3/3
پس جوچیزایک سائنسی حقیقت ہو، سائنسی بنیاد پر ثابت شدہ ہو اورانسانوں کی فلاح وبہبود اور اس کے مقاصد کی اشاعت و ترویج کے لئے مفید ہووہ بالآخر بلاامتیازِ مذہب ومسلک مانی جاتی ہے۔
میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بحیثیت مسلمان کسی بھی فقہ یا مسلک کے ماننے والے ہوں، میں نہیں کہتا کہ آپ اپنامسلک یاعقیدہ چھوڑ دیں، آپ بے شک اپنے اپنے مسلک وعقیدے پر قائم رہیں لیکن دوسرے کے فقہ، مسلک وعقیدے میں کیڑے نہ نکالیں، آپ اپنے طریقے سے نماز پڑھیں، دوسرے مسلک کے ماننے والے کواس کے طریقے سے نماز پڑھنے دیں، آپ اوروہ نمازمیں اللہ کو ہی سجدہ کررہے ہیں، اسی کی عبادت کررہے ہیں۔ لہٰذانماز کی ادائیگی کے طریقے میں اختلاف اورعقائد کی بنیاد پرآپس میں ایک دوسرے سےنفرت نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کااحترام کریں، ایک دوسرے کے ساتھ پیارمحبت سے پیش آئیں۔آپس میں دوستی کریں، آپس میں گھلیں ملیں۔آپ کسی بھی مذہب یاکسی بھی مسلک کے ماننے والے ہوں، آپ انسان ہیں اورانسانی رشتہ تمام رشتوں پر مقدم ہوتا ہے۔ مذہب یاعقیدے کی بنیاد پر لوگوں سے نفرت کرناانسانیت اورانسانی رشتے کی صریحاً نفی ہے۔
اسی طرح کسی بھی شہری کامذہب کوئی ب��ی ہو، اگروہ آپ کے مذہب کا ماننے والا نہیں ہے تواس بنیاد پر اس سے لڑائی کرنا، علاقے میں فساد برپا کرنا، لوگوں کو فسادپر اکسانا، مذہب کی بنیاد پر کسی کوقتل کردینا،اس کی عبادت گاہ، اس کے گھر کو جلا دینا سراسر غلط فعل ہے۔ اگرآپ مذہب کی بنیاد پر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو قتل کررہے ہیں، اس کی عبادت گاہ یا گھر کو جلا رہے ہیں اوراس عمل کو اپنے مذہب کی بنیاد پردرست قراردے رہے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ آپ اس عمل کو اپنے مذہب کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں جبکہ کوئی بھی مذہب قتل وغارتگری، اشتعال انگیزی اوراس طرح کے کاموں کا درس نہیں دیتا۔
اسی طرح زبان،قومیت یاعلاقے کا معاملہ آجاتا ہے، اس بنیاد پر بھی آپس میں ایک دوسرے سے نفرت یا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ میراپیغام یہی ہے کہ ہر زبان، ہر علاقے، ہرقوم کے انسان سے محبت کرو، کسی سے نفرت نہ کرو۔اسی طرح مذہب ومسلک اورعقیدے کی بنیاد پر کسی سے نفرت اورجنگ وجدل نہ کرو بلکہ ایک دوسرے کے مذہب ومسلک کااحترام کرو۔
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کی بہتری اور فلاح اسی میں ہے کہ ہم خودبھی جئیں اور دوسرے کوبھی جینے ��یں،ہم اپنے معاشرے کو ایسامعاشرہ بنائیں جہاں جنگل کا قانون نہ ہو جہاں ہر طاقتور جانور کمزور جانور کوکھا جاتا ہے بلکہ ہمارامعاشرہ انسانوں کا ایسا معاشرہ ہو جہاں انسانیت کااحترام کیاجائے، انسانوں کے ساتھ مذہب، فقہ، مسلک، عقیدے، زبان، علاقے، یا کسی بھی بنیاد پر نفرت، تعصب، تفریق یا امتیاز نہ کیا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 397 ویں فکری نشست سے خطاب
18اپریل 2026ء
کراچی میں امن و امان کی صورتحال :
شاہ فیصل کالونی پل کے بعد مسلح ڈاکوؤں کا جیل چورنگی پل پر ناکہ لگاکر آزادی کے ساتھ شہریوں سے لوٹ مار۔
سپرہائی وے پر شہریوں سے لوٹ مار ۔
شہر کا کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں دن ہو یا رات ، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی موجودگی میں شہ��یوں کو نہ لوٹا جارہا ہو۔
کراچی چوروں ، لٹیروں، ڈاکوؤں اور ان کے سرپرستوں کے نرغے میں ہے۔
پھر بھی پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کے بے شرمی سے دعوے ہیں کہ کراچی میں امن وامان کی صورتحال مثالی ہے ۔
آبنائے ہرمزکے دوبارہ بند ہونے،امریکی ناکہ بندی اورایرانی جہازپرامریکی قبضے کے بعد امریکہ اورایران کےدرمیان مذاکرات غیریقینی صورتحال کا شکارہوگئے ہیں،امریکہ اور ایران میں مذاکرات کادوسرا راؤنڈ ہوتا ہے یانہیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ دونوں جانب سے بیانات کی جنگ جاری ہے اورجنگ کے بادل دوبارہ منڈلانے لگے ہیں۔ اس صورتحال میں ہم پوزیٹوریزنکال سکتےہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرسکتے ہیں کہ دونوں ملک دوبارہ مذاکرات کی میزپرآئیں،مذاکرات کامیاب ہوں اور مستقل جنگ بندی ہوجائے۔
خطے میں مسلط کردہ اس جنگ میں گزشتہ 51 دنوں میں بہت خون بہہ چکا ہے، ہزاورں نوجوان، بزرگ، عورتیں اوربچے شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے جن میں بہت سے عمر بھر کے لئے معذور ہوگئے ہیں۔ہمیں سمجھنا چاہیےکہ جب جنگوں میں بچوں کے ماں باپ مارے جاتے ہیں توان کے یتیم بچوں کا کیا مستقبل ہوتا ہے اورجو بچے مارے جاتے ہیں ان کے ماں باپ کے دلوں پر کیا گزرتی ہے، ان کے جذبات کیا ہوتے ہیں، دونوں جانب سے سب کوایک ہی جیسا دکھ اورتکلیف ہوتی ہے، کسی ایک مذہب کے مارے جانے والے افراد ان کے لواحقین کوجتنے پیارے ہوتے ہیں اتنے ہی پیارے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے لئے ہوتے ہیں۔ جنگوں میں لہوکے بہنے، معصوم انسانوں کی ہلاکتوں اوربمباری سے ہونے والی تباہی دیکھ کر انسانیت سے محبت کرنے والےہرفرد کا دل دکھتا ہے۔لہٰذا انسانوں کاخون بہانے کا یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور امن اورانسانیت کی فلاح وبہبود کی بات کی جانی چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 398 ویں فکری نشست سے خطاب
19 اپریل 2026ء
وینزویلا پر امریکی فوج کاحملہ اور اس حملے میں وینزویلاکے صدرنکولس مادورو (Nicolás Maduro) کو ان کی اہلیہ سمیت اغواکرنااورہتھکڑیاں لگاکر امریکہ لے جانا تاریخ کا ایک انتہائی انہونا واقعہ ہے جس کی انسانی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔اس واقعہ نے ایک مثال قائم کردی ہے اوراب یہ واقعہ تیسری عالمی جنگ کاآغاز بنے گا۔
کئی صدیاں قبل ایک ملک دوسرے ملک پر حملہ کرکے وہاں کی سلطنت کا تختہ پلٹ کر اس ملک پر قبضہ کرلیاکرتا تھا لیکن تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ پڑھنے یا سننے کو نہیں ملتا کہ کسی ملک کی فوج نے دوسرے ملک پر حملہ کرکے اس ملک کے صدر اوراس کی اہلیہ کو اغوا کرکے اپنے ملک لے گیا ہو؟ تاریخ میں ایسے واقعات تو ملتےہیں کہ کسی ملک پر کسی دوسرے ملک نے حملہ کرکے بادشاہ اور اس کے بیوی بچوں کو قتل کردیا ہولیکن کیاایسا واقعہ ہوا ہے کہ کسی ملک پر حملہ کرکے اس کے صدر کو اہلیہ سمیت اغواء کرلیا گیا ہو؟
تاریخ میں گریگ ایمپائر، رومن ایمپائر، اسپینش ایمپائر، مغل ایمپائر، اوٹومن ایمپائر، آسٹروہنگیرین ایمپائر، برٹش ایمپائر گزری ہیں۔ یہ سلطنتیں اپنے اپنے جغرافیے کو بڑھانے کیلئے ملحقہ ملکوں اور ریاستوں پر حملہ آورہوجاتی تھیں اور انہیں اپنے ساتھ ملا لیا کرتی تھیں اس طرح ان کی سلطنتوں کا دائرہ وسیع سے وسیع ترہوتا چلاگیا۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں بھی غزوات اور جنگوں کا ذکر ملتا ہے۔ لیکن تاریخ میں آج تک کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ کسی ملک نے دوسرے آزاد اورخودمختار ملک پر حملہ کرکے اس ملک کے صدر اور اس کی اہلیہ کو اغوا کرلیا ہو ۔وینزویلاایک آزاد اور خودمختار ملک ہے، 3جنوری 2026ء کوامریکہ کی جانب سے وینزویلا پرحملہ اس کی آزادی اور جغرافیائی خودمختاری پر حملہ ہے، وینزویلا کے صدر اوران کی اہلیہ کوجس طرح حراست میں لے جایا گیا ہے، یہ واقعہ پوری انسانی تاریخ میں انوکھا اور انہونا واقعہ ہے۔
اقوام متحدہ کاکردار:
پہلی جنگ عظیم جو 1914ء میں شروع ہوئی اور 1918ء میں ختم ہوگئی۔ اس جنگ عظیم اول میں 15 سے 22 ملین افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم 1939ء میں شروع ہوئی اور1945ء تک جاری رہی۔ اس جنگ عظیم دوئم میں 80 ملین افراد ہلاک ہوئے۔ جس کے بعد دنیا کے ممالک سرجوڑ کربیٹھے کہ ہم کب تک اسی طرح جنگیں کرکے نسل انسانی کوختم کرتے رہیں گے لہٰذا ممالک کے درمیان تمام تنازعات اوراختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے اور ممالک کے درمیان تنازعات اور اختلافات کوحل کرنے کے لئے کوئی فورم تشکیل دیاجائے لہٰذا تمام ممالک نے مل کر ”لیگ آف نیشنز “ قائم کی۔ لیگ آف نیشنز میں کچھ خرابیاں تھیں لہٰذا اس کے بعد 1945ء میں اقوام متحدہ United Nations کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ممالک کے درمیان تنازعات کوبات چیت سے حل کیاجائے اورلڑائیوں اورجنگوں کی نوبت نہ آئے۔ 1945ء سے آج 4، جنوری 2026ء کے دن تک دنیا میں سینکڑوں جنگیں ہوچکی ہیں جن میں لاکھ��ں افراد کی جانیں چلی گئیں اوراقوام متحدہ کا ادارہ ان جنگوں کو بند کرانے میں ناکام ثابت ہوا ہے یا اسے جنگ بند کرانے میں زیادہ وقت لگ گیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جنگ شروع ہوئی ہو اور اقوام متحدہ نے ایک آرڈر جاری کرکے جنگ بند کرادی ہو۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ اب ایک بااثرادارہ نہیں رہا ہے بلکہ ایک بے اثرادارہ بن کررہ گیا ہے۔ وینزویلا پرامریکہ کاحملہ اور اس کے صدر نکولس مادورو اوران کی اہلیہ کو ہتھکڑیاں لگا کر امریکہ لے جانے کا یہ واقعہ تیسری عالمی جنگ کاآغاز بنے گا، اس واقعے سے مثال قائم ہوگئی ہے، اس نے چائنا اور دوسری طاقتوں کو بھی راستہ دکھادی�� ہے، اب نئی مثالیں قائم ہونگیں، جس سے نئی نئی کونپلیں پھوٹیں گی جو چھوٹی چھوٹی جنگوں کو جنم دیں گی اور یہ جنگیں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔
اس واقعہ سے عالمی سطح پر پیداہونے والی صورتحال کی روشنی میں جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے، تومیں امیدکرتاہوں کہ پاکستان کے ارباب اختیار میں بڑے بڑے ذہین لوگ موجود ہیں وہ اس صورتحال میں جوفیصلے کریں گے وہ پاکستان کے لئے بہترہوں گے۔ اس سلسلے میں اگرارباب اختیارکومشاورت کی ضرورت ہوتو میں غیرمشروط طور پر اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیارہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 373 ویں فکری نشست سے خطاب
4، جنوری 2026ء
Wishing a Merry Christmas to all Christian community in Pakistan and all over the world.
May this religious festival bring peace, joy, love, brotherhood and light to their homes and hearts.
Once again #MerryChristmas to all.
Altaf Hussain
عوام شہیدانقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کی بیوہ مرحومہ شمائلہ عمران کی نماز جنازہ
میں بھرپورتعداد میں شرکت کریں۔ عوام سے اپیل
#ShumailaImranRIP
لندن……25 دسمبر 2025ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کی بیوہ اور تحریک کی سینئر رکن مرحومہ شمائلہ عمران کی نماز جنازہ میں بھرپورتعداد میں شرکت کریں۔ مرحومہ شمائلہ عمران صرف شہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کی بیوہ ہی نہیں تھیں بلکہ وہ قوم کی ایسی بیٹی تھیں جنہوں نے مظلوم عوام کےخلاف ڈھائے جانے والے مظالم کے دوران مظلوم عوام کے لئے بڑی خدمات انجام دیں لہٰذا عوام کا فرض ہے کہ وہ ان کی نمازجنازہ میں بھرپورتعداد میں شرکت کریں اور انہیں خراج عقیدت پیش کریں۔
🚨ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین آج بروز جمعہ 15 اگست، TikTok پر انتہائی اہم خطاب کریں گے جس میں وہ اپنی ماضی میں بیان کردہ باتوں کے شواہد پیش کریں گے ۔
#AltafHussainSpeech
Is Pakistan truly a sovereign and independent country?
#IndependenceDay#Pakistan was established on August 14, 1947. However, even after the passage of 78 years, the question is whether Pakistan is truly a sovereign country to make its own decisions? Is Pakistan’s system of governance credible? Are the courts, from top to bottom, autonomous and in delivering justice? Is any institution, any sector, judiciary, politics, media, economy are truly autonomous?
Pakistan may be called independent, however, the reality is that it still remains a slave to the superpowers. When we have never attained genuine freedom, what exactly are we celebrating on Independence Day?
The historical truth is that the feuds who sided with the British Colonial regime during the subcontinent’s freedom struggle, suppressing and crushing the freedom fighters, were rewarded with Pakistan itself. However, they were never given the authority to formulate their own policies. Even today, the international powers still dictate what Pakistan’s foreign policy should be.
As a matter of fact, we are still governed by the very laws and penal codes the British left behind. Today, Pakistan is being ruled by the “Black Englishmen.”
Prime Minister Shehbaz Sharif, in his Independence Day address, asserted that the creation of Pakistan was a victory for the Two-Nation Theory. My question to him is this: Under the Two-Nation Theory, Muslims in the subcontinent were told that Hindus and Muslims were two separate nations, with different religions, lifestyles, and cultures. They were told that after the British left, Hindus, being the majority, would enslave Muslims, and therefore Muslims needed a separate homeland.
If Pakistan was created for all the Muslims of the subcontinent under this theory, then why were all Indian Muslims not settled here? Why was Pakistan unable to become a shelter for them? Even today, India has a larger Muslim population than Pakistan.
Why were Pakistan’s borders close to them? Was this not against the spirit of the Two-Nation Theory? Was it not a betrayal of the Muslim minority provinces of India?
If religion alone defined two nations, Hindu and Muslim, then how did the Bengali nation come into being? How did two nations turn into three?
How did Bangladesh come into existence?
In light of these facts, is it wrong to say that the Muslims of India’s minority provinces were betrayed under the name of the Two-Nation Theory? I am ready to debate this issue with all historians and intellectuals of the country.
After the creation of Pakistan, those who migrated from India, the Muhajirs, were never wholeheartedly accepted. Their patriotism was always questioned. Despite their sacrifices in creating Pakistan and their tireless work in building the country’s framework, they were later discarded like an unwanted element. The country fell into the hands of the British-serving feudal lords, landlords, and the elite.
Those who didn't take pains for the inception of Pakistan have become the proprietors.
The Muhajirs of East Pakistan, known as Biharis, supported the Pakistan Army in 1971 to save the country. After the fall of Dhaka and the creation of Bangladesh, 90,000 Pakistani soldiers who had surrendered returned home after two years in Indian captivity. However, the Biharis who sacrificed everything alongside the army to save Pakistan remain stranded in Red Cross camps in Bangladesh even after 54 years, living in miserable conditions.
Why have they not been brought back? Is it because they are Muhajirs? Do these people, who twice sacrificed everything for Pakistan, have no right over this country? Is it treason to ask this question? Is it treason to demand one’s rights? Is it fair and just to treat Muhajirs as second or third-class citizens in every sector and to unleash state oppression upon them when they demand justice? 1/2
(Watch complete address) 👇
https://t.co/nvIWW2rvLo
بانی وقائد جناب الطاف حسین کوشدید علالت کے باعث لندن کے مقامی اسپتال میں داخل کردیا گیاہے۔
تمام وفاپرست ماؤں بہنوں بیٹیوں بزرگوں اور نوجوانوں سے اپیل ہے کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی صحت وتندرستی اورسلامتی کیلئے خصوصی دعائیں کریں۔
شکریہ
قاسم علی رضا
ڈپٹی کنوینر رابطہ کمیٹی
خیبر پختونخوا میں طالبان کےنام پر پشتونوں کےخلاف نئےفوجی آپریشن کا منصوبہ بنالیا گیا ہے، آپریشن کسی بھی وقت شروع کیا جاسکتا ہے، طالبان پشتونوں نےنہیں فوج نےبنائےتھے۔آپریشن کےنام پر پشتونوں کے قتل کاسلسلہ بند کیاجائے۔
#پختونخوا_میں_فوجی_آپریشن_نامنظور
غیرتمندپشتون کسی نئےفوجی آپریشن کو برداشت نہیں کریں گے
خیبر پختونخوا میں طالبان کےنام پر پشتونوں کےخلاف نئےفوجی آپریشن کا منصوبہ بنالیا گیا ہے، آپریشن کسی بھی وقت شروع کیا جاسکتا ہے، طالبان پشتونوں نےنہیں فوج نےبنائےتھے۔آپریشن کےنام پر پشتونوں کے قتل کاسلسلہ بند کیاجائے۔
#پختونخوا_میں_فوجی_آپریشن_نامنظور
غیرتمندپشتون کسی نئےفوجی آپریشن کو برداشت نہیں کریں گے
موجودہ پاکستان جمہوری ریاست پاکستان نہیں ہے !!
یہ اب سلطنت پاکستان ہے جو چیف مارشل عاصم منیر صاحب کی بادشاہت میں قائم ہے، یہاں بادشاہ سلامت کا فرمان چلتا ہے اور انہی کی خدائی میں فیصلے ہوتے ہیں لہٰذا ہم اس قانون اور بادشاہت کو منظور نہیں کرتے اور نہ کبھی کریں گے !!
#سلطنت_پاکستان_نامنظور
اہم اعلان ۔۔۔ اہم اعلان
‼️‼️‼️‼️‼️‼️‼️
ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین @AltafHussain_90 آج مورخہ 30 جون بروز پیر لندن وقت شام 7 بجے سے 8 بجے کے درمیان ٹک ٹاک پر اہم خطاب کریں گے۔
آج کے خطاب کا موضوع ہے “ شہید اور واصل جہنم کا فرق “
https://t.co/qihsIXdJvY