ایک انسان جو 22سال کی عمر میں گھر سے پردیس میں روزگار کمانے نکلا
اور پھر اس نے گھر کا خرچ اپنے کاندھوں پر اٹھایا پردیس کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے بہن کی شادی کے سارے اخراجات برداشت کیئے والدین کی بیماری اور دیگر اخراجات برداشت کیئے
پھر اپنی شادی کی اور بیوی بچوں کا خرچ اٹھا رہا اسی دوران اس نے ایک گھر بنایا
اپنے بھائی کو باہر بلایا اسکی شادی کی
اور جب وہ انسان 47 سال کا ہوا اس نے سوچا اب کیوں ناں توڑا ارام کر لیا جائے اتنی طویل محنت کے بعد ابھی اسکو گھر بیھٹے چھ ماہ کا عرصہ بھی ٹھیک طرح سے نہیں گزرا تو اسکو اپنے اہل او عیال اہل محلہ اور خاندان والے کہتے ہیں
تم نے اتنا عرصہ باہر گزارا تم نے کیا کیا ہے جو اب فارغ بیٹھے ہو باہر نکلو کام کرو کتنا عرصہ گھر میں بیٹھے رہو گے ؟
کیا یہ ہمارے معاشرے کی سنگدلی نہیں کے ایک انسان نے اپنی جوانی دوسروں کی خواہشات پوری کرنے میں لگا دی اور اب بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچے کے بعد بھی اسکو کہا جا رہا ہے کہ تم نے کیا کیا ہے ؟؟؟
اگر آپ نے دوستوفسکی کا شاہکار ناول "The Idiot" پڑھا ہے، تو آپ اس بات سے بالکل اتفاق کریں گے کہ پرنس میشکن کی صورت میں یہ کہانی ہمارے اس منافق اور مادی معاشرے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ میشکن کی وہ حد سے بڑھی ہوئی معصومیت، سچائی اور دوسروں کے لیے بے غرض محبت ہی اس کا سب سے بڑا گناہ بن جاتی ہے، جسے یہ خود غرض دنیا سدھارنے کے بجائے "ایڈیٹ" یا بیوقوف کا نام دے دیتی ہے۔ نستاسیا فلپوونا اور اگلایا کے درمیان جذباتی دلدل میں پھنسے میشکن کا جو المیہ (Tragedy) سامنے آتا ہے، وہ روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ دوستوفسکی نے اس ناول میں کوئی خیالی کہانیاں نہیں گھڑیں، بلکہ ہمیں آئینے میں ہمارا اپنا ہی وہ چہرہ دکھایا ہے جہاں ایک سچا، مخلص اور خالص انسان کبھی فٹ بیٹھ ہی نہیں سکتا اور کتاب ختم ہونے کے بعد ذہن پر طاری ہونے والا گہرا سناٹا ہی اس لافانی کتاب کا اصل کمال ہے۔
ساحر علی
میاں ساب سِدھا جیا سودا کر کہ آئے نیں کہ حکومت میرے گھر رہن دیئو، عوام چُوں جنہوں جیل پانا اے پائی جاؤ میں نئیں کُھسکدا، جو کرنا اے کری جاؤ اے سارے ہے ہی قصور وار نیں، بس میرے ظلم دی داستان سُنی جاؤ۔ محمد حنیف
پرانے زمانے دِیاں زنانیاں کھسم دا ناں نئیں سی لیندیاں، کہندیاں سی ایدے نال نکاح ٹُٹ جاندا اے، میاں صاحب وی کسی دا ناں نئیں لیندے، عوام تے ہی پائی جاندے نیں، محمد حنیف
1971 ہمارے لئے اچھا نہیں تھا آدھا ملک ٹوٹ گیا ہم پریشان بیٹھے تھے ،،
پھر میں نے TV پے ایک نوجوان کو بھاگتے دیکھا وہ اتنا اچھا بھاگا کہ ہم تھوڑا بہت اپنا غم بھول گئے کہ ہم نے کیا کھویا ہے کیوں کہ ہم نے عمران کو پا لیا تھا ۔۔۔
انور مقصود
اُس رات میرے چودہ سالہ بیٹے نے صرف اتنا پوچھا تھا، “ابو… آپ پہلے والے ابو کیوں نہیں رہے؟
اُس رات میں بہت دیر سے گھر آیا تھا۔
سردیوں کی رات تھی۔ گلی تقریباً سنسان ہو چکی تھی۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا تاکہ بچے نہ جاگ جائیں۔
مگر ڈرائنگ روم کی ہلکی زرد روشنی ابھی جل رہی تھی۔
اور صوفے پر میرا چودہ سالہ بیٹا حمزہ بیٹھا تھا۔
گھٹنوں پر کمبل، آنکھوں میں نیند، اور چہرے پر میرا انتظار۔
مجھے دیکھتے ہی فوراً کھڑا ہو گیا۔
“ابو… کھانا گرم کر دوں؟”
پتہ نہیں کیوں…
یہ ایک عام سا جملہ اُس دن سیدھا دل میں جا کر لگا تھا۔
میں نے ہنسنے کی کوشش کی۔
“نہیں یار… کھا لیا تھا۔”
وہ چند لمحے خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
“جھوٹ بول رہے ہیں نا؟”
میں رک گیا۔
کیونکہ بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں نا… تو وہ باتیں نہیں، انسان پڑھنے لگتے ہیں۔
سچ یہ تھا کہ صبح سے صرف دو کپ چائے پی تھی۔ دفتر میں اتنا دباؤ تھا کہ کھانے کا ہوش ہی نہیں رہا۔ اوپر سے مالک نے سب کے سامنے ذلیل کیا الگ۔
“اگر کام نہیں ہوتا تو گھر بیٹھ جاؤ… باہر لائن لگی ہوئی ہے نوکری کرنے والوں کی۔”
میں پوری واپسی راستے یہی سوچتا آیا تھا کہ اگر واقعی نوکری چلی گئی تو؟
کرایہ؟
بچوں کی فیس؟
امی کی دوائیاں؟
گھر کا خرچ؟
مرد عجیب مخلوق ہوتا ہے۔
سب کے لیے چھت بناتا رہتا ہے…
مگر اپنے اوپر گرتی ہوئی چھت کا ذکر نہیں کرتا۔
حمزہ خاموشی سے کچن میں گیا اور دال گرم کرنے لگا۔
میں اُسے دیکھتا رہا۔
اُس کی شکل میں مجھے اپنا بچپن نظر آیا۔
وہی وقت سے پہلے سمجھدار ہو جانے والی خاموشی۔
وہ پلیٹ لے کر آیا اور میرے سامنے رکھ دی۔
“کھا لیں ابو…”
میں نے پہلا نوالہ توڑا ہی تھا کہ اُس نے اچانک پوچھ لیا،
“آپ خوش ہیں؟”
میرا ہاتھ وہیں رک گیا۔
بعض سوال انسان کے اندر ایسے گرتے ہیں جیسے بند کمرے میں اچانک شیشہ ٹوٹ جائے۔
میں نے بات ہلکی کرنے کی کوشش کی۔
“پاگل ہے؟ کیوں نہیں ہوں گا؟”
وہ آہستہ سے بولا،
“کیونکہ آپ پہلے والے ابو نہیں رہے…”
کمرے میں عجیب خاموشی پھیل گئی۔
وہ میری طرف دیکھے جا رہا تھا۔
“پہلے آپ گھر آتے تھے تو امی کے ساتھ بیٹھتے تھے… ہمیں باہر لے جاتے تھے… ہنستے تھے… اب آپ بس چپ رہتے ہیں۔”
میں خاموش رہا۔
کیونکہ وہ غلط نہیں تھا۔
میں واقعی آہستہ آہستہ ختم ہو رہا تھا۔
اور عجیب بات یہ تھی…
کسی نے محسوس بھی نہیں کیا۔
دفتر والوں کو صرف کام چاہیے تھا۔
رشتے داروں کو صرف مدد۔
گھر والوں کو صرف مضبوط باپ۔
اور میں؟
میں کب کا کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔
حمزہ میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
پھر اُس نے بہت آہستہ سے پوچھا،
“ابو… مرد تھک کیوں جاتے ہیں؟”
میں کافی دیر جواب نہیں دے سکا۔
پھر نہ جانے کیوں دل بھر آیا۔
میں نے پہلی بار اپنے بیٹے سے سچ بولا۔
“کیونکہ بیٹا… مردوں کو رونے نہیں دیا جاتا۔”
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔
میں بولتا گیا۔
“جب مرد پریشان ہو تو لوگ کہتے ہیں مضبوط بنو… جب ٹوٹے تو کہتے ہیں مرد بنو… جب خاموش ہو جائے تو کہتے ہیں بدل گیا ہے…”
میری آواز بھاری ہو گئی۔
“اور ایک دن… وہ واقعی بدل جاتا ہے۔”
حمزہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
پھر اُس نے آہستہ سے میرا ہاتھ پکڑا اور بولا،
“آپ میرے سامنے رو سکتے ہیں ابو…”
بس…
یہ جملہ سن کر میں ٹوٹ گیا۔
پتہ نہیں کتنے سال بعد رویا تھا۔
ایسے جیسے اندر جمع ساری تھکن آنکھوں سے نکل رہی ہو۔
اور میرا بیٹا…
وہ خاموشی سے میرے پاس بیٹھا رہا۔
نہ نصیحت۔
نہ سوال۔
بس ساتھ۔
اُس رات مجھے پہلی بار سمجھ آیا…
مرد کو ہمیشہ حل نہیں چاہیے ہوتا۔
کبھی کبھی صرف ایک انسان چاہیے ہوتا ہے جو اُس سے پوچھ لے:
“تم واقعی ٹھیک ہو؟”
آج حمزہ یونیورسٹی میں ہے۔
کبھی کبھی رات کو میرے کمرے میں آتا ہے، چائے بناتا ہے اور بغیر کسی وجہ کے میرے پاس بیٹھ جاتا ہے۔
اور جاتے جاتے ہمیشہ ایک بات کہتا ہے:
“ابو… خود کا بھی خیال رکھا کریں۔”
پھر میں اُسے جاتا ہوا دیکھتا ہوں اور دل میں دعا کرتا ہوں:
یا اللہ…
میرے بیٹے کو اچھا مرد ضرور بنانا…
مگر ایسا مرد کبھی نہ بنانا جو ساری زندگی سب کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اندر سے خاموش ہو جائے۔
آپ تو کہہ رہے تھے عرب اونٹوں پر ڈالر اور ریال لادے دگڑ دگڑ آنے کو تیار بیٹھے ہیں پاکستان میں لہریں بھریں ہو جائینگی 😂
ننھا بلاول کراچی سے فضل الرحمن پشاور سے شہباز شریف لاہور سے مہنگائی مارچیں نکالتے تھے۔
اب پٹرول 414، بجلی ساٹھ ستر روپے، ڈالر تین سو کے پاس۔
ایک سابق وزیر اعظم کو نہ عید کے کپڑے پہنچنے دئیے گئے نہ عید کی نماز پڑھنے دی گئی۔
پھر کہا جاتا ئے اسے قید کہا جائے۔ کیسے!؟
یہ سرا سر اغواء ہے۔
ایک سابق وزیراعظم کو ملک کے زبردستی ہتھیائے گئے پانچ بڑے عہدوں نے مل کر اغواء کر رکھا ہے۔
"They Thought Trump Would Help Free Imran Khan – But They Were Terribly Wrong"
The former Pakistani leader remains behind bars, prompting those Pakistani-American groups that backed Trump and Republicans in 2024 to now worry they got 'played' by Trump.
https://t.co/EBWO22Ktqt
بھٹو اور نواز شریف کی اتمہ رول کردی, مطیع اللہ نے!🔥
یہ بیشرمو کو شرم آنی چاہیے, ووٹ کا حق کیسے چھین سکتے ہیں, یہ جرنیلوں کی پیدوار پارٹیاں, اپنی بیٹیوں کو تو خاتون اول دکھنا چاہتی ہے, لیکن دوسروں کے بچوں سے ووٹ کا حق چھیننا چاہتے ہیں, بیشرم لوگ!!🔥🔥
”کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں، ڈونلڈ لو نے 22 کروڑ لوگوں کے ملک کے سفیر کو آفیشل میٹنگ میں کہا کہ اپنے وزیراعظم کو اقتدار سے نکال دو ! “ سابق وزیراعظم عمران خان
#سائفر_ایک_حقیقت
”ہمیں فخر ہے کہ عمران خان ہمارا بھائی ہے۔ عمران خان نے تین سال جیل میں رہ کر پاکستانی قوم کو بتایا ہے کہ جب اپنی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہونا پڑے تو اسے عبادت سمجھ کر کریں۔ عمران خان نے کہا، یہ جدوجہد ایک عبادت ہے“
@Aleema_KhanPK#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
تم نے ہر عہد میں ہر نسل سے غداری کی
تم نے بازاروں میں عقلوں کی خریداری کی
اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی خودداری کی
خوف کو رکھ لیا خدمات پہ طمعداری کی
آج تم مجھ سے میری جنسِ گراں مانگتے ہو
حلفِ ذہن و وفاداریِ جاں مانگتے ہو
جاؤ یہ چیز کسی مداح سرا سے مانگو
طائفے والوں سے ڈھولک کی صدا سے مانگو
اپنے دربانوں سے بدتر فقراء سے مانگو
اپنے دربار کے گونگے شعرا سے مانگو
مجھ سے پوچھو گے تو خنجر سے عدو بولے گا
گردنیں کاٹ بھی دوگے تو لہو بولے گا
@MuradSaeedPTI
اس پر باجوہ کا کورٹ مارشل بنتا تھا
حکومتی پالیسی کے خلاف ایک سرکاری ملازم کس طرح انٹرنیشنل پالیسی پر بیان دے سکتا ہے
آجکل تو لوکل پالیسی پر کوئی بات کرے تو ڈالے آ جاتے ہیں
کیا وردی پہن کر سب معاف ہو جاتا ہے ؟