چیخیں ۔یہ بے کس مزارع پسینے میں لت پت یہ نیم مُردہ تھکی اور ماندی مزدور چیخیں۔ یہ کُوچوں دریچوں اور بند دالانوں میں غائب ، سرد و تاریک تہہ خانوں میں صدیوں سے محکوم و مدفون خاموش چیخوں کی چیخیں کبھی تو کوئی تو کہیں تو کسی شر پسند اور شکستہ کھڑکی سے باہر نکل کر سُنی جا سکینگی
کوئی بات نہیں، کم ازکم روزینہ خان کے مُنہ سے اپنے زومبی بھائیوں کی طرح غلیظ گالیاں تو نہیں نکل رہی۔ رہی بات زُبانوں کی تو میں پشتو، اُردو اور انگریزی میں ایک ہی سطح کا لکھ لیتا ہوں۔ البتہ بعض اوقات تیزی میں فون پر ٹائپ کرتے غلطی ہوجاتی ہے!!!!!
میری زُبان پشتو ہے ، اگر میں اتنی اُردو لکھ لیتا ہوں تو میرے لئے بڑی بات ہے لیکن کوشش کرونگا کہ اپنی املاء بہتر کر لوں کیونکہ زُبانیں سب ہی اچھی ہیں اور اگر آپ بہتر طریقے سے لکھ یا بول سکیں تو اچھا ہے!!!!شُکریہ
@SydJamalShah باقی باتیں رہنے دیں پہلے اردو لکھنا سیکھ لیں۔ اس ایک ٹویٹ میں املاء کی دس غلطیاں ہیں۔ افسوس اس عمر میں قومی زبان اردو تک لکھنا نہیں آتی 🤔
ناجائیزوں کا آجکل بس نہیں چل رہا کہ یہ دلیل سے مُجھے مات دےسکیں اس لہۓ انکے سوشل میڈیا ارسطو اپنے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے میری سابقہ بیوی فریال کا نام اُچھال رہے ہیں جن کی مُجھ سے علیحدگی اور طلاق ۳۷ سال قبل ۱۹۸۹ میں ہُوئی تھی جب یہ پیدا بھی نہیں ہُوئےتھے، نہ انکی پارٹی بنی تھی، نہ MI6 نے عمران کو لارنس آف پاکستان بنانے کا سوچا تھا اور نہ جنرل حمید گُل وغیرہ کی نظر انتخاب اس پر پڑی تھی۔ یہ تو ۱۹۹۲ میں لانچ ہُوا اور بعد میں مُشرف سے لے کر۔ باجوہ تک کی مشینری نے بیرونی آشیرباد کی خاطر پاکستانی عوام کا پیسہ لگا کر اپنی جمہُوریت دُشمنی میں اسکی پارٹی بنوا کر ٹانگے سے ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر اسے پہلے وزیر آعظم بنایا اور پھر مطلب نکلنے کے بعد اسے گھڑی چور بنا کر اڈیالہ میں ۸۰۴ نمبر الاٹ کر دیا۔ بھلا ان کو ۳۷ سال بعد صرف مُجھے اچتعال دلانے کے لئے فریال کا نام استعمال کرکے ٹویٹس کرنے سےکیا مل سکتا ہے جو ان زومبی ٹرولز کے نام سے اس پارٹی کے سوشل میزدیا ارسطو ہی ان کو لکھ کر دیتے ہیں؟؟؟؟؟ ترس آتا ہے ان زومبیز کے خالی اور ؤیران کھوپڑیوں پر جن کو اس پارٹی نے نفرت اور گالیوںُسے بھر دیا ہے!!!!!
@SydJamalShah which political parties?, you mean the ones created and operated by our army. Every political leader and bureaucrat is literally recruited. Army makes sure that they are corrupt and criminal to the bone, so that under any circumstances, they will work for them.
اسلام آباد میں فضا سوگوار، 14 نومولود بچے جاں بحق
وفاقی دارالحکومت بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم !!
ایمرجنسی راستے بند، فائر سیفٹی نظام پر سوالات
مصطفیٰ کمال عہدے سے مستعفی ہونگے؛ جانئیے ندیم ملک کا اہم تجزیہ
مکمل پروگرام دیکھنے کیلئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں
https://t.co/1gGzykbqS0
#NadeemMalikLive
#SamaaTV
#Pakistan
مُمکن ہے کہ پمز سانحے کے ذمہ داروں کا انکوئری میں دُرست نتیجہ سامنے آئے لیکن اخلاقیات کا تقاضہ ہے کہ کم از کم وزیر ، سیکریٹری اور پمز کے منتظم کو تو استعفی دے ہی دینے چاہئیں۔ میرٹ پر قائم حکُومت ہوتی تو بشمُول وزیر آعظم ساری کی ساری کیبنٹ استعفی دے چُکی ہوتی لیکن پاکستان میں حکُومتیں کبھی خدمت کے لئے بنی ہی نہیں ہیں بلکہ حکُومتوں کے لئے فنڈز کا بانٹا جانا اہم ترین محرک ہوتا ہے ۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ گورننس ایک ایسی موذی بیماری کی گرفت ہیں ہے جس کی جڑوں میں آئین دُشمنی چُھپی ہوئی ہے جو نکمے پن اور سفارش کو صلاحیت اور کارکردگی پر فوقیت دیتی ہے!!!!
@SydJamalShah وہ ایک محترمہ کی دلالی والا مسئلہ لوگوں نے شروع کیا ہے اس پر جواب تو دو زومبی کم سے کم حق کے لیے گالیاں نکال رہے ہیں کو کے اُن کا زور ہی اتنا چلتا ہے
@SydJamalShah وہ ایک محترمہ کی دلالی والا مسئلہ لوگوں نے شروع کیا ہے اس پر جواب تو دو زومبی کم سے کم حق کے لیے گالیاں نکال رہے ہیں کو کے اُن کا زور ہی اتنا چلتا ہے
اس وزیر کے ساتھ وزیر داخلہ کو بھی ہونا چاہئیے تھا بلکہ پُوری کابینہ کو لوگوں کے سامنے کھڑے ہونا چاہئیے تھا اور سب میں تھوڑی سی حیا اور تھوڑا سا شرم ہونا چاہئیے تھا۔ جو کسی بیرونی ڈیلیگیشن کے استقبال کے لئے منٹوں میں عوام کے ٹیکسسز کے اربوں روپے پھونک سکتے ہیں ، شہبازُسپیڈ سے انڈر اور اوور پاسسزُبنا سکتے ہیں، پُورے شہر کو اعلی ترین لوگوں اور دو ٹکے کے کرکٹ میچز کی خاطر عوام کے لئے بند کر سکتے ہیں لیکن قوم کے معصوم بچوں کو اپنیے لالچ کی لگائی ہوئی آگ سے نہیں بچا سکتے!!!!
Tone deaf ministers. These are families who have lost their babies and the lack of tolerance and sensitivity is shocking!! Not to mention the gross negligence.
صُوبہ اسلام آباد کے رہائشی ۔۔۔
صدر
وزیر اعظم
نائب وزیر اعظم
سینیٹ چیئرمین
سپیکر قومی اسمبلی
چیف جسٹس پاکستان اور ججز
چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت اور ججز
چیف جسٹس اسلام آباد اور ججز
وزیر صحت
وزیر داخلہ
وزیر خارجہ
وزیر دفاع
وزیر تعلیم
فیلڈ مارشل/چیف آف ڈیفنس فورسز/آرمی چیف
ائیر چیف مارشل
نیول چیف
ڈی جی آئی ایس آئی
چیف الیکشن کمشنر
100 سینیٹرز
336 ممبران قومی اسمبلی
کمشنر
ڈپٹی کمشنر
سی ڈی اے چیئرمین
آئی جی پولیس
درجنوں وزیر/مشیر
دسیوں درجن سینئیر بیوروکریٹس
جس دن ان سب کے بچے اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیں اور ان کا علاج اسلام آباد کے دونوں سرکاری ہسپتالوں میں ہونا شروع ہو جائے تو سارے پاکستان میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ پھر جتنے چاہے صوبے بنا لیں۔
ظاہر ہے استحصالی طاقتوں نے تو عوام کو خوف، انتشار، بھوک و افلاس اور نفرت میں گرفتار رکھنا ہے تاکہ عوام کو اپنی اصل طاقت، صلاحیت اور امکانات کا سرے سے احساس ہی نہ ہو ۔ لیکن عوام کو ایک ہوکر استحصالی طبقے کے حرص کو دفنانا ہوگا!!!!!
@SydJamalShah اچھا خواب ۔۔۔۔ آپ بھی شاہ صاحب ۔۔۔۔ ایسی میٹنگ ایسے احکامات کمیٹی بیانات ۔۔۔۔ بچپن سے دیکھتے سنتے آرہے ہیں ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونا ایسے ہی چلتا رہے گا کچھ نہیں ہونا
بالکُل نہیں، طاقت عوام کے ہاتھوں میں ہونی چاہئیے لیکن عوام کے نمائیندوں کو دلیر، قابل، باکردار ، سخی ، بے لوث ،دُور اندیش اور وطن پرست ہونا چاہئیے۔ ایسے لیڈر فیصلہ ساز بنینگے تو ہر قسم کے تنخواہ دار عوام کے حاکم نہیں بلکہ مُلازم ہونگے!!!!!!
@SydJamalShah اس کا مطلب ہے کہ ملک سے قانون اور آئین کو ختم کردیا جائے اور تمام سویلین ادارے بھی ختم کردیں اس کے بعد جو طاقتور ہو وہ خود اپنی عزت اور غیرت بچالے
اور جب یہ طاقتور کسی کمزور کی عزت تار تار کرے تو اس کو اپنی تقریر سمجھ کر صبر کرے
جنگل کا قانون
میں نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی بس گالیاں بکنے والو کو گٹرز کی پیدائش ضرُور کہا ہے۔ گالیاں تو اصل میں نفرت کی فیکڑی میں تربیت لینے والا ایک خاص گروپ ہی دیتا ہے جس سے پُورا مُلک واقف ہے!!!!
@SydJamalShah pakistani awaam bhi 78 saal say khud ko napak army say bacha.nahi parahay, or yeh army humain roz rape karti hai, torture karti hai, utha laijati hai, qatl kardaiti hai, elections chori karlaiti hai, judiciary khatum kardaiti hai, leaders ko maar daiti hai.hum kuch nahi kar paray
ہمارا المیہ یہ ہے کہ پُوری قوم حادثے کے بعد جاگتی ہے اور ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزاؤں کے بیانات ہی دیتے رہ جاتے ہیں۔ عام حالات میں اپنی خامیوں اور خوبُیوں یا امکانات پر گہری نگاہ کیوں نہیں ڈالی جاتی؟ اگر فضول خرچی ترک کرکے اداروں کی صلاحیت بڑھانے پر مُسلسل توجہ رکھی جائے تو حادثے کم سے کم ہونگے اور انُپر قابُو پانے کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی!!!!یہ شہر وزیر داخلہ اور ہسپتال وزیر صحت کے دائرہ ئے کار میں آتا ہے لہذا دونوں وزیروں کو صُوبوں کی بحث کی بجائے اپنی ڈمہ داری کا احساس کرنا چاہئیے!!
سخت ترین احکامات میں اس سنگین حادثے کے ذمہ داروں اور وزیر کی برطرفی کے ساتھ ساتھ ہر وارڈ میں آگ بجُھانے کے جدید اور بہترین انتظامات بھی خاص طور پر شامل ہونے چاہئیں!!!!
وزیر اعظم کے زیر صدارت پمز میں اتشزدگی کے حوالے سے ہنگامی اجلاس ختم
وزیر اعظم کا واقع پر شدید برہمی کا اظہار اور سخت ترین کاروائی کے احکامات۔
اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے سیکریٹری صحت کو معطل کرتے ہوئے اجلاس سے سے جانے کا کہا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعہ میں نومولود جاں بحق ہونے معصوم بچوں کے والدین سے دلی اظہار تعزیت کیا۔
اس اندوہناک واقعے پر دل رنجیدہ ہے
والدین کے اس دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیراعظم
اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائیں۔ وزیراعظم
اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کمیٹی تحقیقات شروع کردی
سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے