آج باجوڑ میں ہونے والی خونریزی نے مجھے ایک پرانا واقعہ یاد دلا دیا جب یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر خلیل نے ایک حکومتی وزیر اور عمران خان کی موجودگی میں بتایا کہ کس طرح باجوڑ میں بے گناہوں کا قتل عام ہو رہا تھا اور انکے بیٹے کی ٹانگیں کاٹنی پڑ گئیں پندرہ بیس سال سے وہاں حالات جوں کے توں ہیں
@MehmoodJan1 ایم سی
بی سی
70 سال فاٹا کس کے پاس تھا
ان پڑھ کس نے رکھا
ہسپتال سکول بنانے کا نے بنانے تھے
بی سی
ایم سی
70 سال میں جنگ سوا کیا دیا ہے کے اب تم جیسے دلال دیں گے
@Pk_Defender0 ویسے پاکستان نے اتنی بمباریاں کئے جب اتنے معلومات ہے تو عام لوگوں پر بمباری کے بجائے یہاں بمباری کیوں نہیں کی دنیا کو اپنی طرح الو سمجھتے ہوں
پختونخوا سے نک��نے والی معدنیات، کرومائٹ، بجلی اور گیس محفوظ ہیں، لیکن وہاں کے عام عوام اور ان کی روزمرہ زندگی سے جڑی ہر چیز غیر محفوظ ہے۔
#MasharAfrasiabKhattak
@RShahzaddk ویسے تو یہ لکھا بھی پنجابی نے ہے اور پنجابیوں کو چاہئے کے پنجابی فوج کو پختون خواہ سے نکالے
آپ پنجاب میں خوش رہے ہم پختون خواہ میں رہ لیں گے
پختون پنجاب میں 23 لاکھ ہے
پنجابی تین صوبوں میں کروڑوں کی تعداد میں روزگار کررہے ہیں
پنجابی پورے ملک سفید ہاتھی کی طرح قابض ہے
@Deeju_12@GovtofPunjabPK@MaryamNSharif پنجاب اپنے وطن میں خوش رہے پختون خواہ کی جان چھوڑیں پختون خواہ کی لوٹ مار چھوڑیں
نہ ہمیں آپ کی زمین چا��ئے نہ ہمیں آپ کے وسائل چاہئے اپنے وطن میں تم خوش رہوں بس پنجابی فسادگر فوج پختون خواہ سے نکلے
@AyazMir58177895@Waqarkhan ایسے تو کروڑوں پنجابی سندھ میں روزی کما رہے ہیں لاکھوں پختون خواہ میں روزی کما رہے ہیں
لاکھوں بلوچستان میں روزی کما رہے لیکن پنجابی سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرتے ہیں بلوچوں پختونوں کے وسائل لوٹ ہے لیکن پھر بھی پنجابی پختونوں بلوچوں کی نسل کشی پر ناچ رہے ہیں
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ��یں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ و��یرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ��مبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری ��رف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس ��یا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی ت��قیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
@fawadchaudhry وہ تو عالمی دنیا کو پتا ہے کہ افغانستان کو میدان جنگ امریکا نے بنایا اور پاکستان کے ذریعے اس جنگ کو جاری رکھنے کیلئے پاکستان نے امریکا سے اربوں ڈالر بھی لئے
اگر افغانستان سے آئے آباؤ اجداد کی اولاد ہونا جرم ہے تو پھر ان لوگوں کا کیا ہوگا جن کے آباؤ اجداد دلت، شودر یا نیچ ذا�� کے ہندو تھے اور جو بعد میں مسلمان ہو کر پاکستان میں آباد ہوئے؟ اگر دوسروں کے نسب اور ماضی کو بنیا�� بنا کر انہیں افغانی کہہ کر گالی دی جائے تو پھر یہ بحث بہت دور تک جائے گی۔ پاکستان سب کا وطن ہے، کسی کی تضحیک اس کے آباؤ اجداد کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ تاریخ کو نفرت اور نسلی تفاخر کا ہتھیار بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ پیمانہ سب پر لاگو ہوگا۔