چینی مافیا بچ نہیں سکتا۔
ملک میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔۔۔
یہ دونوں خبریں پاکستان بنتے ہی وجود میں آ گئیں تھیں اور جب تک پاکستان قائم دائم ہے یہ خبریں بھی ٹی وی ، اخبار ، ریڈیو ، اور سوشل میڈیا کی زینت رہیں گی
یزیدیت کے تقاضے سبھی تو پورے ہیں
اب اپنے شہر کو میدانِ کربلا سمجھو
کہیں ہیں ابنِ زیاد اور کہیں ہیں شِمْر لَعِین
ہر ایک شخص کو تُم جنگ کا مرحلہ سمجھو
تُمہاری نَسْل سے جو چھین لے جَوازِ حیات
اُسے اِس عَہد کا بَد بَخت حُرملہ سمجھو
انسانی دنیا میں اصل حکمران عوام ہوتی ہے جو ریاست کی پرورش کرتے ہیں
جبکہ وحشی دنیا میں اصل مجرم عوام ہوتے ہیں، جو اپنے ظالم قابض لوگوں کی پرورش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں
ٹویٹر کیوں بند ہے؟؟
ٹویٹر بند ہونے کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ لیاقت چٹھہ نے دھاندلی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان پر سوشل میڈیا کا بھی دباؤ تھا،اس لیے سوچا گیا کہ سوشل میڈیا کی سب سے موثر ایپ ٹویٹر کو ڈاون کردیا جائے، اس سے پہلے کہ سوشل میڈیا پر ماحول گرم رہے اور کسی اور کا ضمیر جاگ جائے،
لیکن دوسری وجہ اصل وجہ ہے،
پی ٹی آئی نے ہر ضلع کے ڈی آر او اور ہر حلقے کے آر او کا نام اور تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دی ہیں، جس کے بعد بہت سے لوگ ان بیوروکریٹس کی فیملی کا بتا رہے ہیں کہ اس کا بھائی فلاں ہے، اس کا باپ فلاں ہے اور اس کے کزن فلاں ہیں،
اسی کے ساتھ ان بیوروکریٹس کے خلاف سوشل بائیکاٹ کی مہم بہت زور پکڑ گئی ہے ،
اس پر بیوروکریٹس نے ہاتھ کھڑے کرنے شروع کردیے ہیں،
بیوروکریٹس نے جو شکایات کی ہیں، ان میں سے صرف دو سن لیجیے،
ایک بیوروکریٹ کے مطابق اس کو اپنے بچے سکول سے نکلوانے پڑ گئے ہیں، کیونکہ اس کے بچوں کے کلاس فیلو بچوں نے اس بیوروکریٹ کے بچوں سے کہا کہ تمہارے پاپا چور ہیں، انہوں نے پیسے لیے ہیں، "تمہارے پاپا اچھے بچے نہیں ہیں"،
اس کی وجہ سے اس بیوروکریٹ کو بچے سکول سے نکلوانے پڑے اور ان کے مطابق ان کو اب کسی اور شہر میں بچوں کو داخل کرانا پڑے گا،
ایک اور بیوروکریٹ نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد گھر کے قریب ایک مسجد میں پانچ وقت نماز با جماعت ادا کرتے تھے، لیکن اب ان کو مسجد میں نمازیوں کے تلخ سوالات کا سامنا ہے، اس لیے وہ اب مسجد نہیں جا پارہے،
اس ساری صورتحال میں سسٹم کا حصہ بیوروکریٹس نے بہت سخت شکایات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اب بس ہو چکی ہے، بات ہمارے گھروں تک، ہمارے بچوں اور والدین تک آن پہنچی ہے،
یہی وجہ ہے کہ مریم نواز اور انوار الحق کاکڑ سے بیوروکریسی کے حق میں بیانات دلوائے گئے ہیں، لیکن ان دونوں کے بیانات ان کی اپنی ذات اور جماعت کو کوئی فائدہ نہیں دے سکے تو کسی تیسرے فریق کو کیا فائدہ ملنا ہے،
بلکہ یہ دونوں جس کے بھی حق میں بیان دیں گے، لوگ ان کی مخالفت شروع کردیں گے،
ٹویٹر ڈاون کرنے کا مقصد بیوروکریسی کے خلاف جاری مہم کو لگام دینا ہے لیکن وہ مہم پاکستان سے زیادہ اوورسیز پاکستانی چلا رہے ہیں اور ان میں سے کسی ملک میں ٹویٹر ڈاون نہیں کرایا جا سکتا،
بہتر یہی ہے کہ جو بیوروکریٹس ایماندار ہیں، وہ ویڈیوز ریکارڈ کریں ،اپنے سامنے قرآن مجید رکھ کر گواہی دیں، یقیناً ان کے خلاف مہم فوری طور پر رک جائے گی
عمران خان کا مقابلہ اس غلیظ ذہنت والے دشمنوں سے ہے
جن کا ریحام خان اور حاجرہ خان کی کتابوں پر یقین ہے۔
لیکن عثمان ڈار کی والدہ کا اللہ کی کتاب قران پر ہاتھ رکھ کر اپنی جیت کی گواہی دینے پر یقین نہیں
#ووٹ_پر_ڈاکہ_نامنظور
عمران خان کا مقابلہ اس غلیظ ذہنت والے دشمنوں سے ہے
جن کا ریحام خان اور حاجرہ خان کی کتابوں پر یقین ہے۔
لیکن عثمان ڈار کی والدہ کا اللہ کی کتاب قران پر ہاتھ رکھ کر اپنی جیت کی گواہی دینے پر یقین نہیں
#ووٹ_پر_ڈاکہ_نامنظور