🚨 بریکنگ نیوز
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایران کی حالیہ میزائل کارروائی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے “سنگین غلطی” کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی اسرائیل میں ایرانی میزائل کے شدید حملے کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام نے مزید ردِعمل اور فوجی کارروائی کے اشارے دیے ہیں۔ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دونوں جانب کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ (Axios)
🚨 BREAKING NEWS
An Israeli military spokesperson has stated that Iran has “made a grave mistake” following the latest missile attack. Reports indicate a significant Iranian missile strike in northern Israel, while Israeli officials have signaled the possibility of further military action. The situation remains highly volatile, with fears of a wider regional escalation. (Axios)
#BreakingNews #Iran #Israel #MiddleEast #IranIsraelConflict #Geopolitics #WorldNews #RiffatWaniOfficial
قطر کے وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ایران کو خلیجِ ہرمز کو خلیجی ممالک کے خلاف “بلیک میلنگ” کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی خطے کے استحکام اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
Qatar’s Prime Minister has stated that Iran should not use the Strait of Hormuz to “blackmail” Gulf countries.
He emphasized that freedom of navigation in the Strait of Hormuz is vital for regional stability and the global economy.
#Qatar #Iran #StraitOfHormuz #MiddleEast #BreakingNews #RiffatWaniOfficia
بریکنگ نیوز: یو اے ای نے ایران، عراق اور لبنان میں موجود اپنے شہریوں کو فوری واپسی کی ہدایت جاری کر دی
رپورٹ از: رفعت وانی | صحافی / انسانی حقوق کارکن
30 اپریل 2026
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے ایک اہم اور ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو ایران، عراق اور لبنان کا سفر نہ کرنے کی سخت ہدایت دی ہے، جبکہ ان ممالک میں پہلے سے موجود اماراتی شہریوں کو فوری طور پر وطن واپس آنے کا کہا گیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق موجودہ علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ معمولی احتیاط نہیں بلکہ ایک سنجیدہ حفاظتی اقدام ہے، جس کے تحت نہ صرف سفر پر پابندی عائد کی گئی ہے بلکہ وہاں موجود شہریوں کو “جلد از جلد واپسی” کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ صورتحال کو سنجیدگی سے لیں اور فوری طور پر متعلقہ سفارتی مشنز سے رابطہ کریں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور مختلف ممالک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔
#UAE #BreakingNews #MiddleEast #Iran #Lebanon #Iraq #GlobalTensions #RiffatWaniOfficial
مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بھارتی فضائیہ کا ایک طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں، تاہم بعض رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر اپنے ہی ائیر ڈیفنس سسٹم کی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
An Indian Air Force aircraft has crashed in Kishtwar, located in Indian-administered Kashmir. The exact cause of the incident remains unclear, but initial reports suggest it may have been mistakenly shot down by its own air defense system. No official confirmation has been issued so far.
#BreakingNews #Kashmir #IndianAirForce #AirCrash #RiffatWaniOfficial
ایران نے امریکی دباؤ اور Donald Trump کی دھمکیوں کے جواب میں واضح کر دیا ہے کہ اگر حالات مزید کشیدہ ہوئے تو پہلے سے طے شدہ اہداف پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے امریکی شرائط مسترد کر دی ہیں اور جنگ بندی میں یکطرفہ توسیع کو غیر مؤثر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایرانی قیادت نے ناکا بندی کو بھی کھلی جارحیت کے برابر قرار دے کر سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔
#Iran #USIranTensions #BreakingNews #MiddleEast #RiffatWaniOfficial
برلن میں ایرانی مظاہرین کی جانب سے رضا پہلوی پر ٹماٹر سوس پھینکنے کا واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک عوامی تقریب کے دوران احتجاج نے اچانک شدت اختیار کر لی۔ یہ واقعہ ایرانی کمیونٹی کے اندر موجود اختلافات اور سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔
An Iranian demonstrator threw tomato sauce at Reza Pahlavi during a public appearance in Berlin, highlighting growing tensions and divisions within the Iranian diaspora.
#RezaPahlavi #BerlinProtest #IranDiaspora #BreakingNews #RiffatWaniOfficial
بیٹیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچانے والا عظیم صحابی — انسانیت کا روشن باب
Report by: Riffat Wani | Journalist / Human Rights Activist
20 اپریل 2026
اسلامی تاریخ کے اوراق میں کچھ ایسے کردار بھی ملتے ہیں جو صرف اپنے زمانے کے ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا مینار بن جاتے ہیں۔ انہی عظیم شخصیات میں ایک نام حضرت صعصعہ بن ناجیہ کا ہے، جنہوں نے اُس دورِ جاہلیت میں انسانیت کی ایسی مثال قائم کی جب بیٹی کی پیدائش کو باعثِ شرم سمجھا جاتا تھا اور معصوم بچیوں کو زندہ زمین میں دفن کر دینا ایک عام رسم تھی۔
یہ وہ سیاہ دور تھا جب باپ اپنی ہی اولاد کو اپنے ہاتھوں مٹی میں دفن کر دیتا تھا، اور معاشرہ اسے کوئی جرم نہیں سمجھتا تھا۔ ایسے ماحول میں حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ اس ظلم کے خلاف ایک عملی جدوجہد شروع کی۔ وہ ان لوگوں کے پاس جاتے جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اور ان سے بچی کی جان کے بدلے اونٹوں کی پیشکش کرتے تھے۔ روایت کے مطابق وہ ایک بچی کی جان بچانے کے لیے تین اونٹ تک دے دیتے تھے، جو اس وقت ایک بہت بڑی قیمت تھی۔
یہ محض ایک مالی لین دین نہیں تھا بلکہ انسانیت کے لیے ایک بے مثال قربانی تھی۔ حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ نے اس طریقے سے درجنوں بچیوں کو موت کے منہ سے نکالا۔ وہ ہر اس دروازے پر گئے جہاں ظلم ہونے والا تھا، اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اس ظلم کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو ایک فرد بھی پورے معاشرے کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔
جب اسلام کا نور پھیلا اور نبی کریم ﷺ نے انسانیت، رحم اور عدل کا پیغام دیا تو ایسے تمام ظالمانہ رسم و رواج کو جڑ سے ختم کر دیا گیا۔ قرآن مجید نے اس ظلم کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ قیامت کے دن اس معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا۔ اسلام نے بیٹی کو رحمت قرار دیا اور اس کے حقوق کو معاشرے میں عزت کے ساتھ تسلیم کروایا۔
حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کا یہ کردار آج کے دور میں بھی ایک زندہ سبق ہے۔ جب ہم انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی بنیادیں صدیوں پہلے انہی عظیم انسانوں نے رکھی تھیں۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل انسانیت ہے، اور ایک جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔
آج جب دنیا ترقی کے دعوے کرتی ہے، تب بھی کہیں نہ کہیں بچیوں کے ساتھ ناانصافیاں جاری ہیں۔ ایسے میں حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمیں جھنجھوڑتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ اصل ترقی وہی ہے جہاں ہر جان کو جینے کا حق حاصل ہو۔
#IslamicHistory #Humanity #GirlsRights #Justice #RiffatWaniOfficial
رپورٹ از: رفعت وانی
لبنان کے جنوبی ضلع بنت جبیل کے قصبے تبنین پر اسرائیلی فضائی حملہ، الجزیرہ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق تازہ بمباری سے علاقے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
Israeli airstrike targets the town of Tibnin in the Bint Jbeil district of southern Lebanon, according to an Al Jazeera correspondent, escalating tensions in the region once again.
#BreakingNews #Lebanon #Israel #MiddleEast #Tibnin #BintJbeil #AlJazeera #Conflict #RiffatWaniOfficial
بریکنگ
چین نے آبنائے ہرمز میں فوج بھیجنے کے لیے ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی، بیجنگ کا کہنا ہے کہ کشیدگی کم کی جائے اور خطے میں مداخلت کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جائے۔
China has rejected Trump’s request to send troops to the Strait of Hormuz, urging de-escalation and prioritizing diplomacy over military involvement.
#BreakingNews #China #Iran #Hormuz #Trump #Geopolitics #MiddleEast #RiffatWaniOfficial
نیتن یاہو کے دفتر کا بیان: پاکستان کے وزیرِ دفاع کی جانب سے اسرائیل کی تباہی کی کال کو اشتعال انگیز قرار دے دیا گیا، جس پر سفارتی سطح پر تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
Netanyahu’s office calls Pakistan’s Defense Minister’s statement “outrageous,” warning it undermines neutrality and peace mediation efforts.
#IsraelPakistan #BreakingNews #MiddleEastTensions #DiplomaticCrisis #GlobalPolitics #RiffatWaniOfficial
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک کی جانب میزائل حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
Iran’s Revolutionary Guards have strongly denied any involvement in missile launches toward Gulf countries.
#Iran#Gulf#BreakingNews#MiddleEast #RiffatWaniOfficial
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خلیجی ممالک کی جانب میزائل حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
Iran’s Revolutionary Guards have strongly denied any involvement in missile launches toward Gulf countries.
#Iran#Gulf#BreakingNews#MiddleEast #RiffatWaniOfficial
ایران نے سیزفائر ڈیل کے بعد خلیج فارس کے علاقے میں آبنائے ہرمز کو کچھ دیر کے لیے کھول دیا تھا، تاہم کئی ہفتوں کی بندش کے بعد دوبارہ کھولے جانے سے محض کچھ ہی دیر بعد ایران نے اس تنگ سمندری راستے کو دوبارہ بند کر دیا، جس کی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلادف ورزیاں بتائی گئی۔
سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد پہلی سفارتی بات چیت، خطے میں اہم پیش رفت
Report by: Riffat Wani | Journalist / Human Rights Activist
9 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد پہلی براہِ راست بات چیت ہوئی ہے۔ یہ معلومات سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دی گئی ہیں، جس کے بعد اس پیش رفت کو خطے میں ممکنہ تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ شدید سیاسی اور عسکری دباؤ کا شکار ہے، اور عالمی سطح پر اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے۔ اگرچہ اس گفتگو کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق بات چیت میں خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سعودی عرب اور ایران نہ صرف خطے کی دو بڑی طاقتیں ہیں بلکہ ان کے تعلقات کا براہِ راست اثر مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی سمت اور سلامتی پر پڑتا ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے درمیان براہِ راست رابطہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی بات چیت مستقبل میں مزید مذاکرات کی بنیاد رکھ سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب توانائی کے وسائل، سمندری راستوں اور علاقائی استحکام کے حوالے سے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس رابطے کو ایک ابتدائی مگر اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے جو ممکنہ طور پر کشیدگی کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کسی بھی سطح پر مکالمہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی استحکام کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
#SaudiArabia #Iran #MiddleEast #Diplomacy #Geopolitics #RiffatWaniOfficial
کشمیری رہنما آسیہ اندرابی کو تین عمر قید کی سزائیں، عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ
Report by: Riffat Wani | Journalist / Human Rights Activist
9 اپریل 2026
نئی دہلی کی ایک خصوصی عدالت کے فیصلے نے ایک بار پھر کشمیر میں شہری آزادیوں اور اختلافِ رائے کے حق پر شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں معروف کشمیری سیاسی رہنما آسیہ اندرابی کو تین مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ 64 سالہ آسیہ اندرابی، جو ایک دادی بھی ہیں، کو ان کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین کے ساتھ اس مقدمے میں سزا دی گئی، جنہیں بالترتیب 30، 30 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ فیصلہ 24 مارچ کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی خصوصی عدالت کی جانب سے سنایا گیا، جس کے بعد قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی سخت سزا نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر میں اختلافی آوازوں کے لیے گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
آسیہ اندرابی، جو کالعدم تنظیم دُخترانِ ملت کی بانی ہیں، طویل عرصے سے ایک متنازع مگر نمایاں سیاسی شخصیت رہی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ زیادہ تر تقاریر اور نظریاتی بیانات پر مبنی دکھائی دیتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اظہارِ رائے کو بھی مجرمانہ دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔
صوفی فہمیدہ، جو وہیل چیئر پر ہیں، اور نہیدہ نسرین کو بھی 2018 میں آسیہ اندرابی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ قانون، جو 2008 میں متعارف ہوا، 2019 میں مزید سخت کیا گیا، جس کے تحت اب صرف تنظیموں ہی نہیں بلکہ افراد کو بھی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔
قانونی مبصرین کے مطابق اس ترمیم نے ریاستی اداروں کو غیر معمولی اختیارات فراہم کیے ہیں، جن کے تحت کسی بھی فرد کو طویل عرصے تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ ایسے معاملات میں بھی جہاں براہِ راست تشدد کا کوئی واضح ثبوت موجود نہ ہو۔ آسیہ اندرابی کے کیس میں بھی یہی مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ زیادہ تر الزامات ان کے بیانات اور خیالات کے گرد گھومتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے، جہاں کشمیر میں سیاسی اختلاف کو دبانے کے لیے سخت قوانین کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اس مقدمے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو حقیقی خطرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا انہیں اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے ایک آلہ بنا دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور سیاسی سطح پر بھی گہرے سوالات کو جنم دے رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر عالمی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
#Kashmir #AasiyaAndrabi #HumanRights #UAPA #FreedomOfSpeech #RiffatWaniOfficial
لبنان پر قیامت خیز حملے: اسرائیلی بمباری میں سینکڑوں افراد جاں بحق
Report by: Riffat Wani | Journalist / Human Rights Activist
9 اپریل 2026
لبنان ایک بار پھر شدید تباہی اور انسانی المیے کا شکار ہو گیا ہے جہاں اسرائیل نے ملک بھر کے مختلف علاقوں پر اپنی تاریخ کے سب سے بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 250 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 1000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حملوں کا نشانہ صرف عسکری مقامات ہی نہیں بلکہ گنجان آباد شہری علاقے بھی بنے، جس کے باعث عام شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جہاں زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث طبی عملہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کئی علاقوں میں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں جبکہ آگ اور دھوئیں کے بادل فضا میں پھیلے ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق رات بھر مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری رہا، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے جبکہ کئی لوگ اب بھی ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ امدادی ٹیمیں محدود وسائل کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم سیکیورٹی خدشات ان کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
لبنانی حکومت نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ مزید خونریزی کو روکا جا سکے۔
خطے میں اس نئی شدت نے وسیع تر جنگ کے خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ عالمی رہنما صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
زمینی حقائق یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لبنان ایک بار پھر درد، تباہی اور غیر یقینی صورتحال کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔
#Lebanon #Israel #MiddleEastCrisis #BreakingNews #RiffatWaniOfficial