حکمران کا بچہ حکمران پیدا کررہا ہے
مفلس کا بچہ مفلس
پیشہ ور کا بچہ پیشہ ور...
یہاں ہرجگہ بادشاہت ہے کوئی اپنی گدی چھوڑنے کا تیار نہیں..
یہ قوم پست تھی
پست ہے
اور پست رہیگی..
@awaheedmurad@SohailAfridiISF بھائی اللہ نہ کرے لیکن آپ کے گھر آکر کوئی آپ کو باندھ کر آپکی بیوی کیساتھ بدکاری کرے زبردستی آپکی بیٹی کیساتھ کرے تو کیا آپ عدالتوں سے ان کو سزا دلوانا چاہوگے وہ بھی ان عدالتوں سے۔۔؟
کل کو صلح صفائی کا چانس بھی ہوسکتا ہے تو یہ لوگ تو آزاد ہوجائنگے ۔
@SdqJaan بھائی کوئی بڑا ہی بیشرم آدمی ہے تو وہ کم از کم آواز تو بلند کررہے ہیں ایسے تو تحریک انصاف والی جدوجہد کا بھی کوئی اثر نہیں لیکن ان کو بڑا مہاتما قسم کا پیش کرتے تو قلمی منافق
@Alikhanyzai بالکل ایسے ہی جیسے تاجی کھوکھر کو پنڈی میں پناہ ملی تھی ابھے بیوقوف انسان جب عوام نے ہی ان سے لڑنا ہے تو یہ فوج کس لیئے پالی ہے۔؟ تم کرسکتے ہو ان کے سامنے جب 100 بندے کھڑے ہو اور ان سے کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔۔۔
ان کے سامنے تو گرفتار شدہ فوجی بھی بلی بن جاتے ہیں۔
حسد کی انتہاء
کچھ دن پہلے اس بھائی نے اپنا چھوٹا سا کام شروع کیا کپ کیک کا
اور بائک پر چھوٹا سا بکس رکھ کر پیپلز کالونی مارکیٹ بٹ پوری والے کے آگے کھڑے ہو گئے
دیکھتے دیکھتے گوجرانوالہ کی عوام نے بھائی کو بہت سپورٹ کیا
جب چار کسٹمر آنے لگ گئے تو پیچھے موجود دوکان داروں کو مارے حسد کے مرچیں لگنا شروع ہوگئیں اور بھائی کو وہاں سے نکال دیا
اب یہ بھائی بہت پریشان ہیں ویڈیو میں نیو لوکیشن بتائی ہے بھائی کو کھل کے سپورٹ کریں تاکہ بھائی کی پریشانی ختم ہو۔
ملٹری اکیڈمی کاکول کا تربیت یافتہ کرنل اقبال سعید !
جس نے فوج میں اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو اسامہ بن لادن کا پتا بتا کر اپنی زندگی سنواری
کون کہتا ہے ملٹری اکیڈمی میں ریاست پاکستان سے وفاداری کی تربیت دی جاتی ہے
@OfficialDGISPR
@waheed666861 وسیم اکرم نے ہم سے کیمرے آف کروائے تھے ہماری کانفرنس میں اور پھر عمران خان کو لیکر وہ باتیں کی کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔۔ بھائی ہر کسی کی مجبوری ہوتی ہے کچھ نا کچھ۔
مولانا فضل الرحمن کی خوفناک باتیں۔۔۔
ہمارا صوبہ ، حضرت، آپ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید آپ حضرات کو یہاں پر ادراک نہ ہو یا ��اہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اس وقت کوئی رِٹ نہیں ہے۔
لکی مروت ہو، بنوں ہو، ٹانک ہو، وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ پولیس نے ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں، راستے روکے ہوئے ہیں۔
وہ نہ DPO کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ DIG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ IG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور مکمل طور پر انہوں نے خود اپنا کمانڈ بنا لیا ہے۔ اور کمیٹی کا سربراہ جو کہتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔
تو اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں، پورا کمپاؤنڈ، جتنا بھی تھا پولیس کا، وہ طالبان نے گھیرے میں لے لیا۔ پھر انہوں نے علماء کرام سے درخواست کی کہ آپ سے کچھ ہو سکے تو آپ ان لوگوں سے بات کریں۔ پھر علاقے کے علماء کرام گئے وہاں پر اور انہوں نے ان سے بات کی اور ان سے کہا کہ ہم ان سپاہیوں، پولیس والوں کو آزاد کریں گے، لیکن ان کو اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کی ویڈیو بھی بنائیں گے۔
اور DPO نے کہا، ٹھیک ہے، ہمیں دونوں ��اتیں منظور ہیں۔ پھر اگلے روز پتا چلا کہ چھ بندے ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ پھر علماء کرام سے درخواست کی کہ اب ان کو بھی چھڑوائیں۔ پھر علماء کرام اس کے پیچھے گئے اور انہوں نے چھ بندوں کو چھوڑا۔ اس طرح چھوڑا کہ ایک ایک پولیس والے کو گلے بھی ملے اور دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے وہ۔ وہ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے۔
یہ تو آپ کی پولیس کی حالت ہو گئی وہاں پر ۔ اس وقت کرم، اورکزئی کے علاقے، وہاں پر تو اب کچھ بھی نہیں رہا جی۔ تو یہ سارا پشتون علاقہ ہے اور اس پشتون علاقے میں اور خیبر پختونخوا میں تو بالکل ہی رِٹ ختم ہو چکی ہے۔
حضرت، آپ ہماری بات مانیں، یا تو یہ ہے کہ ہم عمداً اس کی ��جازت دے رہے ہیں ، یا کوئی ڈیپ ایسی انڈر اسٹینڈنگ ہے کہیں جو پبلک کو نظر نہیں آ رہی ہے۔ اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے جی؟
بلوچ علاقوں میں، حضرت، آپ چلتن کو عبور کریں تو اس سے آگے چاغی تک ہو یا آپ مستونگ اور خضدار تک جائیں، آج صرف شہروں کو بچانے کے لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد کھدائی کی گئی ہے اور اس کے اندر فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں پر ایکوئپمنٹس لے جا رہے ہیں، تاکہ صرف شہر بچ سکے، ضلعی ہیڈکوارٹر بچ سکے، تحصیل ہیڈکوارٹر بچ سکے، باقی میدان، دیہات وغیرہ وہ ان کے حوالے ہیں۔
تو اس سنگینی کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات کرتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم کہا جا رہا ہے؟
صحافی چلے جائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں آ جائیں، باہر سے وہ چلے جائیں ان علاقوں میں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔
اس صورتِ حال میں جبکہ آپ کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور بھائی جو ہیں وہ آپس میں بیٹھ کر اس گھر میں، جس میں آگ لگی ہے، آؤ ذرا اس گھر کو کیسے تقسیم کریں۔ یہ کوئی معقول بات ہے؟
آپ نے آگ بجھانی ہے یا آپ ن�� گھروں کو تقسیم کرنا ہے؟ تو صوبے بنانے کے بعد بھی ایسی ہی صورتِ حال تقریباً ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد راولپنڈی میں میرے تقریباً آٹھ سال سے زائد ہو گئے ہیں، لیکن پہلی بار ایسا منظر دیکھ رہا ہوں۔میں جب بھی اسلام آباد، راولپنڈی کی طرف آیا آتا ، جشن آزادی سے ایک دن قبل یہاں کی راتیں چاند رات جیسی نظر آتی تھیں۔ سڑکوں پر رونق، گاڑیوں پر جھنڈے، ہر طرف جشن کا ماحول ہوتا تھا۔لیکن آج اسلام آباد میں جگہ جگہ پولیس، ٹریفک پولیس، فورس اور رینجرز کے ناکے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ساری سیلیبریشن صرف اشرافیہ کے لیے ہو اور عام غریب آدمی کے لیے نو انٹری۔پھر راولپنڈی کے کمرشل اور آس پاس کے علاقوں میں آیا تو ایک آدھ، دو آدھ گاڑیوں پر ہی پاکستانی پرچم نظر آیا۔ یقین کریں، یہ منظر دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔لوگ یا تو غربت کی چکی تلے پس چکے ہیں، یا پھر ان کے دلوں سے ملک کے ساتھ جڑا وہ جذبہ ہی چھین لیا گیا ہے۔آج جو دیکھا، وہ صرف جھنڈوں کی کمی نہیں تھی؛ یہ عوام کے اندر بڑھتی ہوئی مایوسی، بے بسی اور نظام سے دوری کی ایک تکلیف دہ تصویر تھی۔
جس جس نے سہیل منج کے گاڑیوں پر جائزے اور تجزیے سُن کر گاڑی خریدی، اب وہ تو رُل گیا۔
ویسے میں نے تو وقت پر وارننگ دی تھی۔
ہر نئی ٹیکنالوجی کو ECO سسٹم چاہیے ہوتا ہے، بڑا باریک نکتہ ہے، اسی کی بنیاد پر میں نے چینی گاڑیوں پر الرٹ جاری کیا تھا۔دُنیا بھر میں ٹیکنالوجی ECO سسٹم کے ساتھ متعارف کروائ جاتی ہے۔ بھاڑے کے تجزیہ کاروں نے مروا دیا۔ جنکا نقصان ہوا ہے وہ شرمندگی میں کہتے ہیں کہ ہماری تو ٹھیک چل رہی ہے۔ سازگار کی حاول اور ٹینک کی کُل لوکل پیداوار میں سے صرف آدھی گاڑیاں بک سکی ہیں۔ جسکی بھی گاڑی کا معمولی حادثہ ہوا وہ تو مرمت کا بل دیکھ کر شاک میں چلا جاتا ہے۔
چینی گاڑیوں کے سب سے بڑے مسائل یہ ہیں:
۱- ناقص ورک مین شپ۔
۲-بہت مہنگے اور مشکل سے دستیاب پارٹس۔
۳- کم لائف۔بیٹری کی لائف پر منحصر ہے۔
۴- مشکل terrain یا خراب موسم میں انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
۵- بعد از فروخت(ری سیل)ویلیو۔خریدنے کے فورا بعد 15 لاکھ قیمت نیچے چلی جاتی ہے۔
۶- بعد از فروخت مینٹیننس انتہائی مشکل اور صرف ڈیلرز کے پاس دستیاب ہے۔
سُنا ہے کہ جائیکو سسپینشن میں پلاسٹک استعمال کر رہا ہے، مثلاً لوئر آرم بش (جسے چمٹا کہتے ہیں) وہ بھی ایک بڑا مسئلہ بنے گا۔
نوٹ: ہمیشہ اچھی ساکھ کے تبصرے سنیں اور پڑھیں تاکہ نقصان سے بچ سکیں۔
@kookoo436 ایک سوال ہے میرا سعودی عرب اور اسرائیل ایک ہی جیسے دشمن سے کیوں لڑ رہا ہے جہاں کے حاکم شیعہ ہے ان دونوں کیساتھ سعودیوں اور اسرائیلیوں کی دشمنی ہوتی ہے۔۔؟
یہ اتفاق ہے کیا۔؟
@RShahzaddk بھائی تو جن کا ترجمان ہے اصل حکمران تو وہ ہیں وہ سیاسی لوگوں کو لاتے بقول آپ کے اور سارے سیاستدان فیل ہوئے کیونکہ سب کو پالیسی بھی وہی کاکولیے بناکر دیتے ہیں اسکا مطلب یہ ہوا کہ اس ملک کا اصل نااہل طبقہ ہی وہی ہے جو ان سیاستدانوں کو چنتے ہیں۔
@Imran552855780@RShahzaddk Pakiatan my ye wala shawor nhi kisi ki mami imran khan se shadi krna chahti hy kisi ki KAKULYE se sb bharway hain matlab dono 😀
پچھلے ایک ماہ کے دوران میرا واسطہ ابوظہبی میں پاکستان اور افغانستان کے سفارت خانوں سے پڑا۔ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے اپنا تجربہ آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔
پاکستانی سفارت خانے میں اپنے بیٹے کے پاسپورٹ کی تجدید کروانی تھی۔ میں نے دفتر سے چھٹی لی تاکہ سکون سے کام ہو سکے۔ بدھ کا دن تھا۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سفارت خانہ دو دن کے لیے بند ہے، کیونکہ پاکستان میں 9 اور 10 محرم کی تعطیل تھی، اس لیے یہاں بھی بند رکھا گیا تھا، حالانکہ پورے متحدہ عرب امارات میں کہیں بھی سرکاری تعطیل نہیں تھی۔یوں میرا دن اور چھٹی ضائع گئی۔
دو دن بعد، جمعہ کی صبح، میں جلدی پہنچ گیا۔ پہلے سے ایک درجن سے زیادہ دستاویزات کی فوٹو کاپیاں ساتھ لے گیا تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد میری باری آئی تو کہا گیا کہ افغانستان کے سفارت خانے سے این او سی لے کر آئیں، کیونکہ بچے کی والدہ کا پاسپورٹ افغان ہے۔ حالانکہ میں نے سمجھانے کی ��وشش کی کہ یہ صرف تجدید ہے، پہلی مرتبہ تمام دستاویزات پہلے ہی جمع کروا چکا ہوں، مگر بات نہ بنی۔
میں افغانستان کے سفارت خانے گیا۔ وہاں زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں این او سی جاری کر دیا گیا۔ نہ کسی فوٹو کاپی کا مطالبہ کیا گیا، نہ غیر ضروری سوالات کیے گئے۔ صرف پاسپورٹ دیکھا، اپنا ریک��رڈ چیک کیا اور این او سی میرے حوالے کر دیا۔
واپس پاکستانی سفارت خانے آیا اور دوبارہ لمبی قطار میں لگ گیا، مگر اتنے میں بارہ بج گئے، جمعہ کا دن تھا اور سفارت خانہ بند ہو گیا۔ یوں ایک بار پھر ناکامی ہوئی۔ وہی بدتمیزی، ہٹو، نکلو، وقت ختم ہو گیا،وہی دھکم پیل۔
اس کے بعد دو دن مزید سفارت خانہ بند رہا، کیونکہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیل تھی۔ پیر کے روز میں سب سے پہلے پہنچا تاکہ فیملی لائن میں جلدی لگ جاؤں اور دفتر جانے سے پہلے کام مکمل ہو جائے۔ پاسپورٹ تو جمع ہو گیا، لیکن پھر تصدیق کے نام پر میرے والدین، یعنی بچے کے دادا اور دادی، کے ڈومیسائل اور شناختی کارڈ طلب کیے گئے۔ شناختی کارڈ تو دونوں کے موجود تھے، مگر ڈومیسائل نہیں بنے ہوئے تھے۔
یوں پاکستان میں میرے بڑے بھائی نے کافی تگ و دو کے بعد والدہ کا ڈومیسائل بنوایا۔ والد چونکہ وفات پا چکے تھے، اس لیے پہلے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانا پڑا۔ اس تمام عمل میں تقریباً پچیس دن لگ گئے۔
پاسپورٹ کی تجدید کے بعد بچوں کے افغانستان کے ویزوں کے لیے اُن کے سفارت خانے گیا کیونکہ بچوں نے چھٹیاں گزارنے جانا تھا۔ خدا کی قسم، جیسے ہی انہوں نے میرے ساتھ فیملی دیکھی، سب اپنی جگہ سے اٹھے، ہمیں اندر ایک بہترین انتظار گاہ میں لے جایا گیا، جہاں بچوں کے لیے چاکلیٹس اور بڑوں کے لیے چائے رکھی ہوئی تھی۔ وہیں ایک اہلکار آیا، پاسپورٹ لے گیا، اور تقریباً تیس منٹ کے اندر ویزے لگا کر واپس کر دیے۔ ایک ویزے کی فیس صرف 39 درہم تھی۔
میں احتیاطاً تمام دستاویزات کی فوٹو کاپیاں بھی ساتھ لے گیا تھا، مگر انہوں نے ایک بھی کاپی نہیں لی۔ صرف اتنا کہا کہ اب تو سب آن لائن ہوجاتا ہے، اس لیے ان سب کی ضرورت نہیں۔
میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہماری اپنی ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے، جن کا پاسپورٹ ہم اٹھائے پھرتے ہیں، اور باقی دنیا کیا کر رہی ہے۔ یہ موازنہ میں بلا کسی مبالغہ آرائی کے ایک ایسے ملک سے کر رہا ہوں جو گزشتہ پچاس برس سے جنگ کی لپیٹ میں ہے۔
پاکستان ابھی تک نوآبادیاتی ورثے (Colonial Legacy) سے باہر نہیں نکل سکا۔ تنقید تو صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر ہوتی ہے، اور بجا بھی ہے، لیکن یہ سی ایس ایس کے گدھے، جنہوں نے اس نظام کو بہتر بنانا تھا، بہت سے معاملات میں خود بھی اسی فرسودہ طرزِ فکر کا حصہ بن چکے ہیں او اُن سے بڑھے فرعوں ہیں۔ پولیس، عدالت، جج، وکیل، پٹواری، الغرض ہر طرف وہی انگریزوں سے ورثے میں ملی ہوئی اکڑ، غیر ضروری پیچیدگیاں اور عوام سے فاصلہ نظر آتا ہے۔
۔
۔
نعمت وزیر!
یہ وہ افغان ڈاکٹر ہیں جو نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں اپنے پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں مصروف تھے اور ایک سال سے زائد عرصہ قبل ویزوں میں توسیع کے لیے درخواست دی تھی جس کی وجہ سے انہیں منظور نہیں کیا گیا، بدقسمتی سے انہیں حراست میں لے لیا گیا اور انہیں ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے اور انسانیت کی خدمت کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف ہتک آمیز عمل ہے!