I mentioned earlier & permit me to repeat that Shaan Masood is one of the available solution for Pakistan ODI batting lineup.
List A record 17/💯s & 39/50s career average 53.
سیاست میں باوجود اختلاف کے شرافت اور مروت ہی سیاست کا اصل حسن ہے۔
یہی حسنِ اخلاق ہی نبی پاک ﷺ کی سنت ہے۔
محترم مولانا قاسم صاحب ہمارے سیاسی حریف ضرور ہیں لیکن نہایت قابل احترام ہیں۔ 2013 سے تین بار ان سے قومی اسمبلی کی سیٹ پہ ہمارا مقابلہ ہوا ہے۔ الیکشن تو گزر جاتا ہے لیکن کبھی بھی ان کے احترام میں کمی نہیں آنے دی اور انہوں نے بھی ہمیشہ شفقت و محبت فرمائی ۔
مولانا صاحب حج سے واپس تشریف لائے تھے۔
ہم سب انکے مدرسہ جا رہے تھے مبارک باد دینے کہ اچانک ان سے راستہ میں ہی ملاقات ہو گئی۔ اللّٰہ سے انکی صحت و درازئی عمر کے لیئے دعا گو ہوں۔
پیغام بس یہی ہے کہ سیاست کا مطلب ذاتی لڑائی کبھی نہیں ہوتا۔سیاست ضرور کیجئے لیکن ایک دوسرے کے باہمی احترام میں کبھی بھی کمی نہ آنے دیجئے۔
یاد رکھیے ہارجیت لوگ بھول جاتے ہیں لیکن رویے یاد رہ جاتے ہیں۔
سوات میں میرے آبائی علاقے سے علیمہ خان صاحبہ کا بیان سُنا، سب سے پہلے تو میں اس بات پر اپنے لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں جنہوں نے ایک رات کےشارٹ نوٹس پر میرے لیڈر کی بہن کا شاندار استقبال کیا۔ خان صاحب کی وساطت سے ہم سب کے دلوں میں ان کا بہت احترام ہے۔ میں ان کے مجھ پر اس قدر اعتماد پر بھی مشکور ہوں کہ ان کی رائے میں میری موجودگی سے عمران خان کی رہائی کی تحریک کو وہ تقویت ملے گی جو تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور اتنی تجربہ کار اور قابل قیادت کے ہوتے ہوئے نہیں ممکن ہو پائ۔ جب بھی خان صاحب کی میرے حوالے سے ہدایات میں تبدیلی سے مجھے، ان کے مصدقہ زرائع سے تصدیق ملی، میں انشاء اللہ ان کے اور اپنی قوم کے اس بھروسے کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گا۔ تب تک اور ہمیشہ، ہر تحریک اور ہر مرحلے پر عمران خان کی پارٹی اور عمران خان صاحب کے خاندان کو میری اور میرے لوگوں کی ویسی ہی حمایت میسر ہوگی جس کا مظاہرہ آپ نے اس ہفتہ مالاکنڈ ریجن، آج سوات میں اور اب سے کچھ دیر بعد بونیر میں دیکھیں گے۔
رہی بات اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تو میری قوم جانتی ہے کہ کل بھی اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا اور آج بھی اپنے قائد اور اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوں چاہے میں اپنے لوگوں کے مابین موجود ہوں یا نہیں میں نے نہ ان کے حقوق اور ان کی زندگیوں کا سودا کرنے کی اجازت کسی کو دی ہی، نا آگے کبھی دوں گا۔ دہشت گردوں کو نکالنے اپنا امن قائم کرنے،کسٹم ایکٹ کے خاتمے اور دیگر ترقی سے یہ ثابت شدہ اور میری قوم اس کی گواہ ہے۔
فضل الرحمان کے بیان پر صرف سیاسی رولا اور عمران خان کی بہن کے بیان پر اداروں کے نوٹس اور طلبی۔
یاد رہے کہ نا صرف فضل الرحمان کا دیا بیان کئی گنا زیادہ سخت ہے بلکہ وہ انکی پوری قیادت اس پر ڈٹ کر قانونی کاروائی کے طعنے بھی دے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ عمران خان کی بہن سے ہے۔
اس سے 2 چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
1: اسٹیبلشمنٹ فضل الرحمان کو اپنے لیے فل الحال خطرہ نہیں سمجھتی۔
2: عمران خان کا خوف اب بھی انکے اعصاب پر طاری ہے۔
چوہدری احسن بھون نام ہی کافی ہے
یہی دیکھ لیں ابھی وہ جسٹس حسن اظہر رضوی کے بنچ میں ان کے سامنے کھڑے تھے ریلیف بھی لے لیا
تھوڑی دیر بعد آج ہی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز تعیناتی کے لئے انٹرویو پینل میں جسٹس حسن اظہر رضوی کے دائیں سائیڈ بیٹھ کر انٹرویو بھی لے رہیں ہوں گے
20 جولائی کو انہی جسٹس حسن اظہر رضوی اور دیگر کے ساتھ بیٹھ کر جج تعینات کر رہے ہوں گے پھر کچھ عرصہ بعد انہی ججز کے سامنے پیش ہو رہے ہوں گے
مفادات کا تو بالکل بھی ٹکروا نہیں ہے
26 ویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس مظہر نے تین بڑے فیصلے دیئے ۔
پہلا :سپریم کورٹ کے آرڈر کو کالعدم قرار دے کر سویلین کے ملٹری ٹرائلز کو جائز قرار دیا ۔
دوسرا: اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز بشمول جسٹس ڈوگر کی ٹرانسفر کو قانونی قرار دے دیا۔
تیسرا: پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے کے حوالے سے اپنے ہی فیصلے کی نظر ثانی کی ۔
کیا اتنی سی بات کہنے سے ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے کہ یہ ہندوستان کررہاہے؟؟
کیا اس بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہندوستان کو روکنے میں ناکام ہوگئے ہیں؟؟؟
کیا یہ ٹوٹل سیکورٹی/انٹیلیجنس ناکامی نہیں ہے؟؟
کیا اس بدترین دہشتگردی پر پارلیمنٹ کا مشترک اجلاس بلایا جائے گا؟؟؟
جب حقیقی حکومت کے بجائے فارم 47 کے جعلی حکمران ہونگے تو صورتحال اسی طرح بے قابو رہے گی۔
بلوچستان کا پشتون، بلوچ دونوں بیلٹ میں رٹ آف دی گورنمنٹ ختم ہوچکی ہے۔
خدارا بیانات سے،بلند بانگ دعووں سے آآگے بڑھ کر ملک کو بچائیے ،عوام کو امن دینے کیلئے کوئی حقیقی، ٹھوس، جامع پلان دیجئے۔
سیاسی انتقام، عدالتوں، پارلیمنٹ کو فتح کرنے ،میڈیا اور اختلافی آوازوں کو دبانے سے واپس ہوجائیے۔
آج ایک ایسے مقدمے میں یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، محمود الرشید اور عمر چیمہ کو سزا سنا دی گئ جو جس واقعے کا مقدمہ تھا اس دن یہ چاروں پہلے سے ہی گرفتار ہو کر جیل میں تھے اور تفتیشی نے کہا میرے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں! کبھی تو ان کو بھی انصاف ملے گا انشاءاللہ
اگلا الیکشن فری اینڈ فیئر ہوا تو ان کو لگے گا کہ 17 سیٹیں بہت ہوا کرتی تھیں یہ سنگل ڈیجیٹ میں کام جائے گا اور یہ بات میں ان کے ساتھ ہمدردی کی بنیاد پہ کہہ رہا ہوں ! رانا عاطف 🤣
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
ایک اسد قیصر صاحب کو روکنے کے لیے آج ایئرپورٹ روڈ اس لیے بند کیا گیا تاکہ فلائٹ مس ہو سکے۔ ہم پی ٹی آئی کے ورکرز کا ایک ہی دکھ ہے کہ مدِ مقابل ملتے تو باظرف اور بہادر ملتے، مگر افسوس کہ ہمارا واسطہ کم ظرف بے غیرت اور گرے ہوئے لوگوں سے ہے۔
اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز کو جلد رہا نہیں کیا گیا تو گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت اور جو وہاں پر جعلی حکومت بنانے کیلئے سرگرم ہیں اُن سے اپنے پارلیمینٹیرین کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں سوال کرنے وہاں پر خود جاؤنگا۔
یہ رویے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے رویوں سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایسے اقدامات تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ جن کا کام عوامی مینڈیٹ کی حفاظت ہے وہ ہمیشہ پاکستانیوں کے مینڈیٹ پر ڈھاکہ ڈالتے ہیں۔الیکشن میں لیول پلینگ فیلڈ نا دینے اور زور زبردستی، ظلم و جبر سے عمران خان صاحب کی پارٹی کو مائنس کرنے سے جمہوری نظام کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلی گلگت بلتستان میرے کال کا جواب نہیں دے رہے۔ یہ رویہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہے۔ گلگت بلتستان کو ہم نو گو ایریا نہیں بننے دیں گے۔ گلگت بلتستان غیرتمند لوگوں کا ہے۔ وہاں کے لوگ مہمان نواز ہیں۔ وہ اپنے مہمانوں کی اس بے عزتی کا بدلہ الیکشن میں ووٹ کے زریعے لے گی انشاءاللہ۔
اپریل 2022 میں وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے پر میری جانب سے بیرونی مداخلت (سائفر) پر پیش تحریکِ عدم اعتماد کو آئین کے منافی قرار دے کر مسترد کرنے اور صدرِ مملکت کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا، تحریکِ عدم اعتماد پر پہلے تو سپریم کورٹ نے اپنی حدود سے تجاوز کر کے پارلیمنٹ جو کہ ایک سپریم ادارہ ہے اس میں مداخلت کی اور پاکستان کے خلاف ہونے والی بیرونی و اندرونی سازش کو روکنے کے لیے دی گئی میری رولنگ کو غیر قانونی قرار دیا، اس کے بعد 12 اپریل، 2022 سے آج ( 4 سال سے زائد وقت) تک پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کے پاس میری بطورِ قائم مقام سپیکر بھیجی ہوئی سائفر کی سربمہر کاپی تحقیقات کے لیے پڑی ہے جو کہ ان کے سیکرٹری نے آفیشلی وصول کر کے سائن بھی کیے لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے سائفر اور بیرونی مداخلت کی بڑی سہولت کاری کرتے ہوئے اس پر آج تک تحقیقات نہیں کیں، پاکستانی کی بربادی میں حصہ ڈالنے پر سپریم کورٹ کے یہ تمام ججز بھی آرٹیکل 6 کے حقدار ہیں۔
#سائفر_ایک_حقیقت