ہمارے گاؤں میں آسانیاں سی ہوتی تھیں
اگرچہ بے سروسامانیاں سی ہوتی تھیں
گلی کے وسط میں بس ایک بلب جلتا تھا
ہر ایک صحن میں تابانیاں سی ہوتی تھیں
وہی پرانی کہانی بھی شوق سے سن کر
ہمارے چہروں پہ حیرانیاں سی ہوتی تھیں
گئے دنوں میں بھی مصروف تھے سبھی لیکن
محبتوں کی فراوانیاں سے ہوتی تھیں
ہمارے عہد کے بچوں سے چھین لِیں کس نے
جو ہم سے بچپن میں نادانیاں سی ہوتی تھیں
نعیم ضرار
اک نظر دیکھتے تو جاؤ مجھے
کب کہا ہے کہ گلے لگاؤ مجھے
آج میں کھیلنے نہیں آیا
اب ذرا جیت کر دکھاؤ مجھے
میں یہاں سے نکلنا چاہتا ہوں
تم کوئی راستہ بتاؤ مجھے
ضیاء مزکور
اک سڑک ایسی جو قدموں کی تمنائی ہو
اک دکاں ایسی جسے رات کو تالا نہ لگے
-
تاکہ تو سمجھے کہ معیار سے گرنا کیا ہے
قیمتی عطر کھلے اور تجھے اچھا نہ لگے
-
ہم فقیروں کی دعا میں بھی بہت جدت ہے
جا ! ترے گھر کے خرابے میں بھی جالا نہ لگے
-
فرزاد علی زیرک