ سب سے بڑا ہے کہ جسے ڈرائیونگڈ ڈھنگ کی آتی ہے اس نے اپنے علاوہ سڑک پر چلنے والی ہر چیز کی احتیاط بھی خود کرنی ہے کیونکہ اگلے نے تے کہہ دینا کہ پائین مینوں کی پتہ تسی غلط پاسے بیہہ کے گڈی چلاندے پئے سی