پنجاب حکومت نے وفاق کو بڑا حصہ دینے کے باوجود ایک بہترین ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے۔ بجٹ میں سیاحت کے لیے 642 ارب، زراعت کے لیے 586 ارب اور ستھرا پنجاب کے لیے 170 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ماحول دوستی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ بڑھا کر 99% کر دی گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں 250 ارب روپے سے زائد کی بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس سے ملکی معیشت کو 6 ارب 80 کروڑ ڈالرز کی برآمدات حاصل ہوں گی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے شاندار مواقع پیدا ہوں گے۔
#PunjabBudget2026
پنجاب حکومت نے پاکستان کی معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہوئے وفاق کے لیے 700 ارب روپے کی قربانی دی لیکن اس کے باوجود مریم نواز حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا۔ تعلیم کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500 ارب روپے سے زائد کی تاریخی رقم مختص کرنا ایک انقلابی قدم ہے جو ورکنگ کلاس کے مسائل کو کم کرنے اور عام آدمی کا معیارِ زندگی بدلنے میں اہم ثابت ہوگا۔
#PunjabBudget2026
پاکستان نے عالمی سطح پر اعتماد اور سفارت کاری کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مختلف ممالک نے پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اسے ایک ثالث کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت سمیت خطے میں کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا ہے۔ پاکستان کی قیادت کو عالمی امن کے لیے کردار ادا کرنے پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان نے ایک ڈپلومیٹک وکٹری میں اپنا رول پلے کیا ہے اور اس کو وکٹری سٹینڈ تک پہنچانے میں جس طرح اپنا کردار ادا کیا ہے میرا خیال ہے کہ 78 سال میں اگر اس سے زیادہ فخریہ لمحہ آیا تھا تو بھارت کے خلاف ہماری جنگ میں ہماری جیت اور فتح تھی۔ اللہ کے فضل سے۔ ایک سال کے اندر دو مرحلے طے ہوئے جنہوں نے پاکستان کی عظمت، وطنِ عزیز کی عزت و آبرو کو دنیا میں ریکنائز کرایا۔ اس پر افواج، افواج کی لیڈرشپ، فیلڈ مارشل، پرائم منسٹر اور پوری ٹیم کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے نہایت دانشمندی سے ناممکن کو ممکن بنایا۔ پاکستان کا نام بلند ہوا ہے تو یہ سب پاکستانیوں کے لیے ہے اور ہمیں بطور قوم اس پر فخر کرنا چاہیے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت لاہور میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد جموں کشمیر کی سیاسی و انتظامی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور آزاد کشمیر کی سینئر قیادت نے شرکت کی۔ قائد محمد نواز شریف نے مسئلہ کشمیر پر پارٹی کے واضح موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ان کے آئینی حقوق اور تعمیر و ترقی کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے حالیہ واقعات میں جانی نقصان پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری آئین ایکٹ 1974 کے تحت عوام کو مکمل شہری آزادیاں حاصل ہیں، اس لیے حقوق کے لیے آئین کے دائرے میں رہ کر پرامن جدوجہد کی جائے۔ انہوں نے دھرنے ختم کر کے بامقصد مذاکرات کی اپیل کی تاکہ تمام فریقین مل کر امن کی بحالی اور انتخابی عمل کو آگے بڑھا سکیں۔ اجلاس میں شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور ملک میں رواداری کے فروغ پر زور دیا گیا، جبکہ صدر مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں انتخابی مہم کو منظم کرنے پر وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کی خدمات کو سراہا۔
محکموں کی رائٹ سائزنگ کی گئی جسے سمارٹ سائزنگ بھی کہا جاتا ہے۔ 752 ارب روپے کے اے ڈی پی کو اس انداز سے تقسیم کیا گیا کہ سوشل سیکٹر، جو وزیراعلیٰ کی ترجیح ہے، اس میں نہ کٹ لگا اور نہ ہی اس کا شیئر کم ہوا۔
پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سطح پر 23-24 میں تقریباً 3,870 پرانی اسکیمیں ختم کی گئیں جن کا مالی بوجھ 915 ارب روپے تھا۔ 24-25 میں 6,348 اسکیمیں بند کر کے 1,813 ارب اور 25-26 میں 2,568 اسکیمیں ختم کر کے 1,129 ارب روپے کا مالی اثر کم کیا گیا۔ مجموعی طور پر 12,786 اسکیمیں ختم کر کے تقریباً 3,857 ارب روپے کا بوجھ کم کیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب
#PunjabBudget2026
پچھلے ڈھائی سال میں پنجاب حکومت نے عوام پر کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر صرف ٹیکس بیس میں اضافہ، اداروں کی وسعت اور بہتر گورننس کے ذریعے تاریخی اہداف حاصل کیے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی متحرک قیادت میں پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 32 فیصد کی شاندار گروتھ ریکارڈ کی، جس سے ٹیکس ریونیو 201 بلین سے بڑھ کر 370 بلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ریونیو میں بھی مثالی اضافہ ہوا ہے جو 39 بلین سے بڑھ کر 77 بلین روپے ہو چکا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب
#PunjabBudget2026
اس دفعہ کا بجٹ ایک مشکل مالی صورتحال میں تیار کیا گیا اور سالانہ ترقیاتی پروگرام کو ترتیب دینا ایک بڑا چیلنج تھا۔
پنجاب کا مجموعی مالی حجم 5,903.5 ارب روپے رہا جس میں 752 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام شامل ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں نہ صرف صوبائی ترقیاتی ترجیحات کو برقرار رکھا گیا بلکہ وفاق کی معاونت بھی کی گئی۔
واٹر سیکیورٹی، ڈیٹ سروسنگ اور دفاعی ضروریات کے لیے 546 ارب روپے کی فیڈرل معاونت کے ساتھ صوبے نے قومی ذمہ داریوں میں بھی کردار ادا کیا۔ اسی دوران ترقیاتی پروگرام کو متوازن رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کو آگے بڑھایا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب
#PunjabBudget2026
پنجاب کا سب سے بڑا صوبائی شیئر فیڈریشن کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب نے نہ صرف وفاقی حصے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا بلکہ اپنے وسائل بڑھانے پر بھی توجہ دی۔ پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت گورننس بہتر بنائی گئی، اخراجات کو منظم کیا گیا اور رائٹ سائزنگ کے ذریعے دہائیوں سے خالی اسامیوں کو ختم کر کے نظام کو مؤثر بنایا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب
#PunjabBudget2026
وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کی قیادت میں پنجاب حکومت کا تیسرا بجٹ (2026-27) پیش کر دیا گیا ہے، جو پورے صوبے میں بلا تفریق اور یکساں ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پچھلے ڈھائی سالوں میں جس طرح پنجاب بھر میں ترقیاتی کام جاری و ساری ہیں، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی سطح پر وزیرِ اعظم شہباز شریف صاحب اور ان کی معاشی ٹیم نے انتھک محنت اور دن رات کی کوششوں سے ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکالا اور آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے ذریعے ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب
#PunjabBudget2026
Major reforms in Punjab’s tax system, steps for public relief.
✅Property tax late payment surcharge to be collected on a quarterly basis instead of monthly.
Everyone is talking about the Punjab Budget this time. The special thing is that, instead of focusing on just one sector, the budget targets all major sectors.
Take education. A massive Rs. 750 billion has been allocated. And for healthcare, Rs. 500.62 billion has been allocated to further improve hospitals and healthcare facilities. Rs. 91.9 billion has been allocated for agriculture. With Rs. 80 billion allocated for women’s development and empowerment.
#PunjabBudget2026
اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان نے سفارتی محاذ پر اہم کردار ادا کیا، جس سے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امن کی راہ ہموار ہوئی۔ جنیوا میں ہونے والے امن معاہدے کی میزبانی کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہوا۔
اس وقت معیشت انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہی تھی، ریمی ٹینسز بھی متاثر ہوئیں اور ڈیفالٹ کا خدشہ تھا۔ کچھ لوگ ذمہ داری لینے سے گریزاں تھے۔ ایسے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے معیشت کو سنبھالا اور شہباز شریف کی قیادت میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے ذریعے معاملات کو استحکام کی طرف لایا گیا جس سے معاشی بہتری کی راہ ہموار ہوئی۔
وفاقی وزیراطلاعات عطاءاللہ تارڑ