نواب اکبر بگٹی شہید نے سوئی گیس پلانٹ میں کام کرنے والی لیڈی ڈاکٹر ��ازیہ خالد کے لیے اسٹینڈ لیا تھا جن کے ساتھ ایک فوجی افسر کیپٹن حماد نے جنوری 2005 میں جنسی زیادتی کی، جنرل مشرف نے اپنے افسر کو بچانے کے لیے بگٹی صاحب کو شہید اور بلوچستان کو مستقل آگ میں دھکیل دیا تھا۔
🚨اہم ترین
سرحد یونیورسٹی میں آج کرنل اسفند یار کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے کربل اسفندیار کی اہلیہ کی مدعیت میں پروفیسر جدون سمیت 25 سے زائد طلباء و طالبات پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،
یہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے، اسلام آباد پولیس یونیورسٹی میں طلباء کو یقین دہانیاں کرواتی رہی کہ کہ فوج کا قانون سخت ہے کرنل کے خلاف کاروائی ہوگی لیکن اب طلباء کے ہی مستقبل کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، یہ ظلم کی انتہا ہے
پچھلے ڈیڑھ مہینے سے احتجاج چل رہا ہے آج فوجی افسر نے فائرنگ کی اور اسکی بیوی ہمیں اب دھمکیاں دے رہی ہے کہ آپ کے گھر والوں کے ساتھ یہ کروں وہ کروں گی اب پولیس کہہ رہی ہے کہ وہ فوجی افسر کو ہتھکڑی نہیں لگا سکتے ہمارے HOD سے زبردستی استعفیٰ مانگا جارہا ہے طالبات کا احتجاج
🚨اہم انکشاف
ہم سے ہمارے فون مانگے جا رہے ہیں تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں اور ساتھ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ" ہم تمھارے ساتھ اور تمھارے گھر والوں کے ساتھ یہ اور وہ کر دیں گے "
طالبہ
ذوالفقار علی بھٹو ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔ آخری دس ماہ تک انہیں موت کی کوٹھڑی میں رکھا گیا، جس طرح اب عمران خان کو رکھا ہوا ہے۔
بھٹو کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ قید تنہائی میں ڈالا گیا۔ آخر میں بھٹو وہاں تعینات افسر کو کہتے تھے ضیاء کو کہو just finish it now اب برداشت نہيں ہوتا۔
بھٹو ہی نہيں کوئی بھی انسان ایسا جسمانی اور ذہنی ٹارچر برداشت نہيں کرسکتا۔ سب یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ظالموں اب ختم کرو۔
عمران خان تین سالوں سے زیادہ عرصے سے اس طرح کی صورتحال میں قید ہے۔ 9 ماہ سے بدترین ذہنی اور جسمانی ٹارچر سہہ رہا ہے۔ بہنوں ک�� کہا کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ چیزیں برداشت سے باہر ہو رہی ہیں۔
عمران خان کو اللہ نے ایمان دیا ہے۔ ایک مضبوط جسم اور ذہن دیا ہے۔ ان تینوں کی وجہ سے وہ بھٹو سے دوگنا عرصہ تک سروائو کر گیا۔ لیکن انسان کا جسم اور ذہن دونوں کا ایک breaking point ہوتا ہے یہاں پر پہنچ کر وہ ٹوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم جواب دے جاتا ہے۔ ذہن ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ظالموں کا تو حساب ہوگیا ہی کہ انہوں نے ایک بےگناہ انسان پر فرعون بن کر یہ ظلم کیوں کیا؟ کیا پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے سوال نہيں ہوگا کہ انہوں نے اس ظلم کو روکنے کے لئے کیا کیا؟
ذرا سوچیں آپ کے نامہ اعمال میں کیا ہے جو پیش کریں گے؟
اگر اسی خاموشی اور بےحسی پر پکڑے گئے تو کیا کریں گے؟
یا آپ کو آخرت اور روز جزا اور سزا پر یقین نہيں ہے؟
عمران خان کو گرفتار کرنے کا آرڈر پاس ہوا تو 15 منٹ میں عملدرآمد ہوا اور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی لیکن آج سپریم کورٹ نے 2 دن کا وقت دیا
لیکن ان " بغیرتوں، ذلیل، جابر، ظالم اور 2 نمبروں " نے اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا،
وزیر اعلٰی سہیل آفریدی
یہ بھی ڈبل چیک کرلینا چاہیئے کہ عمران خان کو واقعی PIMS لیجایا جاتا ہے یا کسی اور عمارت میں کیونکہ جہاں پاور سپلائی منقطع ہو تمام بتیاں بند ہوں اور فون کی بتی استعمال کی جائے وہ فنکشنل ہسپتال تو نہیں ہوسکتا اور وہاں ہسپتال کا عملہ بھی نہیں ہوتا وہ سب انٹیلیجنس اداروں کے لوگ ہوتے ہیں جن کی ٹریننگ ہے کہ آنیوالوں کو کیسے اٹینڈ اور ڈیل کرنا ہے وہ ہُوں ہاں سے زیادہ کچھ نہیں بولتے
پمز کی سڑکیں راہداریاں روشن رہتی ہیں
یہ کون سی عمارت ہے
کیا معلوم کہ عمران خان کہاں تھا اور ڈاکٹر عظمی کو کہاں لیجایا گیا ؟؟؟
جتنا خوف عمران خان کو شفا منتقل کرنے سے نظر آ رہا ہے اُس سے لگ رہا ہے عمران خان کو زہر دے دیا گیا ہے اور یہ آزاد ڈاکٹرز سے معائینہ نہیں کروانا چاہتے ! عمران خان نے ٹھیک کہا یہ مرثی والا کام کر رہے ہیں !
خان کی یہ بات یاد رکھیے گا اور محمد مرسی کے قتل کی داستان ضرور پڑھیے گا۔ 25 اکتوبر 2025 کو محمد مرسی کے مبینہ قاتل سے عاصم منیر کی ملاقات ہوئی۔ اسکے بعد سے عمران خان کو محمد مرسی والے حالات کا سامنا ہے۔
ایسے لگ رہا ہے دل کی بجائے کوئی بھاری پتھر ہے جو سرک بھی نہیں رہا ۔
رب ذوالجلال تو رحیم ہے اپنی رحمت کے صدقے کرم فرما ۔
تو قہار ہے قہر کے ذریعے ظالموں کو نیست و نابود فرما۔
تو مسبب الاسباب ہے کوئی سبب پیدا فرما تیرا ماننے والا مشکل ہے ہم کیڑے مکوڑے تو کوئی مدد نہیں کرپارہے تو ہی کوئی راستہ نکال ۔
چاہیے تو یہ تھا کہ لاہور جاتے پنجاب کی قیادت اور ایم پی ایز کو اکھٹا کرتے اور مزاحمت کا اعلان کرتے مگر کتے دا پتر راجہ عقل سے بلکل فارغ ہے ، جرنیل کے مولوی کے ساتھ بیٹھ گیا،
8 فروری کو جب عوام سڑکوں پر تھی تو اس نے عوام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا تھا کہ ہم الیکشن ٹریبونل میں جائیں گے ہم عدالت میں جائیں گے ،
عمران خان کی آنکھ خراب ہونے پر جب عوام نے صوبہ بند کرنا شروع کیا تو یہی بڈھے کتے کے بچے پارلیمنٹ میں گھس گے اور آج پھر وہی روایت جاری رکھے ہوۓ ہیں ۔۔۔
اس حد تک حرام کے تخم ہیں کہ استعفی دے کر سائیڈ پر بھی نہیں ہوتے ۔۔
تاریخ کی بدترین نااہل قیادت ہے ۔۔۔
پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہو کر
احتجاج کیلئے مولانا ٹائپ لوگوں کے پاس جانے کی دلیل صرف یہ ہے کہ
یہ لوگ یا تو احتجاج کرنا نہیں چاہتے
یا کتنا کرنا ہے یہ اسٹیبلشمنٹ سے پوچھ کر کرنا چاہتے ہیں
یہ عمران خان کے دشمن اور ان کے خلاف سازش کے سہولت کار نہیں بلکہ شریک ہیں
خان صاحب کی بہنوں کو اب انٹرنیشنل پریس کے سامنے سوال اٹھانا چاہیے کہ ان پر عدالت کی جانب سے لگائی گئی پابندیاں جائز اور ان پر عملدرآمد لازمی ہے تو کیا حکومتی فریق اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے پابند نہیں؟
ضروری تو نہیں کے 27 ستمبر کو ہی مارچ ہو
موجودہ حالات کے مطابق اسی اگست میں نکلنا چاہیے
اتنی کوتائیاں کیوں
خدا کی قسم بعد میں پچھتاوگے
پر پھر پچھتانے سے کچھ حاصل ن��یں ہوگا
ہاں البتہ نقصان ہوگا بہت زیادہ ہوگا ناقابل تلافی ہوگا
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ��ن کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ��م خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔