وہ شخص یوں تو کسی کام کا نہیں لیکن
سُنا ہے اُس کے یہاں انتظام ہوتا ہے
کھڑا ہوں کتنے ہی رشتوں کو تھام کر جواد
اور ایسے میں جو مرا انہدام ہوتا ہے
جواد شیخ
فراق ِ یار سے کیا کیا امید تھی لیکن
یہ رنج بھی کوئی دو چار گام ہوتا ہے
اسیر اسیر ہی ہوتا ہے ، قید کوئی بھی ہو
کسی بھی شکل میں ہو دام دام ہوتا ہے
شعور جس میں نہ ہو اُس میں شاعری کیا ہو
جو خوش بدن ہو وہی خوش خرام ہوتا ہے
بس اِک نگاہ میں ��صہ تمام ہوتا ہے!
تو کیا یہ واقعی اتنا سا کام ہوتا ہے؟
کسی کے سرد رویے پہ خامشی کا لحاف
یہ انتقام بھی کیا انتقام ہوتا ہے
کبھی کبھی کوئی لقمہ کہیں کہیں کوئی کام
حلال ہوتے ہوئے بھی حرام ہوتا ہے
وہ حقیقی ہو مجازی یا کسی اپنے کی
میں نے ہر طور محبت میں خسارے جھیلے
دکھ بھی دیتے ہیں تو بنتے ہیں سہارا اپنے
اور جس کرب سے میں نے یہ سہارے جھیلے
سونیا کانجو
میں اس خلوص کے صدقے! اے سامعین مگر
جو حال بول نہ پائیں کسے سناتے ہیں؟
کسے بتاتے ہیں آنکھوں کی سرخیوں کا سبب؟
بہت اداسی میں کس کو گلے لگاتے ہیں!
تعبیر علی
جہاں ہو پیار غلط فہمیاں بھی ہ��تی ہیں
سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے
ہمیں ہماری انائیں تباہ کر دیں گی
مکالمے کا اگر سلسلہ نہیں کرتے۔۔۔۔
جو ہم پہ گزری ہے جاناں وہ تم پہ بھی گزرے
جو دل بھی چاہے تو ایسی دعا نہیں کرتے
یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے
جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے
ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا
ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے۔۔۔
یہ آئینوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں
کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے
مروان چالیس منٹ اُس کے ساتھ بیٹھا
اُس کی باتیں سنتا رہا
اور جب اُس نے جانے کا فیصلہ کیا تو
حلیمہ نے کہا: میں تم سے پوچھنا بھول گئی
تمھاری عمر کیا ہے ؟
مروان: نے مسکرا کر جواب دیا :
"فقط چالیس منٹ"