Journalist | President DigiMAP | Covering Militancy | Religious and Sectarian Issues | Marginalised Communities | Human Rights | Visiting Faculty at SZABIST
نمائشی دنیا میں کسی بھی نوعیت کا تجربہ کرنے کے لیے اندر سے مکمل ہونا ضروری ہے۔ وجود میں ایسی وسعت اور گہرائی ہونی چاہیے کہ پست قامت لوگوں کی باتیں اسے اذیت نہ پہنچا سکیں۔ اس اذیت سے بلند ہو کر ہی اس مقام تک پہنچا جا سکتا ہے۔
سطحی گفتگو کا مطلب ہمیشہ سطحی سوچ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دوسروں کی ذہنی سطح، ماحول اور موقع و محل کے پیشِ نظر ایسی گفتگو کرنا پڑتی ہے، اور کبھی محض بوریت اور ذہنی تناؤ کم کرنے کے لیے بھی۔ مگر اپنی فکری مفلوک الحالی کے اسیر لوگ اس فرق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ چار کتابیں پڑھ کر گلی محلوں میں علم و دانش کی قے کرنے والوں کے سامنے خود کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟ اور سب سے بڑھ کر، ان کے سامنے اپنی قدر و قیمت کیوں گھٹائی جائے؟
پستی کی بستی کے آوارہ مکینوں کے سامنے اپنا مقام بلند ثابت کرنے کے لیے آپ جتنی ڈرامے بازی کریں گے، وہ اتنے ہی زیادہ آپ کو دانش ور اور صاحبِ فہم و فراست کا خطاب دیں گے۔ یہاں تو قہقہے بھی تقلید کے اسیر ہیں۔ جب تک کوئی مصنوعی دانش ور یا ایلیٹ طبقے کا نمائندہ کسی بات کی تائید نہ کرے، مقلدین اس پر ہنسنے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
غالبؔ کے بارے میں مشہور ہے کہ دلی کے ایک مشاعرے میں جب ان کا مصرع نہ اٹھائے جانے پر شکایت ہوئی تو کہا گیا کہ
مصرع اٹھایا نہیں جا رہا۔
غالبؔ نے جواب دیا
“جی واقعی، بھاری بہت ہے۔‘‘
بس! نہ جانے کیوں اتنا لکھ دیا ، شاید اندر کا خالی پن ہے۔ غالب اک بار پھر مدد کو آئے۔
دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا، سو طوفاں نکلا
سبوخ سید
بے تکلفی، مذاق اور احترام کی حدود
سبوخ سید
تین باتیں ہمیشہ ذہن میں رکھیں ۔ میں یہ بات یہاں کوئی ریفرنس دیے بغیر کرنا زیادہ بہتر سمجھوں گا ۔
سب سے پہلی بات یہ کہ بے تکلفی دو طرفہ ہوتی ہے، اس میں دونوں کی رضامندی اور ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنے کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ دو لوگوں کے درمیان تنہائی یا دوستوں کی محدود محفل میں موجود بے تکلفی سو لوگوں کے درمیان بھی اسی طرح برقرار رہے۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص آپ کے ساتھ نجی محفل میں ایک خاص نوعیت کا مذاق پسند کرتا ہو، لیکن عوامی سطح پر اسے پسند نہ کرے۔ ہر ماحول کے اپنے تقاضے اور ہر شخص کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔
دوسری بات یہ کہ بے تکلفی کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ آپ کے قریبی دوست ہیں، آپ ان کے ساتھ ہر طرح کی بات کرتے اور مذاق کرتے ہیں، لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہی گفتگو ہر جگہ کی جا سکتی ہے؟ یقیناً نہیں۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، کہاں کہہ رہے ہیں اور وہاں موجود لوگوں کے لیے اس کی معنویت کیا ہے۔ کسی کے ساتھ بے تکلف ہونا اور اسے ہر جگہ بے تکلفی کا موضوع بنا لینا، دو مختلف باتیں ہیں۔
تیسری بات، میں اکثر دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ محفل میں خود کو نمایاں کرنے یا اپنی حاضر جوابی دکھانے کے لیے دوسروں کی بے تکلفی کے درمیان مداخلت کر دیتے ہیں۔ حالانکہ بعض اوقات دوستوں کے درمیان ہلکا پھلکا مذاق صرف ماحول خوش گوار بنانے کے لیے ہوتا ہے، جس میں ادب، تہذیب اور احترام بھی موجود ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس گفتگو کے پس منظر اور اس بے تکلفی کی نوعیت سے واقف نہیں تو اسے پہلے صورتِ حال کو سمجھنا چاہیے، نہ کہ بلاوجہ مداخلت کرنی چاہیے۔ البتہ اگر مذاق واقعی کسی کی تضحیک یا توہین بن رہا ہو تو اس پر اعتراض کرنا بالکل درست ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر شخص اپنی ناراضی کا اظہار نہیں کرتا۔ بعض لوگ مروت میں خاموش رہ جاتے ہیں، بعض تعلق خراب نہیں کرنا چاہتے اور بعض بات کو آگے بڑھانے سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے کسی کی خاموشی کو اس کی رضامندی نہیں سمجھنا چاہیے۔
میرا خیال ہے کہ اچھا مذاق صرف حاضر جوابی کا نام نہیں، بلکہ موقع شناسی، شائستگی اور دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال رکھنے کا نام بھی ہے۔ بے تکلفی کی خوب صورتی اسی وقت برقرار رہتی ہے جب اس میں احترام کی حدود بھی برقرار رہیں۔
We often overlook the peace and stability in our own society, while violence, riots, and vandalism are also witnessed in Western countries. No society is perfect, and no region has a monopoly on peace or disorder. @SaboohSyed#SocialReality#MediaNarratives#WesternSocieties
Rebuilding Society Through Collective Responsibility
The Suthra Punjab campaign is an example of how government-led initiatives can bring people together to promote cleanliness, civic responsibility, and a healthier environment. @SaboohSyed@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
*DD Campus Talk |*
Who is shaping Afghanistan’s future, and what does it mean for Pakistan and the region?
As the Taliban reshape Afghanistan’s political landscape, shifting alliances and competing geopolitical interests are redefining the regional balance of power.
In *“Beyond Kabul: The Taliban and the Emerging Regional Power Equation,” Digital Debate and DSS, Quaid-i-Azam University, bring together experts Dr. Salma Malik, Dr. Shabana Fayyaz, Salman Javed, Israr Madni, and moderator Sabookh Syed* to explore Afghanistan’s evolving strategic landscape, the interests of regional powers, and the implications for Pakistan and regional security.
https://t.co/PIyOMcTIT6
قانون کے رکھوالوں کی جانب سے لاقانونیت پر مبنی انصاف کی داستان
عدالتیں کام نہیں کر رہیں ، اعتماد نہیں رہا تو اس عدالتی نظام کو بھی سی سی ڈی کے حوالے کر دیں
https://t.co/S2ROiwlHT9
لطیف کھوسہ کا پیپلز پارٹی میں کیا مقام تھا رل گیا بیچارہ عمران نیازی پر قبل از وقت فاتحہ پڑھ لو باہر نہیں انے والا حنیف عباسی نے پی ٹی ای کی آتما پھاڑ کر رکھ ڈالی
ملتان میں یتیم بچے وسیم عباس کو گاڑی سے کچلنے والا توقیر “پولیس مقابلے “ میں ہلاک
اسلام آباد میں اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ کو بیرون ملک تعلیم کا جھانسہ دیکر لوٹنے والا نعمان آج “مقابلے “ میں مارا گیا ۔
@MaryamNSharif صاحبہ، کہروڑپکا، لودھراں کے شہریوں کا کہنا ہیکہ "ڈکھنہ گھاڑو کے پرائمری سکول" کی دیواروں (گورننس) پر لگے یہ اوپلے اگر ہٹ جائے تو مقامی بچوں کو بہتر تعلیم مل سکتی ہے۔
کیا آپ اس سکول کا نوٹس لیکر اِسے لاہور کے سکولوں جیسا بہتر سکول بنا سکتی ہیں ؟
@RanaSikandarH
ملتان/15 سالہ مزدور وسیم عباس کے قتل کیس میں گرفتار ملزم کو کچہری میں وکلاء کے تشدد کا سامنا،،پولیس گرفتار ملزم کو پیشی کے لیے کچہری لائی تو وکلاء نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
پاکستان میں اہل سنت وجماعت سے تعلق رکھنے والے مدارس ، خانقاہوں ، مزارات ، درگاہوں، آستانوں کے شیوخ ، علماء ، مفسرین، متکلمین کی جانب سے اپنے تمام متعلقین ، معاونین ، متوسلین اور منتسبین کے لیے عقائد کے باب میں مکمل اور متفقہ ہدایت نامہ جاری ، شروع میں یہ عقائد نامہ جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے بانی اور تنظیم المدارس کے سرپرست علامہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے چہلم کے موقع پر علماء کی تائید کے ساتھ پڑھ کر سُنایا گیا ۔ اب اس کی تائید ملک بھر کے سُنی، حنفی ، ماتریدی، بریلوی علماء کر رہے ہیں۔ سیال شریف نے اس باب میں علماء کی کمیٹی بنا کر اعلامیہ جاری کیا ہے۔
ذاتی نوٹ : میرے خیال میں یہ ایک بہترین قدم ہے جس میں سستے واعظوں اور فتنہ پرور ذہنیت کو لگام ڈالی گئی ہے۔
سبوخ سید
مکمل فتویٰ اس لنک پر
https://t.co/yeCqvdb6Iz
*لاہور ہائی کورٹ: رضوی برادران جبری گمشدگی کیس اپڈیٹ*
ٹی ایل پی قائدین کی جبری گمشدگی کے کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر کی عدالت میں ہوئی
گزشتہ سماعت کے دوران پولیس کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا گیا تھا
آج 28 تھانوں کی جانب سے رپورٹس جمع کروائی گئیں، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ رضوی برادران پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں
عدالت نے اگلے مرحلے میں ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو رپورٹس طلب کر لیں
حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس حسین رضوی کو جبری گمشدہ ہوئے 372 گزر چکے ہیں
قیام پاکستان کے اگلے چند برس کے اخبارات اٹھالیں ، میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ایسی ہی خبریں ملیں گی تب سے اب تک محض تاریخیں اخبارات کے نام اور کتابت و حکومت ہی بدلی ہے حرکتیں وہی ہیں دو نمبری رشوت بدانتظامی ہماری گھٹی و خمیر کا اول روز سے ہی حصہ ہے
کیا اہل سنت والجماعت کا اتحاد
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے کروایا؟ کیا پنجاب میں جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمن کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے یہ اتحاد تشکیل دیا گیا تھا؟
اس خصوصی انٹرویو میں مولانا حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے مولانا مسرور نواز جھنگوی سے اہل سنت والجماعت کی سیاست، مذہبی جماعتوں کے باہمی تعلقات، اختلافات اور پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے اسباب پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
▪️ کیا اہل سنت والجماعت کے اتحاد کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کردار تھا؟
▪️ پنجاب میں جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمن کو کمزور کرنے کے حوالے سے کیا مؤقف سامنے آتا ہے؟
▪️ مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا معاویہ اعظم طارق اور مولانا مسرور نواز جھنگوی کے درمیان اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟
▪️ پاکستان میں مذہب کے نام پر قتل و غارت کا سلسلہ کب اور کیسے ختم ہو سکتا ہے؟
▪️ مذہبی جماعتوں کے اختلافات، سیاسی مفادات اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے چیلنجز کیا ہیں؟
یہ گفتگو پاکستان کی مذہبی سیاست، فرقہ وارانہ تعلقات اور قومی سطح پر امن و رواداری کے موضوعات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔
انٹرویو میں اٹھائے گئے سوالات اور مہمان کے مؤقف کو سنیں اور اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
ویڈیو پسند آئے تو لائک کریں، شیئر کریں اور مزید سنجیدہ انٹرویوز کے لیے چینل سبسکرائب کریں۔
https://t.co/21jT8UUWvB
ملتان میں بچے کو مارنے والے سفاک قاتل توقیر کا ویڈیو بیان سنیں اس کے ساتھ سرخ کپڑوں میں ملبوس شخص یتیم خانہ چلاتا ہے اس نے بچے کے بارے میں کیا کہا۔ اللہ جانتا ہے بچے کی باڈی کی ویڈیو دیکھنے لائق نہیں 🥲
آج ڈان میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق بورے والا کے چک 187/EB میں رہائیشیوں نے الزام لگایا ہے کہ سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک مشکوک شخص بلال کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا۔
مطلوب شخص تو نہ ملا مگر سادہ کپڑوں میں ملبوس سی سی ڈی کے اہلکار ایک سترہ سالہ لڑکی کو گھر سے اٹھا کے لے گئے
ون فائیو پہ کال کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ لوکل پولیس کو ریڈ کا کوئی علم نہیں، نہ انہیں لوپ میں لیا گیا ہے۔
بعد میں وہاڑی پولیس نے تصدیق کی بورے والا سی سی ڈی ٹیم نے بلال نامی ملزم کو پکڑنے کے لیے چھاپہ مارا ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ لڑکی کو لے کر نہیں گئے
مقامی رہائشیوں کے مطابق ون فائیو پہ کال کرنے اور ایشو کے سوشل میڈیا پہ ہائی لائیٹ ہو جانے کے باعث سی سی ڈی والے چند گھنٹوں بعد لڑکی کو واپس چھوڑ گئے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیا اندھیر نگری ہے
خواتین تو مریم نواز کی ریڈ لائین ہیں، پھر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے؟
ایک جانور کو بھی ایسی موت دینے سے پہلے انسان کئی بار سوچتا ہے، مگر ان درندوں نے اس معصوم غریب بچے کی کس بے رحمی سے جان لی!
وسیم عباس، عمر صرف 15 سال، مظفرگڑھ سے ملتان الیکٹریشن کا کام سیکھنے آیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کام میں تاخیر پر ٹھیکیداروں نے اس پر تشدد کیا، جس پر وہ بھاگ نکلا۔ دونوں ٹھیکیداروں نے گاڑی میں تعاقب کرکے اسے ٹکر ماری اور کچل ڈالا۔ معصوم بچے نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔
بہرحال، اس نظامِ انصاف سے مایوس ہو کر بھی ہم صرف یہی درخواست کر سکتے ہیں کہ ان ظالموں کو قانون کے مطابق ایسی سخت سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی کسی معصوم کے ساتھ ایسا ظلم کرنے کی جرأت نہ کرے۔
@rpo_multan@OfficialDPRPP@MohsinnaqviC42