خیبرپختونخواہ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ احتجاج اور لانگ مارچ کیلئے پنجاب کیا کر رہا ہے۔
یہ سوال خیبرپختونخواہ کو نہیں خود پنجاب کو پوچھنا چاہیئے مرکزی اور پنجاب قیادت سے ۔ جو لانگ مارچ کی ساری توجہ اور امید صرف کے پی سے رکھ کر اس حقیقی سوال کی جواب دہی سے اپنی جان چھڑا رہے ہیں
"جنازے تو ہم اٹھا رہے ہیں کندھوں پر تو ہمارے بوجھ ہے،ہمارے لوگ شہید ہورہے ہیں،چاہے کسی بھی فرقے سے ہوں، کسی بھی وردی میں ہوں، کسی بھی صوبے سے ہوں ہمارے لوگ ہیں ہم ان کو own کرتے ہیں۔ تکلیف تو ہمیں ہے انہیں کیا ہے؟ وہ تو گیارہ گیارہ ارب کے جہاز خرید رہے ہیں۔ایک ارب روپے کی پرپل انٹیریر والی گاڑیاں منگوا رہے ہیں۔ علاج کروانے باہر جارہے ہو، لندن اور دبئی میں فلیٹس خرید رہے ہو،خیبرپختونخوا کی عوام، پاکستان کی عوام سچ جانتی ہے وہ آپ کے جھوٹے بیانیوں کو نہیں مانتی"۔ وزیراعلی @SohailAfridiISF
عمران خان کے ساتھ منصوب جھوٹی خبریں پھیلانے والو، عمران خان سے جا کر سیدھی معافی ہی کیوں نہیں مانگ لیتے؟
بیشرمو، جب تک اس کی بہن نورین نیازی آزاد تھی، وہ جواب دے سکتی تھی تب بات پھیلاتے ناں؟ جب گرفتار کر لیا تو ٹاؤٹوں کے خبر پھیلاتے ہو؟
#نکلو_ڈٹ_جاؤ_خان_کیطرح
Still no reason as to why they’re incarcerated. Please turn your attention towards Pakistan. It’s currently a state of chaos, with violent, vindictive criminals in charge.
They only fear foreign intervention. People within Pakistan are oppressed, if they speak out, they put their families in life threatening danger. @andyburnham@Ed_Miliband, I implore you to take a stand. Urge this establishment to listen to reason and free those unjustly incarcerated.
اج علیمہ خان صاحبہ کے حوالے سے جو کہ اس لاہور ہائی کورٹ میں فکس تھا جس میں ان سے ملاقات اور ان کو دوائیاں اور کپڑے دینے کے لیے سدا کی گئی تھی لاہور ہائی کورٹ کی جج محترمہ عبہر گل صاحبہ نے دوائیاں اور کپڑے دینے کا حکم جاری کر دیا مگر ملاقات کے لیے ہوم سیکرٹری پنجاب سے رابطہ کرنے کے لیے کہا۔
اصل میں عطا تارڑ صاحب کو تو اپنے گھر والے بھی سنجیدہ نہیں لیتے۔ ان کے کہنے پر تو گدھا بھی راستہ تبدیل نہیں کرتا، تو پی ٹی آئی انہیں کیا سنجیدہ لے گی؟ ہم تو ان کا رونا سننا چاہتے تھے، ان کی فرسٹریشن دیکھنا چاہتے تھے یہ بیچارے رو رہے ہیں۔ ہم ان کے مالکوں کو سنجیدہ نہیں لیتے، عطا تارڑ کہاں سے آ گئے؟
سب کو پتا ہے کہ اسامہ بن لادن سے کون پیسے لیتا تھا۔ اے این پی کی حکومت میں یہاں دھماکے ہوتے تھے تو شہباز شریف صاحب طالبان سے درخواستیں کرتے تھے کہ آپ یہاں نہ آئیں۔ ہمیں پتا ہے کہ کون کس کے ساتھ ہے، کس طرح ہے اور کن تنظیموں کے ساتھ کس کے رابطے رہے ہیں۔ یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔
اتوار کو لندن میں ہونے والے احتجاج میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے فوجی آمر عاصم منیر کے ہاتھوں عمران خان پر کیے جانے والے تشدد کے خلاف تارکینِ وطن میں غم و غصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
#FreeImranKhan
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں پہلے نمبر پر آچکا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ جس ملک کی سپاہ ہی دہشت گردوں کی سہولتکار ہوں، انہیں لا کر بسانے کی دلیلیں فراہم کرتی رہی ہوں اور تو اور ان کو ساتھ ملا کر سیاست دانوں کو اغوا کرتی ہوں۔ وہاں امن تو پھلنے پھولنے سے رہا۔
ذیل میں پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی میں اس مافیہ کے کردار کی تاریخ کے متعلق اپنی کتاب ”دزدِ نیم شب کا رقیب“ کے متعلقہ اقتباسات جو پاکستان میں دہشت گردی کی واپسی کی ٹائم لائن ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے کہ کیسے آپ کو ایندھن بنانے کا سامان کیا گیا۔ اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی آپ کے قاتلوں کو حسبِ منشاء لایا لے جایا جاتا رہا۔ پڑھیے اور اپنی قسمت پر ماتم کیجیے کہ جن کے محافظ ان کا سودا کرآئیں اُن کا اپنی قسمت پر رونا ہی بنتا ہے۔
1/5
عمران خان کی بہنوں کو جب گرفتار کیا گیا تو 100 سے زائد پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے، اس وقت ظلم فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ہے،
سیکرٹری جنرل بیریسٹر @salmanAraja کی لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کیس کے بعد گفتگو
عمران خان کی بہنوں کو جب گرفتار کیا گیا تو 100 سے زائد مرد پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے، وہاں بچیاں تھیں، انہوں نے دروازے توڑے۔
اس وقت ظلم فسطائیت، سفاکیت کی انتہا ہوچکی ہے، سلمان اکرم راجہ کی لاہور ہائیکورٹ میں علیمہ خان کیس کے بعد گفتگو.
#FreeAleemaKhan
سب کچھ کرکے دیکھ لیا ، سبھی کچھ ۔پی ٹی آئی کی مقبولیت میں رتی برابر کمی نہیں ائی۔ تبدیلی کی آرزو تاریخ میں ایک اٹل قانون کے طور پر کارفرما رہا ہے ۔ کسی بھی صورت حال میں یہ کبھی نہیں بدلتا۔ ایک نیا عمرانی معاہدہ ملک کا مقدر ہے۔
بد نظمی، بے یقینی اور عدم استحکام کے ہر عہد کے بعد قانون کے نفاذ کی ایک شدید بلکہ لامتناہی آرزو قوموں کے دلوں میں جنم لیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خواہش سیلاب کی سی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
سیلاب ایا تو کون اسے روک سکے گا؟
پختونخوا میں گورنر راج؟ یہ وزارت عظمی سے عمران خاں کی برطرفی جیسا ایک Blunder ہو گا ۔ پی ٹی آئی کے سب داغ دھل جائیں گے۔ کامیابیاں اجاگر ہونے لگیں گی۔ صوبہ چلائے گا کون ؟
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی خان کی رہائشگاہ پر سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کے چھاپے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ ایسے اقدامات نہ صرف تشویش ناک ہیں۔ اس طرزِ عمل سے صرف ان عناصر موقع ملے گا جو آئین و قانون پر یقین نہیں رکھتے۔
پی ٹی آئی نفسیاتی محاذ پر اپنی جنگ جیت چکی۔حکومت اکتا رہی ہے، اس کی پولیس پریشان ہے۔ نون لیگ کو بدترین نامقبولیت کا سامنا ہے، بالخصوص محترمہ وزیر اعلٰی پنجاب اور ان کے خاندان کو ۔رہا انتظار تو تاریخ کے عظیم ترین لیڈروں کو بھی اس سے گزرنا پڑتا ہے۔ حتی کہ جلیل القدر پیغمبروں کو بھی ، جن سے اہل سیاست کا کوئی موازنہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ادنی سی مشابہت بھی ممکن ہے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نامقبول گروہ اخر کو لازما ہار جایا کرتے ہیں۔ ہر قوت کی محدودات limitations ہوتی ہیں۔ عوامی رجحانات تقدیر الہی کے مظہر ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کو کچھ عرصے کے لئے ہی اقتدار سے دور رکھا جا سکتا ہے۔ احتجاج کے ساتھ ساتھ اسے مستقبل کے لئے اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اقتدار کے بعد اس کا اصل امتحان شروع ہو گا۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری ناقص تنظیم ہے۔ باہم متصادم متعدد مختلف آرا۔ ۔پھر یہ کہ
وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے خام
خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ کا اراکینِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری، حراست یا تحویل سے متعلق اہم مراسلہ
خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے آئی جی پولیس خیبرپختونخوا کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اسمبلی اختیارات، استحقاقات و مراعات ایکٹ ۲۰۲۶ کی دفعہ ۱۱ پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے۔
مراسلے کے مطابق کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کو فوجداری الزام یا جرم کے مقدمے میں گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے قبل اسپیکر صوبائی اسمبلی سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسپیکر ضرورت سمجھنے پر متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان بھی طلب کر سکتے ہیں۔