نئے صوبے نہ کرپشن ختم کرینگے نہ پولیس کے رویے کو ٹھیک کرسکیں گے نہ عدالتی نظام درست ہو پائے گا اور نہ ہی ہماری معیشت اس سے ٹھیک ہوسکے گی۔ 12صدیاں گزرنے کے باوجود افسانہ اور حقیقت کایہ مخمصہ حل نہیں ہوسکا اور اب تو معاملہ ہماری اجتماعی اور انفرادی نفسیات کاحصہ بن چکا ہے، ہم معجزوں کے انتظار میں رہتے ہیں
https://t.co/39HemRM3ny
وفاق میں دو وزیر مایوسی کے عالم میں استعفے جیب میں ڈالے پھررہے ہیں۔ وفاقی کابینہ دراصل ایک ٹیم کا نام ہوتا ہے جس نے اجتماعی فیصلوں سے ملک کو چلانا ہوتا ہے مگر اِدھر سیٹی بجی ہے اور اُدھرہر وزیر نے اپنا اپنا نیا قبلہ ڈھونڈ لیا ہے، کوئی نئے صوبوں کا حامی ہے تو کوئی مخالف۔ کوئی چپ ہے تو کوئی مسلسل بولے جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف عوامی سیاستدان نہ سہی مگر اچھے منیجر اور ایڈمنسٹریٹر ضرور ہیں انہیں اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنی ہوگی اور اپنی کابینہ کو ڈسپلن میں لانا ہوگا، وزیر اعظم کی ’’ڈھیل‘‘ سے حکومت کا ’’وھیل‘‘ پنکچر ہوکر بے قابو ہورہا ہے
https://t.co/B4jNozOCDB
عمران خان کو رہائی یا سیاست کرنے کا بڑا ریلیف دینے کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران کیلئے غیر معمولی رعایت پورے موجودہ نظام کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ نئے صوبے بنانے کی خاطرنظام خود اپنے لئے خطرہ پیدا کرنا نہیں چاہے ��ا ،اس کا مطلب ہوا کہ عمران خان کو نئے صوبوں کے بدلے ٹافی تو مل سکتی ہےشاندار لنچ یا ڈنر نہیں۔ سوال یہ ہو گا کہ کیا تحریک انصاف مجبوراً یہ کمزور ڈیل قبول کرلے گی یا پھر وہ میں نہ مانوں والی مزاحمت پر کاربند رہ کر کسی اچھے وقت کا انتظار کرے گی
https://t.co/O2ADY6KJUU
ونڈر بوائے ان میں بھاری تھا، ایک تو کاروبار کی موجودہ شکل بنانے میں اسکا اہم کردار تھا۔ اسکا مسٹر امّی (I) کو بزنس سے آؤٹ کرنے اور زوزی نوزی ایمپائر بنانے میں اہم ترین حصّہ تھا پھر اسے بزنس کے طاقتور حلقوں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ مگر اسے زوزی اور نوزی کے خاندانوں اور انکے قریبی لوگوں نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے اس پر شک ہی کرتے رہے تھے۔ دوسری طرف تھنڈر بوائے کی کبھی بزنس کے طاقتور حلقوں سے بنی نہیں بلکہ اکثر ٹھنی رہی
https://t.co/1ZSIQlBazB
شہباز شریف17سال تک اقتدار میں رہے انہیں نظام کی وہ خرابیاں نظر نہ آسکیں جو میں نے فوراً پہچان لیں۔ صدر زرداری گزشتہ46سال سے سیاسی میدان میں ہیں،11سال جیل میں رہے لیکن وہ ملکی نظام کو بہتر کرنے کا وہ فارمولا نہ بنا سکے جو میں بنا چکا تھا ، عمران خان نے سیاسی میدان میں18سال دھکے کھائے اقتدار حاصل کیا اور اب جیل میںہے لیکن اسے بھی ملک کے ان اصل مسائل سے آگاہی نہ ہوسکی جو مجھ پر عیاں ہو گئی
https://t.co/g6qEsx72VI
سیاست میں سب سے برا حال آج کے اہل اقتدار کا ہے آئے دن ان کی ’’ منجی ٹھوکی‘‘ جارہی ہے مگروہ اتنے بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں کہ ’’ ٹھوکے‘‘ جانے کے باوجود اونچی آواز میں رو بھی نہیں پارہے صاف لگ رہا ہے کہ وہ اپنے آنسو چھپا رہے ہیں عام رواج تو یہی ہے کہ صرف اپوزیشن کی منجی ٹھکتی ہےجبکہ اہل اقتدار محفوظ ومامون آرام دہ منجیوں پر براجمان رہتے ہیں مگر اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہے
https://t.co/y4MlFB4QL6
نونی لوہے کے پردھان نے دو دہائیوں سے پارس کو گلے لگا رکھا ہے۔ بات پارس کے بوس و کنار اور احترام و پیار تک محدود نہیں، اب تو اس نے اسے مرکزِ عقیدت بنا لیا ہے۔ پارس اور نونی لوہا، ایک صفحے کی کہانی سے بڑھ کر سلیبس میں شامل ہو چکے
اس کہانی کو جیل میں ��یٹھے انصافی لوہے کے بغیر مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہے۔وجہ جو بھی ہے کاٹھ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹ رہی ہے
https://t.co/JvIMNK6qWe
آج مکہ معاہدہ کی جو عملی شکل نظر آ رہی ہے اسکی تعمیر میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سوچ و فکر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، وہ جب سے آرمی چیف بنے تھے مڈل ایسٹ سے تعلقات کو مضبوط کرنےمیں لگے ہوئے تھے۔ مڈل ایسٹ کے اسلامی عرب ممالک سے دوستی اور معاشی اشتراک کا خیال لازمی طور پر انہی�� کا ہے اور گزشتہ 3سال سے مشرقِ وسطیٰ کے جتنے دورے انہوں نے کئے ہیں شاید وہ پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ ہونگے۔ سوچ تو انکی تھی پھر حالات نے بھی انکے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا
https://t.co/6xwyuYV3lr
نونی آزمائے جاچکے، پیپلے دیکھے جاچکے، انصافی وقت گزار چکے ۔جہاں اتنے تجربات ہوئے ہیں ایک تجربہ ہمارے واوڈا کا بھی کرلیا جائے جہاں بڑےبڑے گرگ باراں دیدہ ناکام ہوچکے ہیں وہاں ہمارا یہ نوجوان ہیرو حالات کو بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے عوام کو جس سحر کاکافی دیر سے انتظار ہے لگتا ہے وہ واوڈا کی صورت میں ہی طلوع ہوگی
https://t.co/yjqVGyB2AK
راولپنڈی کے نونی سینیٹر ناصر بٹ نےتو برملا کہہ دیا کہ نونی حکومت کیخلاف پھر سے سازش شروع ہو چکی ہے، نونی بڑوں کے نہ صرف کان کھڑے ہوئے بلکہ سرخ ہوتے ہوئے نظر آئے بس پھر کیا تھا پلان پر نظرثانی کر کے قافلے کا رخ الشفا کی بجائے پمز کی طرف کر دیا گیا۔
https://t.co/ufEv1YcETL
طاقتور مادر ملکہ چیونٹیوں سے اپنی مرضی منوا لے گی، پیپلی چیونٹی اقتدار کے گھونسلے سے نکل بھی گئی تو کئی انصافی چیونٹیاں انکی جگہ لینے کو تیار بیٹھی ہیں، خطرہ اور خدشہ یہ ہے کہ اقتدار کی نونی اور پیپلی جوڑی ٹو��ی تو پھر سب کچھ ہاتھ سےجابھی سکتا ہے، گرفتار کیڑی اور مادر ملکہ میں جو مرضی معاہدہ ہوجائے، جو مرضی ضامن پڑجائے یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے۔
https://t.co/TmQcrIAGQd
بلّوراکٹ کواسکے ایک انتہائی مخلص دوست نے مشورہ دیا کہ بِلّو یا بِلّا جیسے ناموں والے شخص کو وزیر نہیں بنایا جاسکتا پہلے تو بلّو بدک گیا اور کہنے لگا اگر مودی وزیر اعظم بن سکتا ہے تو بلّا کیوں نہیں؟ اگر چھوٹو رام اپنا نام بناسکتا ہے تو بلّا راکٹ کیوں نہیں۔
https://t.co/iS7IVeuBl6
پاکستان بھی جنوبی ایشیا ک�� جغرافیائی جیل توڑ کر مڈل ایسٹ کے مرکز میں جا کھڑا ہوا ہے۔ اس حوالے سے مڈل ایسٹ سینٹرک پالیسی بنانے، چلانے اور اسے کامیاب کرنے کا کریڈٹ بلا شبہ جنرل عاصم منیر کو جاتا ہے۔ جملہ معترضہ یہ ہے کہ ہماری انسانی، معاشی اور سفارتی قربانیاں، افغانستان کے پتھروں میں ضائع ہوتی رہیں، اب ہم پہلی بار پیٹرو ڈالر، سونے اور ہیرے کے پہاڑوں والے مڈل ایسٹ میں دبنگ اینٹری دے رہے ہیں
https://t.co/CQUDXSohcK
بانی پی ٹی آئی اگر لڑنا چاہتے ہیں تو ان کے یوٹیوبرز ان کا اثاثہ ہیں، لیکن اگر وہ حل تلاش کرنا چاہتے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہی یوٹیوبرز رکاوٹ ہیں۔ انہیں علیمہ خان کی حمایت حاصل ہے، سہیل وڑائچ
@suhailswarraich