What is going on in Khyber?
Missing Person Alert
Distt #Khyber: Ikramullah, son of Zahoor Khan,resident of #Jamrud, has been missing since 10am today from #Karkhano#Awami#Market in #Peshawar.This the 3rd child in a single day missing
contact:📞 0303-8848597 @samanthaleaning
🚨کمال شاندار اس ویڈیو بنانے والے کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں
تاریخ کے عظیم رہنما — ایک فریم میں
باچا خان، قائداعظم محمد علی جناح اور عمران خان — تین مختلف ادوار، ایک سوچ: قیادت، جدوجہد اور قوم کی خدمت۔
یہ تخلیق تاریخ، وژن اور قومی شعور کو خراجِ تحسین ہے❤️💯❤️
شہید ہونے والےرینجر اہلکار کے بھائی کا بیان جو چشم دید گواہ بھی ہے :-
پولیس اور رینجر کے پاس جب شیل اور طاقت ختم ہوئی تو بھاگتے ہوئے انہوں نے لوگوں پر گاڑیاں چڑھا دیں ، میری آنکھوں کے سامنے پولیس اور رینجر نے لوگوں اور میرے بھائی پر گاڑیاں چڑھائی ۔
🚨🚨شیر افضل خان مروت کا احتجاجیوں کو علی امین کنڈا پور اور باقی پی ٹی ائی کی قیادت کی طرف سے پیغام-
"اپنی انکھیں کھلی رکھنی ہیں اور تخریب کاروں کو فورا پکڑنا ہے."
یہ وہ فارم 45 ہے جس سے اصل میں ہار اور جیت کی پتہ چلتا ہے۔
میں خود فل کر رہا ہوں، لیکن میں جو کل سے بتا رہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی،ٹی،آئی سارے سیٹس جیت جائے گی، پر یہ بدل کر مخالف کے حق میں فیصلہ دے گا۔
#PakistanElection@ImranKhanPTI@Ali_MuhammadPTI@NoorulhaqPir
بادشاہ ہذیان بک رہا ہے۔ عمران خان نے مرنا ہوتا تو ۴ نومبر کو مر جاتا۔ بادشاہ جانتا ہے اس کی فرعونیت کو خدائ کا شائبہ بھی ہوتا تو وہ ۱۸ مارچ کو مرجاتا۔ اور کچھ نہ سہی وہ تب مرجاتا جب اُس نے اُس کے ہیلی کاپٹر میں غلط تیل بھروایا۔ تب مرجاتا جب اپنے پیادوں کے زریعے اسے وہ بلٹ پروف دی کہ جس کی وا��یرنگ میں گڑبڑ کردی تھی۔ بادشاہ کو بھی یاد ہے ہر وہ موقع جب اس کے بچھائے ہر جال سے وہ اس اعتماد سے نکلا کہ بادشاہ کی اپنی رگوں میں سنسنی دوڑ گئی۔بادشاہ جانتا ہے کہ عمران خان اب مر کر بھی نہیں مریگا وہ جہاں کھڑا ہے وہاں موت اُسے جاوداں کردیگی۔ مگر بادشاہ یہ حقیقت جھٹلا رہا ہے کیونکہ خوف اُسے اپنی موت کا ہے، داؤ پہ جو لگی ہے وہ اُس کی ریت پر کھڑی خدائ ہے کہ جس کی بنیادوں میں وہ چونٹیاں گھر کر گئیں ہیں جنہیں وہ پوروں میں مسل کر نکل جایا کرتا تھا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ ان بنیادوں میں پانی چھوڑ دے۔ وہ سوچتا ہے ایسا کرنے سے چونٹیاں بوکھلا جائینگی۔ ڈر جائینگی۔ مر جائینگی۔ بادشاہ عمران خان کےبغض میں یہ بھول بیٹھا ہے کہ چونٹیوں کو پر بھی لگ جاتے ہیں اور کیسے نمرود کی خدائ ایک اڑتے کیڑے کی بدولت دیواروں سے ٹکریں مارتے مارتے ختم ہوگئی تھی۔
ہم جو اِن کی نظر میں حشرات ہیں۔۔ کیڑے مکوڑے۔۔ ��ونٹیاں۔۔یہ ہماری زندگی موت کے فیصلے کرتے ہیں۔ ہمارے سامنے دانا پکڑ کر ہمیں اس کے گرد گھماتے ہیں۔۔ دوڑاتے ہیں۔ جی چاہے تو کچل دیتے ہیں۔ جی چاہے تو مسل دیتے ہیں۔ ہمارے گِرد نمک کے دائرے کھینچ کر ہماری حدیں مقرر کرتے ہیں۔ ہمیں اپنی اوقات میں رکھتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ جب حبس بہت بڑھ جائے تو آسمان برس پڑتا ہے اور جب آسمان برستا ہے تو چونٹیوں کو بھی پر لگ جاتے ہیں۔
بادشاہ اب بھی عمران خان کو اپنا مقابل سمجھ رہا ہے۔ بادشاہ سوچتا ہے اس کو ختم کردیا تو شاید وہ بچ جائے۔ بادشاہ نہیں جانتا کہ اس کے پھیلائے گھٹن میں جو دیمک پل رہا ہے وہ اسی کے وجود کو چاٹ رہا ہے۔بادشاہ کو اپنے پیروں کے گرد گھیرا ڈالتی چونٹیاں کم تر لگتی ہیں وہ سوچتا ہے انہیں تو ایک آن میں کچل دیگا۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کی اونچی ناک کے نیچے اس کا دیمک لگا وجود گرنے کو ہے۔ ‘بس ایک عمران خان مرجائ�� تو وہ سب سنبھال لے گا’۔
بادشاہ کا تکبر اسے بھلا بیٹھا ہے کہ وہ انسان ہے اور انسانوں کو خدائ کا دعوی راس نہیں آتا۔