ایک اہم سوال ۔۔ جس میں ہر بات کا جواب ہے
کشمیر میں ہونے والی بربریت پر
پورا پاکستان کس طرف ہے؟
ہم ہمیشہ کشمیر کے ساتھ کھڑے تھے
اب کشمیر کے ساتھ چلنے کا وقت آ گیا ہے
جنہوں نے عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا تھا وہ اپنی فورس کو ہی عوام کو گولیاں مارنے کی ترغیب دے رہے ہیں، افسوس ہے کہ ملک کو کن جلادوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، پہلے پاکستان اور اب آزاد کشمیر میں عوام کے خون سے ہولی کھیلی جائے گی۔
#RightsMovementAJK#FascismUnderAsimLaw
ہمارے مکار فنکار عیار لیڈران کہتے پُر امن رہیں اور انقلاب لائیں۔
دنیا کی تاریخ اُٹھا کر ایک مثال دے دیجئے جب کسی قوم میں، جب کسی ملک میں دورِ فسطائیت میں انقلاب آیا ہو اور بات پُر امن رہی ہو۔ صرف ایک مثال!
یہ سب کہنے والے یا تو نامرد ہیں (پھوجیوں نے کر دئیے پڑھا جائے) یا ان کا پُور پُور غدارِ عمران خان ہے۔
“سی ایم ایچ راولاکوٹ کے مناظر “ ریاستی دہشتگردی کے باوجود کشمیریوں بلٹ کا جواب بیلٹ سے دے کر بتایا کہ تم 71 میں شکست خوردہ تھے تم آج بھی شکست خوردہ ہو، تم ہمیشہ شکست خوردہ ہی رہو گے، جب جب عوام سے ٹکراؤ گے۔
کشمیریوں نے ایک مرتبہ پھر سے راولاکوٹ کی جانب رخ کر لیا ہے، آج کا دن آخری ہے کل 9 جون سے پورا کشمیر مظفرآباد کی جانب رخ کرے گا
فورسز کی کوشش ہے کل کا سورج طلوع ہونے سے پہلے پہلے عوام کو دبا لیں
ہائیڈ بھائی کے چالیسویں کا ختم 16 جون کو ہوگا۔
تمام دوستوں اور بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ بھائی کے ایصال ثواب کے لئے جو بھی پڑھیں یا پڑھ چکے ہیں وہ درج کرتے جائیں تاکہ دعا کے وقت وہ سب شامل کرسکیں 🙏🏻
گلگت میں الیکشن ہے، اور پی ٹی آئی بشمول ایم ایم اے کے 22 امیدواران اس میں حصہ لے رہے ہیں۔
اگر یہ 22 کے 22 سب سیٹوں پہ جیت بھی جائیں (جو ممکن ہی نہیں) تو کیا اُکھاڑنا ہے جو پہلے سے موجود 300 ایم این ایز اور ایم پی ایز نہیں اُکھاڑ پائے تین سالوں میں؟
الیکشن میں حصہ لے کر آپ غیر قانونی فرعونی نظام کو جواز دے رہے ہیں۔ اگر میں غلط ہوں تو ثابت کریں کے ایسا نہیں ہے۔ نہیں کر سکو گے!
مگر خدارا عمران خان کے نام کو بیچ کر الیکشن الیکشن کھیلنا، اب بس کر دیں! پہلے صرف بادشاہ ننگا تھا، ان حرکتوں سے آپ بھی ننگے ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:
اسلام کی کون سی حالت افضل ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(صحیح بخاری ،٦٢٣٦)
حمود الرحمٰن کمیشن نے بتایا سقوطِ ڈھاکہ کا سبب دشمن نہیں، فوجی قیادت کی نااہلی، بدعملی، غلط حکمتِ عملی، اخلاقی پستی، اقتدار کی ہوس اور آپریشن سرچ لائٹ تھا۔
رپورٹ نے جنرل یحییٰ، جنرل ٹکا خان، جنرل نیازی اور جنرل خداداد کو ذمہ دار قرار دے کر عبرتناک سزا دینے کی سفارش کی تھی