افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص بدخشان میں طالبان کا کنٹرول تیزی سے کمزور ہونے لگا ہے، طالبان مخالف مزاحمت کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے. رپورٹ کے مطابق واخان پٹی پر بھی طالبان اپنا کنٹرول کھوچکے ہیں ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر اسی کی دہائی کی طرف لوٹ رہا ہے ۔ فرق یہ ہوگا کہ اس وقت افغانستان روایتی ��ریفوں پاکستان اور انڈیا کا میدان جنگ ہوگا۔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
بھارت میں کاکروچ تحریک کی کامیابی پر حیرت نہیں ہوئی، وہ مرید بن کر نہیں آئے تھے۔ وہ زندہ باد مردہ باد کے لیے نہیں آئے تھے۔ وہ سب نکلے تھے، سمندر کی راہ روکنا ناممکن ہے اور سمندر پر سب کی نظر ہوتی ہے۔ ہم تو ندیاں بن کر نکلتے ہیں جسے روکنے کے لیے ریت کی دیوار ہی کافی ہوتی ہے۔ 🤷
بھارت میں کاکروچ تحریک کی کامیابی پر حیرت نہیں ہوئی، وہ مرید بن کر نہیں آئے تھے۔ وہ زندہ باد مردہ باد کے لیے نہیں آئے تھے۔ وہ سب نکلے تھے، سمندر کی راہ روکنا نامم��ن ہے اور سمندر پر سب کی نظر ہوتی ہے۔ ہم تو ندیاں بن کر نکلتے ہیں جسے روکنے کے لیے ریت کی دیوار ہی کافی ہوتی ہے۔ 🤷
جیسے ضرورت کے وقت علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے، ہمیں اس وقت انڈسٹری لگا کر ایکسپورٹ بڑھانے کے لیے ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے، پورے ملک کی مشینری صرف اسی پر کام کرے تو ہی معاشی بحران ختم ہو سکتا ہے۔ 8/8
#BePakistani
انقلاب
880 ٹن سونا !! اس وقت انڈیا کے پاس 880 ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں اور پاکستان کے پاس تقریباً 66 ٹن سونا موجود ہے کل ایک مووی دیکھی " گورنر " کے نام سے ، یہ ایک بائیو پک تھی جس میں انڈیا کے ایک گورنر کی دو سالہ زندگی جو اس نے گورنری کی حیثیت میں گزارے تھے دکھائی گئی تھی 1/8
انڈیا نے ایک دو سال میں ہی آئی ایم ایف کی چھٹی کروا دی تھی اور ہم یعنی پاکستان آئی ایم ایف سے سب سے زیادہ پیکیج لینے والا ملک بن چکا ہے اب آپ نے خود سوچنا ہے کہ ہمیں اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے،حکومت کی ترجیحات کیا ��ونی چاہییں اور کس سمت میں چلنا چاہیے مجھے صرف اتنا علم ہے کہ ایکسپورٹ بڑھانے اور انڈسٹری لگانا حکومت وقت یا یہ کہہ لیں کہ مقتدرہ کی ترجیحات میں بالکل شامل نہیں ہے 7/8
یہ معاشی انقلاب تیل نکلنے سے نہیں آیا بلکہ انڈسٹری کی وجہ سے آیا ، ایکسپورٹ کی وجہ سے آیا ، لوکل مینوفیکچرنگ کی وجہ سے آیا ( اس سے امپورٹ بھی کم ہو جاتی ہیں) سچی بات تو یہ ہے کہ انڈیا سے شدید دشمنی کے باوجود حسد محسوس ہوا کہ ایک ساتھ آزاد ہونے والے ملک میں سے ایک اتنا آگے بڑھ گیا کہ دوسروں کو قرضے دے رہا ہے اور ایک ابھی بھی منگتا بن کر معیشت بچانے کی کوشش کر رہا ہے 6/8
انڈیا نے اس دیوالیہ والے ریڈ سگنل کو سیریس لیا اور پھر معاشی انقلاب شروع ہوا ، انڈیا کے حکمران جتنے بھی کرپٹ ہوں لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے انڈیا کی معیشت کے لئے مخلص ہو کر اقدامات کیے۔اس سارے معاشی بحران کے ساتھ سیاسی بحران بھی موجود تھا لیکن اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر کہا کہ پہلے انڈیا اور پھر سیاست ، حکمران بھی مخلص تھے اور اپوزیشن بھی ! جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بلین ڈالر کے لیے ترلے کرنے والے ملک کے آج کے موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر 688 بلین کے قریب پہنچ چکے ہیں، جی ہاں 688 بلین ڈالر اور انڈیا 2025 میں دنیا کی چوتھی بڑی معاشی قوت بن چکی ہے 5/8
آخر کار رامنن صاحب نے ایک بولڈ فیصلہ کیا اور اپنے ملک کا سونا انگلینڈ اور جاپان بینک کو گروی رکھوا کر قرض حاصل کیا ، اس سونے کو گروہ رکھوانے پر بھی ملک میں شدید احتجاج ہوا تھا ، ساٹھ ٹن سونا گروی رکھوایا گیا اور تقریباً آدھا بلین ڈالر کا قرض حاصل کیا گیا اور اب اصل کہانی شروع ہوتی ہے 4/8
ایسے وقت میں رامنن صاحب نے ملک بچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے ، صرف ایک بلین ڈالر حاصل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے ترلے منتیں کیں ، حتیٰ کہ پہلی دفعہ آئی ایم ایف سے بھی قرضہ لیا اور بدلہ میں امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے ری فیولنگ کے لیے بھی دیے ، اس اڈوں کو دینے اور ��ئی ایم ایف سے قرضے پر بھی بہت دھنگے فساد ہوئے حتیٰ کہ اس وقت کی حکومت کو مستعفی ہونا پڑا 3/8
ایسے وقت میں رامنن صاحب نے ملک بچانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے ، صرف ایک بلین ڈالر حاصل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے ترلے منتیں کیں ، حتیٰ کہ پہلی دفعہ آئی ایم ایف سے بھی قرضہ لیا اور بدلہ میں امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے ری فیولنگ کے لیے بھی دیے ، اس اڈوں کو دینے اور آئی ایم ایف سے قرضے پر بھی بہت دھنگے فساد ہوئے حتیٰ کہ اس وقت کی حکومت کو مستعفی ہونا پڑا 3/8
ایس وینکٹا رامنن ایک بیورو کریٹ تھے جو 1990 میں انڈیا سٹیٹ بینک کے گورنر مقرر ہوئے ، آپ کے لیے یہ چیز حیران کن ہو گی کہ انڈیا کا یہ وقت ایسا ہی تھا جیسا کہ آج کل ہمارا ہوا پڑا ہے، انڈیا دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا ، معاشی بحران شدت اختیار کر چکا تھا ، انڈیا کی آمدن کم اور خرچے زیادہ تھے اس وقت ایران کویت جنگ نے مزید حالات خراب کر دیے تھے ، پٹرول نایاب ہو چکا تھا اور روزمرہ ضروریات کی چیزیں راتوں رات دوگنی مہنگی ہو چکی تھیں ، دنگے فساد شروع ہو چکے تھے ، عوام کی زندگی تنگ تھی 2/8
وفاقی حکومت کے پاس تیس ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں آڈیٹر جنرل رپورٹ کے مطابق۔
تیس ہزار گاڑیوں میں ماہانہ تقریبا 60 لاکھ لیٹر تیل فری پھوکا جاتا ہے جسکی قیمت 1.98 ارب ماہانہ اور سالانہ 23 ارب روپے۔
پیٹرول کی مہنگی قیمت کا تعلق جنگ سے زیادہ حکومتی ٹیکس سے ہے اس پر لیوی 80 روپے ہے۔ موجودہ مالی سال میں لیوی سے حکومت 1700 ارب روپے اکھٹا کرنے کا ٹارگٹ ہے
بجٹ کے خسارے اور الیٹ سے ٹیکس نا لینے ک�� وجہ سے پیٹرول مہنگا بیچنا پڑ رہا ہے
وفاقی حکومت کے پاس تیس ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں آڈیٹر جنرل رپورٹ کے مطابق۔
تیس ہزار گاڑیوں میں ماہانہ تقریبا 60 لاکھ لیٹر تیل فری پھوکا جاتا ہے جسکی قیمت 1.98 ارب ماہانہ اور سالانہ 23 ارب روپے۔
@ZiaLove1121@KlasraRauf کیا وزیر اعلیٰ سمیت سب اس دھندے میں ملوث نہیں ہیں؟ کیا وزیر اعلیٰ اس چیز سے بے خبر ہیں؟ اگر زیادہ آبادی کی وجہ سے چلانا ممکن نہیں تو عوام کے سامنے بتادیں کہ نہیں چل رہا، ذیادہ صوبے بنانا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں؟ کیا باقی دنیا میں پنجاب جتنا بڑا صوبہ نہیں؟