میں آج جتنا پریشان ہوں اس سے پہلے کبھی اتنا پریشان نہیں ہوا عمران خان س�� 5 مہینے پہلے جب آخری مرتبہ ہماری گفتگو ہوئی تو وہ اپنے علاج اور دیگر قیدیوں کے علاج کے حوالے سے بہت پریشان تھے جس سیل میں عمران خان کو رکھا گیا ہے اس کی صورتحال بہت خراب ہے ان جیلوں میں قیدی ہیپاٹائٹس کی وجہ سے مر رہے ہیں عمران خان کی آنکھ کا علاج نا کروانا پرفیکٹ مثال ہے عمران خان کو تین مہینوں تک تکلیف رہی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی عمران خان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا آ گیا کیوں آیا ہمیں آج تک نہیں پتا تب جب ہماری عمران خان سے بات ہوئی بہت فرسٹریٹڈ تھے۔
قاسم خان کا انٹرویو
اگ�� عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ��ریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے ��س دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
آپ الٹے لٹک جائیں یہ ��ٹھ پتلی لڑنے والا نہیں چاٹنے والا گروہ ہے۔ لڑجانے والا قید تنہائی میں ہے۔ ایک آنکھ ضائع ہے۔ مہینوں سے اسکی کوئی خیر خبر نہیں۔ آپ کی پوسٹس آپ کی آواز آپ کی اسے ضرورت ہے۔
We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹ�� کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی ت��تیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
سہیل آفریدی کو مروت ، گنڈاپور سے زیادہ ٹائم ملا۔ سہیل آفریدی پر بوجھ بھی گنڈاپور اور مروت وغیرہ سے زیادہ آئے گا اور انجام بھی زیادہ بھیانک۔ جس ڈ��ٹائی اور بے شرمی کا مظاہرہ سہیل آفریدی اور اسکے گینگ نے کیا ہے کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ تنقید ہوئی تو کنٹینر کا پھیرا لگا آیا۔ بجٹ سرپلس دینے کا موقع آیا تو اڈیالہ جانا شروع کردیا۔ بجٹ پاس ہوگیا تو اڈیالہ جانا بند کردیا۔ جلسے جلوسوں میں بڑھکیں شروع کردیں۔ لوگ زیادہ نکلنا شروع ہوگئے تو ریلیوں کا سلسلہ ختم کردیا۔ عمران خان کی آنکھ کے مسئلے پر احتجاج ہوا تو پختونخواہ ہاوس میں خود ساختہ محصوری اختیار کرلی۔
عمران خان کی طویل اور اذیتناک قید کے بعد یہ تجربہ ہوا کہ پاکستان کے تناظر میں موروثی سیاست کرنے میں کوئ حرج نہیں ۔
کیونکہ اگر بُرا وقت آ جائے تو صرف خون کے رشتے ہی تڑپتے ہیں ۔۔ خان صاحب کی بہنوں کو ہی دیکھ لیں ۔
باقی سب تو سودا کر چکے ہیں 💔
"ہماری تکلیف سمجھ لیں ہمیں عمران خان کی آنکھ کی فکر ہے ان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟ تحریک چلانے کا مطلب اس حکومت پر پریشر ڈالنا ہے تاکہ ان کا علاج ہو، عمران خان خود کبھی نہیں کہیں گے انہوں نے تو کہا تھا میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن وقت کے یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا"علیمہ خان
”میں لا الہ الا اللہ کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے.“- سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
(8 ستمبر 2025)
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی#RetweetImranKhan
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام اہم پیغام
“آٹھ فروری کو آپ کا مینڈیٹ چرایا گیا لہذا اس روز کو بطور یوم سیاہ منانے کے لیے آپ سب کو نکلنا ہو گا۔
کسانوں، مزدوروں، وکلاء اور ملک کے ہر مکتبہ فکر سے منسلک افراد کو 8 فروری کو نکل کر اپنے حق پر ڈالے گئے ننگے ڈاکے کے خلاف احتجاج کرنا ہو گا کیونکہ غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا اور غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد ضروری ہوتی ہے ۔
آٹھ فروری کو اس قوم کا مینڈیٹ چرا کر ملک کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پاکستانی قوم نے تمام تر مش��لات کے باوجود جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کے حق میں ووٹ ڈالا مگر آپ کے ووٹ کو پیروں تلے روند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
اوورسیز پاکستانی جمہوریت کی بحالی تک ترسیلات زر میں کمی لا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں-
جمہوریت بچانے کے لیے انصاف ناگزیر ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کا ہمارا مطالبہ اسی لیے ہے تاکہ ان واقعات کے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انصاف دینے کے لیے اخلاقی جرأَت کا ہونا اہم ہے۔ جہاں اخلاقی قوت موجود ہو گی وہاں انصاف بھی ہو گا۔ ایک حقیقی لیڈر میں اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ موجودہ حکومت اخلاقیات سے بالکل عاری ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ مار کر عوام کو ان کے نمائندگان چننے کے حق سے محروم کیا۔ اس ڈاکے کی پردہ پوشی کے لیے مسلسل جعلی اور نا مکمل پارلیمان کے ��ریعے قانون سازی کی جا رہی ہے تاکہ حق اور سچ سامنے نہ آئے اور ان کے جھوٹے اقتدار کو طول ملتا رہے۔ ملک میں آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے، پیکا جیسے قوانین منظور کیے گئے ہیں تاکہ کوئی ان کی فسطائیت کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں، ججز پر دباؤ ڈالا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جا رہی ہے۔ پر امن سیاسی کارکنان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ ��ور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی ��عتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے”
اس خطاب میں عمران خان نے تحریک انصاف کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ پورے پاکستان کو اس جدوجہد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ پاکستا�� کی حقیقی آزادی سب کی زمہ داری ہے۔
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
اسلام آباد: میانوالی کے 200 بستروں والے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے بانی چیئرمین عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی ہٹانا ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی مخالفین کا مقابلہ کارکردگی سے نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کی کوششوں سے کرنا چاہتے ہیں۔
تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں عمران خان نے کیا، میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے لاکھوں عوام کے لیے اہم طبی سہولت ہے۔ اس منصوبے کی شناخت ختم کرنے کی کوشش عوامی خدمت کے منصوبوں کو سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
• پاکستان کا واحد کرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا، یہ حقیقت کسی تصویر یا تختی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔
• شوکت خانم، نمل یونیورسٹی، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میراث کام سے بنتی ہے، سرکاری احکامات سے نہیں مٹتی۔
• تاریخ تختیاں ہٹانے سے نہیں بدلتی، عوامی یادداشت اور خدمات اسے زندہ رکھتی ہیں۔
جو لوگ اپنی کارکردگی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔
عمران خان کا نام کسی تختی کا محتاج نہیں، ان کی خدمات ، عوامی اثر اور اس چور ٹولے میں عمران خان کا خوف ہی خود ان کی پہچان ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
"ہم بہنوں کو سپورٹ کی ضروت نہیں ہے ہم تینوں اکیلے بیٹھیں گے یہاں جو لوگ آتے ہیں وہ عمران خان کی محبت میں آتے ہیں ملاقات انہوں نے کروانی نہیں لیکن ہم یہاں آکر بیٹھ جایا کرینگے لیکن باقی سب نے پریشر بنانا ہے اپن�� حقوق کے لیے عمران خان کے علاج اور قید تنہائی کے خاتمے کے لیے نکلنا ہے۔ ہم سب سے درخواست کررہے ہیں کہ اب اگلے فیز میں جائیں تحریک کی تیاری کریں"۔
علیمہ خان
@Aleema_KhanPK
بزدار وزیراعلی بنا تو خوشامدی مشیر و کابینہ ایک بل لے آئے کہ ہر سابق وزیراعلی کو یہ یہ مراعات ملیں گی جس کا لاہور میں گھر نہیں ہوگا اسکو بی او آر میں گھر ملے گا اور فلاں فلاں الاونس ملے گا۔ سوشل میڈیا نے بزدار سرکار کی چھترول کی۔ عمران خان نے نوٹس لیکر بل واپس کروا دیا۔
پختونخواہ کے اراکین اسمبلی نے بھی ویسی ہی کمینی اور گری ہوئی حرکت کی ہے۔ سوشل میڈیا انکو ذلیل بھی کرے گا۔ لیکن اب عمران خان کی آواز بند ہے ورنہ پہلی فرصت میں اس قراداد پر تنبیہہ کرتا۔ عمران خان کی قید فوج ، ملک دشمنوں اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔
ایک بار @ImranRiazKhan نے کہا تھا کہ عمران خان کو نکالا تو بڑا نقصان ہوگا اسٹیبلشمنٹ کو۔”وہ نواز شریف کی طرح یہ نہیں پوچھے گا کہ مجھے کیوں نکالا، وہ سب کو بتائے گا کہ اس کو کیوں نکالا“
اس وڈیو میں عمران خان نے عوام کو سب کچھ سمجھایا اور تب سے لوگ دل و جان سے اس کے ساتھ ہیں اور نفرت سے دیکھتے ہیں جنرل باجوہ، جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو کیونکہ انہوں نے اس بندے پر ظلم کیا جو پاکستان اور مسلمانوں کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے