زارہ نور عباس بھی بول پڑی❤️🩹
زارہ نور عباس انتہائی غصہ اور افسردہ ہے,
کہہ رہی ہے, یہ جو کچھ ہورہا ہے, ہمارے اندر غصہ بڑھ رہا ہے, اور دل کرتا ہے قانون اپنے ہاتھو میں لیں کر یہ لاقانیونت اور ظلم اپنے ہاتھوں سے روک سکیں!
سب کو اسی طرح بولنا پڑےگا,
ورنہ یہ اگ سب کے گھروں تک آرہا ہے
آسلام آباد کے کچھ غیرتی شہری PIMs پہنچ گئے!!
اسلام آباد کر شہریوں نے shame Shame کے نعرے لگائے, حکومت کو شرم آنی چاہیے!!
آج تو چاہیے تھا, پورا پاکستان سڑکوں پر نکل آتے, لیکن باقی پاکستانیوں نے اپنی باری کا انتظار اچھا سمجھا!!
یہ بچے پورے پاکستان کے بچے ہیں, خدا کے لیے نکل آؤ
فجر کے وقت میرا بیٹا پیدا ہوا میں نے اسکے کان میں آذان دی اور حضور محمدﷺ کے نام پر اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا۔
جب آگ لگی تو نرسری کے گیٹ کو تالا لگا ہوا تھا، والدین نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو نکالا ہماری مدد کے لیے نا فائر بریگیڈ کا اور نہ کوئی اور عملہ موجود تھا۔
آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت کے بعد فائر بریگیڈ پہنچی تب تک بچے جل چکے تھے۔
چار سال بعد مجھے اللہ نے بیٹا دیا اب میں کس سے ہرجانہ وصول کروں۔
ایک غمگین والد کی وسیم عباسی کے پروگرام میں گفتگو
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
پاکستان تحریکِ انصاف کے بزرگ کارکن چاچا شاہ عالم خان کا انتقال ہو گیا، 9 مئی کا ایک اور کارکن اس دنیا سے چلا گیا، مرحوم شاہ عالم خان کو 9 مئی کے جھوٹے مقدمات میں نامزد کر کے 1 سال تک سرگودھا جیل میں ناحق قید رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم شاہ عالم خان کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
#May9th_FalseFlag
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
نوجوانوں کو بہتر مستقبل دینا ہے تو نظام میں 5 تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔1)فوج کی سیاسی مداخلت کا خاتمہ 2)سیاستدانوں کا اپنے فوائد کے لئے فوج سے مدد لینا۔3)تمام سیاستدانوں کا باہمی نیا میثاق جمہوریت ۔4) عدلیہ کی آزادی کی بحالی 5) وسائل اور اختیارات کی نچلی سطح پر مقامی حکومت کو منتقلی
پمز اسپتال میں آتشزدگی کا واقعہ ہمارے اوپر کہیں نہ کہیں نحوست کا سایہ ہے، آج کا دن ہمارے لئے ایک جشن کا دن تھا تو اسی دن ہم بد نصیب قوم پر یہ واقعہ رونما ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کہیں ہمارے لئے یہ پیغام تو نہیں آرہا کہ انسان بن جاؤ اور اپنی حرکتیں درست کرو۔ آج کے واقعے میں کم از کم 30 فیصد ایسے بچے ہوں گے جو بہت منتوں مرادوں سے مانگے گئے ہوں گے، 1 بچہ ایسا بھی تھا جو 12 سال کے بعد پیدا ہوا۔ ان بچوں کے والدین پر جو گزری ہے ہم اور آپ وہ محسوس نہیں کرسکتے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو
@javeednusrat
آج پمز کے سانحے کا غم ہر بات پر چھایا رہا۔ تاہم پارٹی کے تنظیمی معاملات کو دیکھنا ضروری ہے۔ معلومات کی کمی بعض اوقات غلط فہمیاں پیدا کرتی ہے۔ عمران خان کے پر خلوص کارکن پارٹی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ اسلام آباد میں پمز ہسپتال کے بعد آج پشاور میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقات ہوئی۔ اتوار کو پارٹی کی ایک بڑی کانفرنس پشاور میں بلائی ہے۔ کل کراچی میں سندھ کے عہدیداران سے انشا اللہ ملاقات ہو گی۔ اس سے اگلے دن فیصل آباد میں مقامی تنظیموں سے ملاقاتیں طے ہیں۔ ہم عوام کی محرومیوں کا مقدمہ پورے پاکستان میں لڑتے رہیں گے۔ تمام علاقوں کی تنظیمیں ہر عزم ہیں۔
🚨🚨🚨14 کلیاں مرجھا گئی، ان کو پرواہ ہی نہیں، کل صحت کی کمیٹی میں مصطفی کمال پمز ہسپتال کے قصیدے گا رہا تھا اور آج یہ حادثہ ہوا، مصطفی کمال کو مستعفی ہونا چاہئے ، سینیٹر فلک ناز چترالی کی پمز ہسپتال میں گفتگو
@FalakNazChitral
“شرم آنی چاہئیے جن کی یہ پسند ہیں، ایک وہ محسن نقوی ، ایس ایچ او کی مار والا، اور ایک یہ جو کبھی “بھائی” کا بچہ تھا کبھی “باپ”کا بچہ بن جاتا ہے۔ 33 صوبے بنانے چلے ہیں، پہلے چار کو تو سنبھال لو”۔ سائرہ بانو
شاید ہی آج سے پہلے کبھی کسی حکومت نے اتنے تمغے اپنے وزرا میں بانٹے ہوں لیکن کارکردگی یہ ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں مناسب فائر سیفٹی نہ ہونے کی وجہ سے 14بچے جل کر جان بحق ہو گئے ۔عوام کےبچےمر رہے ہیں دوسری طرف حکمرانوں کےبچوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اگلا بڑا عہدہ کسےملے گا!
افسوس کہ وفاقی وزرا کئی دن سے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی شان میں قصیدے بیان کر رہے تھے پمز میں آج آگ لگ گئی اور 15 نومولود بچوں کی جان چلی گئی اللّٰہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو صبر دے اور حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے جن کی غلط بیانیاں ایک تماشہ بن چکی ہیں
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے دل چیر کر رکھ دیا ہے۔ معصوم نومولود بچوں کا اس طرح دنیا سے چلے جانا ناقابلِ تلافی صدمہ اور انتہائی دردناک سانحہ ہے۔ ان ننھی جانوں کے والدین کس کرب اور اذیت سے گزر رہے ہوں گے، اس کا تصور ہی روح کو تڑپا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ متاثرہ والدین اور اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
#PIMSincident
سرکاری اسپتال نہیں چل رہےسرکاری سکول نہیں چل رہےتو ایسی سرکار کو سمندر بُرد کردیناچاہئیے۔ کرپشن نہیں، کرپشن کا دفاع کرنا مسلئہ ہے۔ پرسوں ایک واقعہ ہوا صحافی اچھل اچھل کر ڈیفینڈ کررہےتھے، ابھی شام تک تمغہ امتیار لینےوالے اور اسکےمتمنی صحافی اس واقعےکو ڈیفینڈ کرنےآجائیں گے۔ سائرہ بانو
🚨🚨🚨مصطفی کمال نے کہا کہ جیسے پورا ملک چل رہا ہے ویسے ہی ہسپتال بھی چلے گا ہم پمز کو کیسے مثالی بنا سکتے ہیں ان کی یہ بات سن کر میرا یہ سوال ہے کہ ایک ایسا شخص جو نومولود بچوں کے بارے میں ایسی بے حسی کا مظاہرہ کرتا ہے اسے وزیر صحت ہونا بھی چاہیے یا نہیں ! ریما عمر ۔۔
مسلئہ حکومتوں کا نہیں، نظام کا ہے۔ انسانوں کی قدر کرنا، احساس کرنا، عوام پر خرچ کرنا اس نظام کی ترجیح ہے ہی نہیں۔ یہ نظام صرف چند خاندانوں اور اس ملک کے اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ انکے لیے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں آگ بجھانے کا نظام ، پانی، سیفٹی ہونا نہ ہونا کوئی معنے نہیں رکھتا کیونکہ انہوں نے کونسا سرکاری اسپتالوں میں جانا ہوتا ہے، کوئی بچہ گٹر میں گر کر مر جائے تو انکو کیا فرق پڑتا ہے۔ کوئی بم دھماکوں اور کوئی احتجاجوں میں مر جائے تو ہم وطن اس درد کو محسوس ہی نہیں کرتے۔ یہاں انسانی جان کی کوئی قدر نہیں، یہاں عمارتوں کی زیادہ قدر ہے، انسانوں کے بجائے پُلوں، بتیوں اور انڈرپاسز پر پیسے خرچ ہوتے ہیں، درخت کاٹ کر کنکریٹ کی یادگاریں تعمیر کرکے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
غریب کا بچے مرتے رہیں گے، کبھی اسپتالوں میں جل کر، کبھی گٹر میں گر کر، کبھی کسی درندے کی زیادتی کا شکار ہوکر مر جائیں گے۔ اُس وقت تک مرتے رہیں گے جب تک ظلم کا نظام قائم رہے گا۔
بوسیدہ، بے انصاف، کرپٹ اور اشرفیہ کے مفادات کا تحفظ کرنے والے اس نظام کے خلاف پسے ہوئے عوام کی یہ جدوجہد لمبی اور بڑی ہے۔ اس میں ہر شخص کو حصہ لینا ہوگا، ورنہ آنے والے دور میں ہمارے بچے بھی اسی طرح کہیں مر جائیں گے۔
آج کل نئے انتظامی یونٹس بنانے کی باتیں چل رہی ہیں اسلام آباد بھی تو ایک چھوٹا سا انتظامی یونٹ ہے جو آپ سے چل نہیں رہا اور 14 بچوں کی جان چلی گئی ہے ۔ اس جانی نقصان کی اگر حکومت ذمہ دار نہیں تو لواحقین کی تسلی اور ہمدردری کے لیے اپوزیشن والوں سے ہی استعفی لے لیں شاید پھر وہ ذمہ دار ہیں
طلال چوہدری سے سوال
🚨 سیکرٹری کا استعفی کافی نہیں ہے، وزیر صحت اور وزیراعظم استعفی دیں، یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں آئے اس لیے ان کو عوام کی فکر نہیں ہے،
شعیب شاہین کا مطالبہ
بعد میں آنے والی ویڈیوز سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ خاتون کافی جارح مزاج ہیں، پولیس سے ڈنڈا چھین کر دوسروں پہ حملہ آور ہوتی دکھائی دیتی ہیں، پولیس والوں کو بھی خاطر میں نہیں لا رہیں۔ کہیں سے لگتا تو نہیں کہ انہیں ہراساں کیا جا رہا رہا تھا بلکہ وہ تو دوسروں کو ہراساں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ بحرحال مکمل حقائق تو شفاف انکوائری سے ہی ظاہر ہوں گے