فارم 47 کی پیداوار اور ان کے سہولت کار جتنا بھی زور لگا لیں، اندر کی خبریں یہی ہیں کہ نظام اندر سے لرز چکا ہے۔ عادل راجہ اور دیگر آزاد صحافیوں نے جو حقائق قوم کے سامنے رکھے، آج سچ ثابت ہو رہے ہیں۔
سچائی کو دبانے والے خود اپنے ہی جال میں پھنس چکے ہیں! Agree? 🇵🇰👇
This picture is not from October 7, 2023.
This picture is from today, July 24, 2026.
A Muslim Palestinian sheikh from Samaria murdering two Jews.
Believing you can make peace with these savages is utter madness.
وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی اور کرک سے منتخب سجاد بارکوال کے درمیان پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مکالمہ
صوبے میں آپریشن چل رہے ہیں
لوگ بے گھر ہیں
لوگوں میں غصہ ہے
ڈرون حملے ہو رہے ہیں
اس پر ہماری حکومت خاموش ہے
پارٹی کا ایک مذمتی بیان تک نہیں آتا
سجاد بارکوال کا اعتراض
کیا پہلے بھی کبھی آپ نے بات کی ہے؟ وزیر اعلی سہیل آفریدی کا سوال
آپ بھی تو کابینہ کے رکن تھے
کیا آپ کو نہیں معلوم؟
میں نے کہاں نہیں بولا؟
نکالیں ریکارڈاور دیکھ لیں کہ میں نے کیا کیا بولا ہے
سجاد بارکوال کا جواب
میں اس وقت ممبر نہیں تھا، وزیر اعلی سہیل آفریدی
ایک سال تک تو ممبر تھے
باقی آپ کو نہیں معلوم تو نکال لیں ریکارڈ
اسمبلی کا ریکارڈ
کابینہ کا ریکارڈ دیکھ لیں
میں نے صوبے میں عوام کیلئے سب سے زیادہ بات کی ہے
سجاد بارکوال
کیونکہ اس وقت حکومت فریق بن کر کیس کی پیروی کی تھی اور مجرموں کو قانون کی گرفت میں لیا تھا یہاں مجرموں کے سرپرست اعلیٰ ہی حکومت میں ہیں تو حکومت کیا پیروی کرے گی وہ تو مجرموں کو بچائے گی
لاہور غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ ، خواتین کے 164 کے بیانات پڑھ کر معلوم ہوتا ہے اسلام آباد کے عثمان مرزا جنسی تشدد کیس سے بڑا کیس ہے
اب پڑھ لیں عثمان مرزا کیس میں صلح نامہ کے باجود ، ایف آئی آر میں تاخیر کے باوجود کیا ہوا تھا
اسلام آباد ای الیون عثمان مرزا جنسی تشدد کیس کا واقعہ نومبر 2020 میں ہوا تھا ایف آئی آر جولائی 2021 کو درج ہوئی تھی متاثرہ لڑکا لڑکی نے ایک اسٹیج پر ملزمان کے ساتھ صلح کر لی تھی عدالت کے سامنے صلح کا بیان بھی دے دیا تھا کہ ہم کیس نہیں چلانا چاہتے ہمارا ملزمان سے کوئی مسئلہ نہیں
اس کے باوجود اس وقت کی سرکار نے کیس کی خود پیروی کی تھی ڈیجٹیل شواہد موجود تھے جن کی بنیاد پر ملزموں کو پہلے ٹرائل کورٹ سے عمر قید ہوئی جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھی تھی اب ان کی اپیلیں سپریم کورٹ میں ہیں اور وہ جیلوں میں ہیں
🚨 Appeal to @NLinPakistan @VenezuelaInPak @ministerBZ@MariaCorinaYA@DutchNewsNL:
Raza Dar (grandson of Deputy PM Ishaq Dar) is accused of kidnapping & assaulting 2 women from 🇳🇱 & 🇻🇪 in Lahore. Due to lack of rule of law, we need intl pressure for swift justice!
اگرچہ کے الادین نے الفاظ کا چناو مناسب نھیں ھے انکو یہ الفاظ استعمال نھیں کرنے چاھئیں۔۔مگر سہیل آفریدی کا قاتل اور جعلی رجیم کے ساتھ بیٹھنا بہت تکلیف کا باعث ھے۔۔۔
جب تم اٹھاۓ گے یہی ٹک ٹاکرز اپنے وزیراعلی کے خلاف بول رہے تھے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ کتا بننا نظر نہیں آتا مگر اسے اگر کتا کہہ دیا جاۓ تو وہ ضرور نظر آجاتا ہے ، ہر وہ شخص کتے سے بد تر ہے جو عمران خان کو جیل میں ڈالنے والوں کے ساتھ مفاہمت کر رہا ہے چاہے سہیل آفریدی ہو یا آپ جیسے پالشی ۔۔۔
This video emerging from Karachi is absolutely shameful. Showing immense courage, girls traveling on a bus filmed a motorcyclist who was openly performing an explicit, indecent act in front of them in broad daylight. Women are not safe even on public transport or streets in the 'Islamic Republic of Pakistan. 🤬
تلخ حقیقت۔۔۔۔
میری اس ٹویٹ پر بہت بری طرح سے مجھے اور میری فیملی کو ٹارگٹ کیا جائے گا اور کروایا بھی جائے گا۔۔۔۔
جب سے شاہد خٹک کو آئی ایس ایف کا چیف آرگنائزر بنایا گیا ہے تب سے آئی ایس ایف مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے۔۔۔۔
مجھے آئی ایس ایف کے کافی لوگ اس وجہ سے بھی گالیاں دیتے ہیں کیونکہ میں شاہد خٹک کی اصلیت دنیا کو بتاتا ہوں
کیا ڈٹے ہوئے ہیں؟ تمہاری طرح صرف سوشل میڈیا پر سٹنٹس ہی کرتا ہے۔ سب مل کر فوج کی سہولت کاری میں مصروف ہیں۔ عمران خان نے کہا تھا کہ اگر مجھے آئیسولیٹ کرتے ہیں تو کے پی بند کر دینا۔ کیا تم لوگوں نے کیا؟
میں گلگت بلتستان میں صرف ایک شخص کو جانتا ہوں، جن کا نام خالد خورشید ہے۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ خان صاحب کے سیاسی فیصلوں میں سب سے بہترین فیصلہ خالد خورشید صاحب (@AbdulKhalidPTI) کو وزیراعلیٰ منتخب کرنا تھا۔ پارٹی نے بہت سے لوگوں پر احسان کیا، لیکن انہوں نے اس احسان کا بدلہ سود سمیت واپس کیا۔ خان صاحب کے ساتھ وفاداری نبھانے کی وجہ سے انہیں وزیراعلیٰ کی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑا۔ وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، لیکن پھر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے گلگت بلتستان کے عوام سے امید پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایک غیرت مند قوم ہیں؛ وہ ووٹ بھی دیں گے اور اپنے ووٹ کا تحفظ بھی کریں گے۔ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے، تاریخ بہادروں، اصول پرستوں اور ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ خالد خورشید صاحب اب وزیراعلیٰ تو نہیں ہیں، لیکن سارے پاکستان میں جو قدر اور عزت ان کی ہے، وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ مجھے ان کے ساتھ اپنے تعلق پر فخر ہے۔
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
اور تم لوگ بس عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر اسمبلیوں میں عیاشیاں کرنا اور جلسے جلسے کھیلنا۔ عوام کو ملا کر احتجاجی تحریک نا چلانا۔ عمران خان کے غداروں میر جعفر میر صادقو۔ اگر زرہ سی بھی شرم و حیا ہے تو ڈوب کے مر جاو
حکومت اور ان کو لانے والوں نے سولر کے لیے لائسنس ضروری قرار دے کر سورج پر ٹیکس لگا دیا ہے۔ اب اگلی باری ہوا پر ٹیکس لگنے کی ہے۔ عمران خان اس لیے کہتا تھا کہ میں تو برداشت کر لوں گا، مگر پاکستانی قوم برداشت نہیں کر سکے گی۔
🔥🚨بڑی بریکینگ نیوز !!🔥🚨
🚨 اہم انکشاف ۔!!🔥
بیرسٹر سلمان صفدر سے ملاقات میں عمران خان نے تحریک انصاف کو پارلیمنٹ سے مستعفیٰ ہونے کا حکم دے دیا ہے
اور یہ حکم عمران خان پہلے بھی پلان میں شئیر کر چکے تھے ۔ صحافی صدیق جان🚨✌️🔥