میں آئین کا کلمہ پڑھتا ہوں، کافر نہیں کہ محکموں کا فراڈیا منتر پڑھوں۔ پاکستان کا آئین، قانون، جمہوریت، پارلیمان، انسانی حقوق، عوام - زندہ باد
A newly constructed Bara Bridge and Vador Road project in Dera Ghazi Khan, #Punjab built for Rs. 130 million, has collapsed only months after completion.
So-called national media is not reporting because it happened in #Punjab, not in #Karachi,
@AbsarAlamHaider تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان فوج کا معرکہ بنگالیوں سے ہو، سندھیوں سے ہو، بلوچوں سے ہو، مہاجروں سے ہو، پختونوں سے ہو - پنجاب اور اہل پنجاب نے اپنے ساتھی پاکستانیوں کا ساتھ دینے کے بجائے ہمیشہ فوج کا ساتھ دیا۔
کیونکہ یہ دونوں اس Punjabi Colonial نظام پر ترقی کر رہے ہیں۔
" گھن چکر " (وہ جس میں ہم سات دہایوں سے گول گول گھوم رہے ہیں اور متلی ہو رہی ہے پر اس متلی کو بھی ہم کسی خوش خبری کا پیش خیمہ سمجھ کر مبارک بادیں دیتے ہیں )
پاکستان کے پچھتر برسوں کا اس سے بہتر خلاصہ کسی اور صحافی نے اتنے اختصار اور اتنی کلیرٹی کے ساتھ نہی بیان کیا ہوگا جتنا محمد حنیف @mohammedhanif صاحب نے کردیا - نہ اس سے کچھ کم نہ اس سے کچھ زیادہ - یہی حقیقت ہے اس نظام کی -
ہم بچپن سے یہ اقوال زریں سنتے سنتے بڑے ہویے ہیں کہ "ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہی ہے "
سیاست میں بھائی لوگوں کی مداخلت کی اس سے بڑی کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ گزشتہ پانچ دہایوں میں جب سے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ شروع ہوئی ہے :
جس کی ان سے ہیلو ہاے ٹھیک ہو ' وہ وزیر اعظم ہو -
جس کی ان سے بول چال خراب ہو' وہ جیل میں سڑے یا جلا وطن ہو یا پھانسی پر جھول رہا ہو -
جس کی ان سے پھر بھی سیٹنگ نہ ہو پر عوام کا وہ راج دلارا ہو وہ پھر بھی اڈیالہ میں رہے اور اپنی بینائی بھی کھودے -
جن کی ان سے ناراضگی کے بعد پھر سے سیٹنگ ہوجاے تو اس کو باہر سے بلاکر ائرپورٹ پر ہی فنگر پرنٹنگ ہوجاے اور سارے مقدمے ائر پورٹ کے استقبالیہ میں ہی ختم ہوجائیں -
زیادہ ہیلو ہاے ہو تو اس کا بھائی بھی وزیر اعظم ہو ' اس کی بیٹی بھی چیف منسٹر ہو ' اس کا سمدھی ڈپٹی پریم منسٹر ہو جس عہدے کا آئین میں ذکر ہی نہی -
عدلیہ اس کی تابع ہو - آئین اس کیلئے ترمیم زدہ ہو -
اس کے سیاسی حریف جیل میں ہوں -
جو باہر ہوں وہ سیاسی لحاظ سے غیر فنکشنل ہوں -
جس انتخابی نشان سے ان کو ٹکر کا مقابلہ ملے وہ بیلٹ پیپر پر موجود ہی نہ ہو -
اس تاریکی اور انسانیت سوزی پر جو آواز اٹھاے وہ بھی گرفتار ہوجاے -
اس گرفتار ہونے والو کی جو وکالت کرے وہ بھی اندر ہوجاے -
اس لاقانونیت پر جو جج انگڑائی لے اس کا ٹرانسفر ہوجاے -
جو پھر بھی نہ سمجھے اس کی ڈگری تیس سال بعد جعلی ثابت ہوجاے اور وہ ہائی کورٹ کے جج سے ایک عام سٹینر یا کلرک بن جائے -
جوصحافی اس کی سپورٹ میں دم ہلایے وہ "ستارہ امتیاز " ہو - جو اس کے خلاف لکھے وہ غائب یا گرفتار ہو - جو زیادہ بولے وہ دیار غیر میں جلا وطن ہو- جو وہاں بھی نہ سمجھے اور بادشاہ کو ننگا کہے تو کسی کینیا میں قتل ہو -
عوام جب اس آمریت کو اپنے ووٹ سے رد کرنے کی کوشش کرے تو اس کا ووٹ چوری ہو -
اس چوری پر وہ شور مچاے تو اس کے ووٹ ڈالنے کی عمر بڑھانے کی بات شروع ہوجاے اور اس عوام اس کو یہ طعنہ ملے کہ ہمیں تو عوام ہی بہت فارغ ملی ہے ' -
اس تمام فسطایت اور لاقانونیت میں کسی گلگت بلتستان کسی آزاد کشمیر میں الیکشن ہو ' جہاں جو منظور نظر نہ ہو وہ ائر پورٹ پر لینڈ ہوتے ہی گرفتار ہو ' جو ایک صفحے پر ہو وہ سندھ اور پنجاب سے یہاں تقریر کرنے پہنچے ' اور تب جب یووہ اس عوام میں جائے جو اس سے کراہت کرتی ہے ' نفرت کرتی ہے ؛ تو خود کو مظلوم اور "منہ بولا جنتی" ثابت کرنے کیلئے " انہوں ' ان ' وہ جی " کہ کر اسی عوام سے اپنے جلاوطن ہونے کا شکوہ کرنے لگے جو نہ نکالنے میں شامل تھی ؛ نہ واپس لانے میں دلچپسی رکھتی ہے اور اس کے بعد بھی جب وہ ہمدردی نہ ملے تو واپس آتے ہویے یہ نرم سی دھمکی لگا آے کہ آپ ووٹ دو نہ دو ' ہم تو آپ کی "خدمت" میں پیش پیش رہیں گے -
اور حب یہ سب تھیٹر سجا ہو ؛ تو اس تھیٹر کے ڈاریکٹر یعنی بھائی لوگوں کی ترقیاں ہوں - تھری سٹار سے فیلڈ مارشل کا ارتقا ہو - مدت ملازمت میں توسیع ہو اور اس کیلئے نیے نیے رینک آئین میں لکھ کر آئین کو "نواے وقت یا جنگ اخبار " بنادیا گیا ہو جہاں پھر سے ووہی شہ سرخی لکھی ہو کہ ہم غیر سیاسی ہیں -
یہی وہ گھن چکر ہے جس میں ہم کب سے گول گول گھوم رہے ہیں - ہم سب کے جی متلا رہے ہیں پر اس متلی کو بھی ہم کسی آنے والی خوش خبری کا پیش خیمہ سمجھ کر مبارک بادیں دیتے ہیں اور یونہی گھومتے گھومتے ایک دن چکرا کر گر جاتے ہیں اور راہی عدم ہوجاتے ہیں اور جب ہم دفناے جاتے ہیں تو ہماری قبر کے کتبے پر بھی یہ لکھا ہوتا ہے کہ
" ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہی ہے "
قلم کی جسارت وقاص نواز
-------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@ImranARaja1@javerias
اورنج ٹرین تین سو ارب روپے میں بنی یہ پیسہ صوبائی فنڈز سے بھی نہیں لیا گیا مریم نے اپنا زاتی پیسہ بھی نہیں لگایا اور یہ وفاق کا پیسہ بھی نہیں تھا یہ سی پیک سے تین سو ارب روپیہ لیا گیا تھا سی پیک گلگت سے گوادر تک بننا تھا
یہ بات PPP رہنما چوہدری منظور نے واضع کی
ثروت ولیم
19 گریڈ کا پروفیسر جس کی جوانی علم کی روشنی پھیلتے ہوئے گزری اور اسکی موت بھی علم کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہوئی۔۔۔وہ کباڑ سے خریدی 70 موٹر سائیکل پر ڈمپر کے نیچے آجاتا ہے جبکہ چار انگریزی کے لفظ پاس کرکے 17 گریڈ کا "بابو" سرکاری افسر دو کروڑ کی لینڈ کروزر میں چھ پولیس کمانڈوز کی حفاظت میں پیاز ٹماٹر کی ریڑھیاں الٹی کرتا ہے۔
19 گریڈ کا پروفیسر استاد چھ لاکھ کی پرانی مہران نہیں خرید سکتا، 14 گریڈ کا ایس ایچ او اسلام اباد ڈی ایچ اے اور کراچی کے بحریہ ٹاؤن میں دس کروڑ کا بنگلہ خرید لیتا ہے۔
بارہ گریڈ کا پچاس ہزار روپے تنخواہ لینے والے پٹواری کا بینک بیلنس تیس تیس کروڑ روپے ہوتا ہے اور وہ سو سو ایکڑ زرعی زمینوں کا مالک بن جاتا ہے جبکہ 19 گریڈ کا پروفیسر پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دیتا ہے، ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے پاس بیٹی کی شادی کے لئے پیسے نہیں ہوتے جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ کانسٹیبل بیٹی یا بیٹے کی شادی میں پچاس لاکھ روپے اڑا دیتا ہے۔
ثابت ہوا پیسہ تعلیم میں نہیں ناجائز پاور اختیارات میں ہے۔تلخ حقیقت
ن لیگ کی نئی سائنس ملاحظہ ہو۔ ن لیگی آمنہ شیخ فرماتی ہیں کہ جیسے امریکہ میں عوام کو سگریٹ سے دور رکھنے کیلئے سگریٹ مہنگا کیا گیا ہے،
اسی طرح ہم بھی پیٹرول مہنگا کر رہے ہیں تاکہ لوگ کم پیٹرول استعمال کریں۔ لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
عجیب منطق ہے بھئی !!
جس شادی میں دونوں کی رضامندی نہ ہو یا دونوں میں پیار اور انڈرسٹینڈینگ نہ ہو وہ ایک بھیانک خواب کی طرع ہوتی ہے پاکستان میں آج بھی %90 شادیاں اس اصول پہ ہوتی ہیں