“میں نے ایک ساتھی سے رابطہ کیا جو آسانی سے پمز میں داخل ہوسکتا تھا۔ اس کو شفیق کی تصویر بھیجی اور پوچھا کہ کیا اس شخص کی ڈیڈ باڈی پمز میں موجود ہے۔ اس نوجوان ساتھی نے تھوڑی ہی دیر میں مجھے شفیق سمیت تین افراد کی ڈیڈ باڈیز کی ویڈیو بھجوا دی اور بتایا کہ اس شخص کا پورا نام شفیق خان لُنڈ ہے اور یہ ڈیرہ غازی خان سے تحریک انصاف کے احتجاج میں شرکت کیلئے آیا تھا۔ ساتھی نے بتایا کہ ہاسپٹل میں ڈیڈ باڈی تو موجود ہے لیکن ہاسپٹل کا عملہ ڈیڈ باڈی کی موجودگی سے انکاری ہے کیونکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کر دیا ہے کہ 26نومبر کے کریک ڈائون میں تحریک انصاف کا کوئی کارکن بھی جان سے نہیں گیا”۔ حامد میر کا روزنامہ جنگ میں کالم
حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کنٹینر پر بیٹھا شخص ٹک ٹاک بنا رہا تھا۔ ٹھیک ہے ہم مان لیتے۔ چلو ہم کہتے ہیں کہ وہ ناچ رہا تھا۔ لیکن کیا یہ طریقہ کار تھا اسکو کنٹینر سے ہٹانے کا ؟؟ اسکو کنٹینر سے گرانا ہی حل تھا ؟ ان کو اس بات پے شرم نہیں ارہی کہ اسلو دکھا دیا بلکہ یہ صفایا اس بات کی دے رہے کہ وہ نماز نہیں ٹک ٹاک بنا رہا تھا۔ افسوس
We all know who has forcibly disappeared Shakir Awan.
یہ جو نامعلوم ہے یہ ہمیں معلوم ہے
The abductors need to realise voices cannot be suppressed like this.
Anger in people is increasing every day. Impunity for enforced disappearances must end.
Accountability NOW!
رینجرز اہلکاروں کے گاڑی تلے کچلنے کے جس وقوعے کی بنیاد پر پی ٹی آئی والوں کے خلاف پراپیگنڈہ کرکے گولیوں سے بھونا گیا اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بات اس رات وقوعے کے فوری بعد اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں کے قریب سمجھے جانے والے صحافی بھی کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود مظاہرین کو سیدھی گولیاں ماردی گئیں۔
اب پاکستان کے ممتاز تحقیقاتی صحافی اور جیو ٹی وی کے لئے کام کرنے والے اعزاز سید بھی مکمل تفصیلات سامنے لے آئے ہیں کہ رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلنے والے شخص کا پی ٹی آئی سے دور دور تعلق نہیں نکلا۔
اب مظلوموں کو قتل کرنے کا حساب کون دے گا؟
@AzazSyed@PTIofficial@TararAttaullah
طلعت حسین نہ صرف نیچ، گھٹیا، بدبودار شخص ہے بلکہ بدیانت بھی ہے۔
کرم ایجنسی/پارہ چنار میں مارے جانے والے 100 سے زائد لوگوں کا بھی مذاق اڑایا اور اسلام آباد کے مظاہرین اور جماعت سے تو اس کا خاص بغض اور نفرت ہے ہی۔
ہمارے زیادہ تر سینئرز غلاظت کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فیک ویڈیوز کا ہے۔ بغیر کسی تصدیق کے سب فیک یا پرانی ویڈیو شیئر کر رہے ہیں۔ جنکا تحریک انصاف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ایسی ویڈیوز سے تکلیف تحریک انصاف کو ہی ہوگی۔ اگر اس حکومت کو فرق پڑتا تو وہ کچھ کرتے ہی نا۔
افسوس اس بات کا ہے اس دفعہ ہمیں گولیاں ماریں، میں اُن سپاہیوں سے مخاطب ہوں ایسا کام آپ کے بچے کیساتھ ہوتا تو کون سی آہ نکلتی؟ تمہیں انشا اللہ سکون نہیں ملےگا، علی امین گنڈا پور۔۔۔!!!