ن لیگ کا کردار ایسے معاملات میں ہمیشہ نیگیٹو رہا ہے ، طاقت کا نشہ انہیں پاگل کر دیتا ہے۔ 2014 میں ماڈل ٹاؤن اور اب سانحہ مریدکے، معاملات بات چیت کے زریعے بآسانی حل ہو سکتے تھے لیکن طاقت کے زعم نے انکے دماغوں میں خناس بھردیا ہے
پوری دنیا میں جلسے ہوئے، فلسطین کیلئے آواز اٹھائی گئ، لیکن ہمارے ملک میں روایت یہ رہی ہے کہ جلسہ میدان جنگ بن جاتا ہے، قتل و غارت ہوتی ہے، دونوں جانب اموات ہوتی ہیں، حکمت عملی نام کی کوئ چیز نہیں، انا اور ضد نے اس ملک کو تباہ کردیا۔۔
الحمدللہ، گذشتہ روز یہ خوشخبری مل چکی تھی لیکن جب تک کوئ تحریری آفیشل معاہدہ نہیں آیا ہم خاموش رہے۔۔۔۔۔
اب میرا سوال حکومتی لیگ کے ان ماؤتھ پیسز سے ہے جو خواہ مخواہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے بن کر ناچ ناچ ��ھنگرو توڑ رہے تھے اور مسجد گرانے کو ریاستی رٹ اور مسجد کو غیرقانونی قرار دیکر اپنی اپنی دانشوریاں جھاڑ رہے تھے۔۔۔۔
اب وہ تمام ٹرولز جو حکومتی لیگ کی ایماء پر مسجد گرانے کے خواہ مخواہ جواز تراش رہے تھے وہ اب ریاست پاکستان کے اس معاہدے کی ایک ایک کاپی تعویذ بناکر گلے میں لٹکائیں۔۔۔۔۔۔
آفتاب نذیر
@ihsannaseem1 یہ کارنامہ پاکستان کے سر زمین پر بھی ایک بندہ نے سر انجام دیا تھا،
اسکا نام مفتی عبد الشكور رحمه اللّٰہ تھا،
اللہ تعالیٰ انكو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما دیں
آمین
*Khana-Badoosh*
Swirls of oud wood for a journey into the heart of the Desert
Affordable Price
Perfume:
Rs: 2999/50ml
Rs: 5499/100ml
Attar Oil:
Rs: 2499/12ml
Some Slots Left
ہم نے عزم کر رکھا ہے کہ اس غلامی کے خلاف جنگ لڑیں گے، میدان عمل میں آکر جنگ لڑیں گے ، عوام میں جا کر لڑیں گے، آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر لڑیں گے اور ملک کو اس غلامی سے نجات دلائیں گے، ہم ��ر یا توعالمی قوتیں حکومت کر رہی ہیں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کر رہی ہے، یہ نظام ہمیں قبول نہیں ہے، ہماری پوزیشن اس حوالے سے واضح ہے، اس لیے ہمارا پیغام ہر سطح پر چلا جانا چاہیے۔
ہمیں سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا ہمارا ملک اب کہاں کھڑا ہے، اس ملک کو حاصل کرنے میں اسٹیبلشمنٹ اور بیورو کریسی کا کوئی کردار نہیں، آج بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کہاں ہے اور عوام کہاں ہے،ہماری عوامی نمائندگی پر اعتراض اٹھایا جا رہا ہے بڑی جدو جہد کے ساتھ عوام کو ووٹ کا حق ملا، عوام کو بڑی جدو جہد کے بعد پارلیمانی جمہوری نظام ملا، قائد اعظم کا پاکستان کہاں ہے آج ؟ یہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی،ہم نے اپنی جمہوریت کو بیچا، ہم نے اپنے ہاتھوں سے آقا بنائے، ہم اپنی مرضی سے قانون بھی نہیں بناسکتے ، دیوارکے پیچھے جو قوتیں ہمیں کنٹرول کرتی ہیں فیصلے وہ کریں اور منہ ہمارا کالا ہو، پاکستان کا ہر فرد تین لاکھ کا مقروض ہے ہم نے قوم کو ہجوم بنا کر رکھ دیا، ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا آج ہم سیکولر ریاست بن چکے ہیں، 1973 سے اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش پر عمل نہیں ہوا ، کیسے ہم اسلامی ملک ہیں؟ ہم دیوالیہ پن سے بچنے کیلئے بھیک مانگ رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی قسط پرجشن منایا جارہا ہے، انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف دو مئی کو کراچی اور نو مئی کو پشاور میں ملین مارچ ہوگا، اگر ہمارا راستہ کسی نے روکا یا کوشش کی تو پھر وہ خود ہی مصیبت کو دعوت دے گا۔
تھرید1/1
دو دن سے کئی دوستوں نے JDCنامی تنظیم کو سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز گر��نٹ کرنے کا میسج اور خبر بھیج بھیج کر بار بار دریافت کیا کہ آخر آپ اس پر کیوں نہیں بولتے؟
پہلی بات کہ JDCاور ظفر عباس کو پاکستان بھر میں سب سے پہلے Expose اور اس پرسب سے زیادہ کھل کر بولا ہی ناچیز نے تھا آج بھی یو ٹیوب پر وہ تمام ویدیوز پڑی ہیں!
لیکن اسکے بعد کیا ہوا؟ ظفر عباس کی ایماء پر FIRsہوئیں جن میں باقاعدہ اسکے ادارے JDC کا نام مینشن کرکے کہا گیا کہ “آفتاب نذیر اس ادارے کے باریمیں ہرزہ سرائی اور پروپیگنڈا کرتے ہوئے یہ سب کہتا ہے کہ وہ محرم کے جلوسوں میں تو پانی پلاتے لیکن صحابہ صحابہ کرنے والوں کو پانی کی بوتل پلاتے موت پڑتی”
دوسری FIRمیں لکھا گیا آفتاب نذیر کہتا ہیکہ حضرت امیرمعاویہ اور ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو کافر کہنے والا۔۔۔ہے”
ایک FIR تو اتنے مزے کی ہیکہ جب کمرہ عدالت میں جج نے تفتیشی سے پوچھا کہ کیا "ان الفاظ" پر بھی یہ دفعہ بنتی ہے تو اس نے کہا سر اوپر سے حکم تھا
اوپر کا جب سراغ لگایا تو کھرا راجہ ناصر عباس کے ہاں سے نکلا۔۔۔
آصف علوی نے امی عائشہ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیں زلفی بخاری نے اسے یوکے نکالا۔۔۔
ہم کہتے گالیاں کیوں دیں تو ہم پر الٹا پرچے کرکے اندر ڈالا گیا۔۔۔۔
بیک وقت پورے ملک کے مختلف حصوں میں پرچے ہونے شروع ہوئے،اور یہ پرچے مختلف اداروں میں موجود اہل تشیع افسران نے کروائے جنکی نشاندہی ہ�� نے کورٹ میں کی،جبکہ دوران تفتیش و ریمانڈ وہ اسکا ذکر بھی گاہے بگاہے کرتے رہے جس سے اندازہ ہوگیا کہ کام کس کا ہے
کراچی سے اسفار کر کر کبھی ایک شہر کبھی دوسرے شہر عدالتوں میں پیش ہوتا رہا کام کاروبار فیملی سب تباہ ہوا بالآخر مجبور ہوکر عارضی ہجرت اختیار کی ، دوران ہجرت وہ دوست کہ جو NGOs چلاتے اور سیلاب زدگان کو امدادی کنٹینرز بھر بھر سپلائی کرتے انہیں پیغام پہنچایا کہ حالات بہت مخدوش ہیں اور نوبت فاقوں تک آچکی ہے امداد نا سہی میرا ادھار ہی واپس چکادیں،
الحمدللہ ہمارے ایک دوست ایک ادارے اور ایک قائد نے بھی ایک روپے کی سپورٹ نا کی اور شکر الحمدللہ کہ نہیں کی بلکہ ملیر کے ایک دوست نے بتایا کہ انور بلوچ ہوٹل پر کڑاہی کھاتے ہوئے جب آپکے احوال واسکٹی لیڈروں کو بتلائے تو ایک کرم فرما نے خوب مذاق اڑاتے ہوئے کہا "ڈرامہ" ہے جبکہ اسی کرم فرما کو پتہ ہیکہ اچھے وقت میں انکے ساتھ کیا کیا تھا
ایک "برانڈڈ ابن شہید" نے ان ایام میں فقط لائکس کمنٹس اور چسکے کی خاطر تمسخر اڑا کر پوسٹ داغی جسکا انہیں دنیا وآخرت کا کوئ فائدہ نا تھاجبکہ انکی فیملی کے ساتھ بھی ہمیشہ احسان والا معاملہ ہی رہا، ہمیشہ کچھ دیا، لیاکبھی کچھ نہیں!
انسان سب بھول سکتا ہے مشکل وقت کا محسن اور اذیت دینے والا کبھی نہیں بھولتا
چونکہ انکے ہاں گھر کا راشن شہید ہی کے گھر جاتا ہے اور اسکے لئیے مرنا ضروری تھا، یا پھر دس کلو آٹے کا تھیلا اسے ہی دیا جاتا ہے کہ جسکی تصویر یا ویڈیوبن سکے اور اسکے بدلے وہ مزید جائیدادیں بنانے کے لئیے مال بٹور سکیں۔
زلزلہ اور سیلاب ہو یا افغانستان و فلسطین سب انکے لئیے جیک پاٹ ہوتے انکے مہنگے فونز،پہناوے گاڑیاں اور اسفار دیکھ کر کڑھتا کہ میں خاندانی نسلی کاروباری آدمی جسکے باپ دادا چاچوں ماموں سب کی حیثیت کاسب کو پتہ بھی ہے میں اس کام میں لگ کر آج اس حال کو پہنچ چکا ہوں اور یہ لوگ کس طرح سے بنا کام کاروبار اور نوکری کئیے صرف سوشل میڈیا پر مذہب فروشی کرکے ان سب آسائشوں میں جی رہے
میرے خاندان کے ہر بزرگ بڑے نے مجھے اس سب سے روکا بلکہ اعظم سواتی صاحب نے انتہائ سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کن کاموں میں پڑ گئے ہو؟ انجام برا ہوگا اور میں بھی ساتھ نہیں دونگا
وہ الگ بات ہیکہ آج انکا اور میرا کیس ایک ہی عدالت میں ہے😊
سوشل میڈیا ٹرولنگ ہو یا گالم گلوچ کسی بھی مخالف سے زیادہ تکلیف اپنوں نے دی وجہ صرف یہ کہ جو سچ دوسروں کے باریمیں بولتے لکھتے ہو وہ اپنوں کے باریمیں نا بولو ، یعنی مانسہرہ میں اگر کسی مولوی نے بچے کے ساتھ زیادتی کی یا لاہور کے کسی ملا کی غلط ویڈیو پبلک ہوئ آئ تو آپ اسکی مذمت نا کرو!
یہ سائیکلوں پہ آنے والے لوگ بنا کسی کاروبار کے ڈالے گن مین کروڑوں کی گاڑیاں اور ڈیفینس بحری�� کے پلازوں کے مالک بن گئے اور ہم جو اسی کی دہائی میں FJ اور J60 رکھتے تھے بائیکیا پر آگئے🤫 الحمدللہ
بہرکیف اس ساری صورتحال میں پاکستان سے نکلا ، فیملی سے رابطہ بحال ہوا ابتدائی ایام میں پھر ظفر عباس نے ایک معتبر اور معزز بزرگ کے تھرو رابطہ کرکے اپنا کام دکھایا اور کہا کہ اس رمضان خاموش رہو اور Between the lines پیسوں کی آفر کی
الحمدللہ اسکی آفر اسکے منہ پہ ماری اسی دن ویڈیو بنائ اور تمام احوال پبلک کئیے ویڈیو بھی موجود ہےبزرگ بھی زندہ ہیں ظفر عباس بھی زندہ ہے
گوڈ بوائے "(Good Boy)"
ایک منرلز نوٹس کے ساتھ آنے والی ایسی با کمال ایگزیکٹیو لیول کی خوشبو ہے جس کا تعارف لفظوں میں بیان کرنا میرے لئے آسان نہیں ہے اس خوشبو کو منرلز، چمڑا، زعفران، آکیگالا لکڑی، بنفشہ کی پتیاں، مینڈارن اورنج، جیسے اجزاء کو ملا کر تیار کیا گیا ہے،
جاری ہے۔۔۔
اس کے نوٹس منرلز ۔ وارم اسپائسی ۔ لیدر ۔ عود ۔ ووڈی ۔ سٹرس ۔ فروٹی ۔ ایکواٹک ۔ مسکی ہیں۔
پورے پاکستان سے ابھی آرڈر کرنے کے لیے اس نمبر 03036555983 پر واٹس ایپ کریں۔
المکی آروما اینڈ نیچرل'ز
نام ہے اعتماد کا