Mujhay NCCIA ka waqia na Zehani tor per bohat mutasir keya hai. Kasay ik uniform, insan ko janwar bana daita hai. Or kasay usi nexus ka baki log gid ke tarha dusroon ko nochnay ko tayar rehtay hain kisi bhi tarha accused sa pasay nikalwa lain. Sharam sa doob marna chaheya.
Agar army or bureaucracy k assets public nahi kar sakhty to mujhay asay lagta hai civilians k assets bhi nahi honay chaheya kyun ka yeh national security ka masla hai.
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ن��ایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2
“My so-called trial in Adiala Jail is not being conducted by a judge but by an ISI Colonel, who takes instructions directly from the Army Chief, Asim Munir. This is a military trial, not a civilian one.
Everything in Pakistan today is being done under Asim Law, with the Constitution and legal framework in shreds. Over three hundred fabricated cases have been registered against me, all of which I am facing. I will emerge with justice from the courts without making any deal. Every form of oppression has been inflicted upon our party. My wife and I would be freed today if cases were decided on merit. All our human rights have been violated. We are deprived even of the basic facilities granted to ordinary prisoners. My books are withheld, and in eight months I was allowed to speak to my children only once. The judges in my cases hold no authority; they cannot conduct the trials independently. Their decisions are dictated by a Colonel, who merely executes the orders of Asim Munir.
I instruct my entire party to remain united. This oppressive system cannot endure for long. It is essential that all of you retweet posts from my account, in a clear message of unity and alignment.
A grand public rally must be announced in Khyber Pakhtunkhwa, where participants from across the country can stand together against the darkness that engulfs us.”
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with Family Members in Adiala Jail (September 15, 2025)
3/3
@ShazadAkbar Kya aap video bana sakhty hain? Aap barrister hain, kya aap bata sakhty hain agar jo fauji edaray hain, jaisa k DHA, cement, bank, Agar govt change hoti hain kya fauj sa yeh sab wapis le kr Pakistan ka nation institute ko deya ja sakhta hai jasay PIA hai.
PTI should not dialogue with JUI. Fazul Rehman is not man of means. In fact he is opportunist. He has no agenda, either meaningful vision. All he wants to do get some perks and privileges out of it. This is what he does throughout. Don't take him seriously.
Imran khan is only way forward. Because he is honest. If government is given to khan, on his call overseas Pakistani will invest all their money on diaspora bond, Pakistan will scoot out of this economic crisis in short time.
Manay aaj tak Khan jaisa leader nahi dekha. Be-inteha bahadar insan hai khan. Wo humry leya or Pakistan k leya jail main hai. Humra farz banta hai hum sab uska sath dain.
PTI momentum nahi bana pa rehe jo khan ko release karwanay ke leya chaheya. Let's start from social media.
Agar Imran Khan or bushra Bibi per NAB naya case banati hai, or sab jantay hain yeh case karwanay wala kon hai. Usko iske saza zaroor milni chaheya chahay aaj nahi to kal.