🚨پاکستان میں پچھلے سال ہونے والی بدترین تباہی پر پی ٹی آئی نے ایک جامع ویڈیو ریلیز کر دی ہے
یہ ویڈیو دیکھیں، اعدادوشمار ملاحظہ کریں آپ کو اندازہ ہو گا کہ عمران خان کو جیل میں ڈال کر انھوں نے کس طرح پاکستان کو لوٹا ہے اور معشیت تباہ کی ہے
تحریک انصاف کی قیادت چار سال کے بعد، 3سال سے عمران خان کی بے گناہ قید، 7 ماہ کی قید تنہائی کے بعد ، علیمہ خان سے لاہحہ عمل پوچھتے ہیں۔۔۔جبکہ کشمیر میں وہ لاہحہ عمل عملی طور پر دکھا رہیں ہیں ان سے نہیں سیکھتے، 4کروڑ 60 لاکھ کا صوبہ اور حکومت ہے ان کے پاس۔
لاھور، اسلام آباد، گجرانوالہ کی یہ تصاویر صرف پیٹرول کے لیے قطاروں کی نہیں بلکہ عوام کے کرب، تکلیف اور بے بے بسی کی داستان ہے۔ میری دعا ہے انھی قطاروں میں عمران خان، اسک�� مسلط کرنے والے اور وزرا بھی کھڑے ہوں تاکہ انھیں پتہ چلے کہ عوام پر کیا قیامت ٹوٹی ہے۔
Kapil Dev, Sunil Gavaskar among 14 former international cricket captains requesting Pakistan Govt for fair medical treatment, dignified detention conditions and fair trial for Imran Khan
These guys have shown how they may have been rivals on the field but will be friends forever
IMP: The list has no Pakistani name on it. Sad
14 famous cricket captains have requested Pakistani Govt to provide medical treatment for @ImranKhanPTI .Signed by Clive Lloyd, Nasser Hussain,Sunil Gavaskar, Kapil Dev, Allan Border, Steve Waugh, Ian Chappell, Belinda Clark, Kim Hughes, Mike Brearley, Gower & John Wright
عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی مستقل ضائع ہو چکی ہے، یہ واپس نہیں آ سکتی، میرے سورسز نے کنفرم کیا ہے، 85% بینائی ضائع ہونے کا پمز کے ڈاکٹرز نے خان صاحب کو بتایا تھا، عمران خان یا سلمان صفدر صاحب نے اپنی طرف سے بات نہیں کی تھی۔ ابصار عالم
https://t.co/CEGBK9tOyP
میری سوشل میڈیا کے سقراطوں بقراطوں سے درخواست ہےکہ آپ سیاست ہم سے سیکھیں۔ آپ ہماری مدد کریں نہ کہ ہمیں سبق پڑھائیں۔ عمران خان کو مائنس کرکے پی ٹی آئی میں کیا بچنا ہے؟ پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کے 70 ہزار کے قریب عہدیدار ہیں۔ ان میں سے سات ہزار بھی نہیں نکلتے۔ فیصل چوہدری ایڈوکیٹ
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگ��یر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغ��ر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
Another alarming incident: After targeted attacks on Shahzad’s home in the UK (assault & attempted arson), a mysterious fire erupts at Dr. Moeed Pirzada’s house in the US. This is part of a disturbing pattern of threats against exiled Pakistani journalists & critics of the military establishment. Safety abroad? #TransnationalRepression