A Muslim is not born to give up. If he is forced to be enslaved, he will become Babur. He will emerge as Sultan Tipu. He can happily embrace martyrdom but will never accept slavery.
#PakistanZindebad#Pakistan#IndiaPakistanWar
حیرت ہے نکاح اور عدت پر ہر روز گند اچھالنے والے آج خواتین کے اغوا تاوان زیادتی پر بالکل خاموش بلکہ گونگے بہرے اور اندھے ہوکر صفائیاں دے رہے ہیں، صابر شاکر
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan@ARYSabirShakir
بات سخت ہے لیکن اتنی ہی بڑی حقیقت ہے کہ جنہوں نے ایک عورت اور مرد کے حلال رشتے نکاح پر زمانے بھر کا گند اچھالا تھا آج وہ اغوااور زنا کا دفاع کر رہے ہیں ۔ اللہ اللہ ۔!!!
ٹھیک ہی کہا گیا ہے خدا کسی کو تب تک موت نہیں دیتا جب تک اس کا اصل سامنے ��ہ لے آئے۔
اور کتنی خوشامد کرنی ہے؟ کتنا گرنا ہے؟ اس کے علاوہ کوئی اور کام آتا ہے؟ سائرہ بانو
#pakistan@Saira_Banokhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
بخت کے تخت سے یک لخت اتارا ہوا شخص۔۔۔
تم نے دیکھا ہے یاسمین راشد سے ہارا ہوا شخص
سیاست کے 50 برس فوجی جرنیلوں کی چاکری میں گزار دیئے! نوازشریف کا انتخابی مہم کے لئے گلگت بلتستان پہنچنے پر فیاض راجہ کا ردعمل
@mfayyazraja
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
صُبح
یہ سحَر جو کبھی فردا ہے کبھی ہے امروز
نہیں معلوم کہ ہوتی ہے کہاں سے پیدا
وہ سحَر جس سے لَرزتا ہے شبستانِ وجود
ہوتی ہ�� بندۂ مومن کی اذاں سے پیدا
علامہ محمد اقبالؒ
کتاب: ضربِ کلیم
جہالت کا کوئی توڑ نہیں، اور نون لیگ کا جہالت میں کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اوریا مقبول جان
#pakistan@OryaMaqboolJan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
(نواز شریف) 1977 میں پیپلزپارٹی کے امیدوار طارق وحید بٹ کے پولنگ ایجنٹ تھے؛ (اس زمانے میں) انہوں نے بلدیاتی الیکشن بھی لڑا تھا اور پورے 9 ووٹ حاصل کیے تھے، اب واپس اسی پوزیشن پر آ گئے ہیں !مظہر برلاس
@mazhar_barlas
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
دھڑکن تھے دعا تھے مرے ہونے کا یقیں تھے
خوشبو کے محافظ تھے محبت کے امیں تھے
دُکھ یہ ہے میرے یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
اے بادِ ستم خیز تیری خیر کہ تُو نے
پنچھی وہ اُڑائے ٫ کہ جو اُڑنے کے نہیں تھے
یہ سو�� کے اُس شوخ نے غیروں سےنبھائی
ہم لوگ فقط ہجر سے مرنے کے نہیں تھے
تیرا بھی گلہ اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن
ہم عشق سِوا کُچھ بھی تو کرنے کےنہیں تھے
اِک وصل کی اُمید پہ فُرقت مِیں تمہاری
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
اے گردشِ حالات "تیری خیر کہ تو نے"
وہ زخم بھرے ہیں کہ جو بھرنے کے نہیں تھے
تم سے تو کوئی شکوہ نہیں چارہ گری کا
چھوڑو یہ میرے زخم ہی بھرنے کے نہیں تھے
بھر ڈالا اُنہیں بھی میری بیدار نظر نے
جو زخم کسی طَور بھی بھرنے کے نہیں تھے
اے زیست اِدھر دیکھ کہ ہم نے تیری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
کل رات تیری یاد نے طوفاں وہ اٹھایا
آنسو تھے کہ پلکوں پہ ٹھہرنے کے نہیں تھے
اُن کو بھی اُتارا ہے بڑے شوق سے ہم نے
جو نقش ابھی دل مِیں اُترنے کے نہیں تھے
اے گردشِ ایام ہمیں رنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے کہ بِکھرنے کے نہیں تھے
راکب مختار