جہاں آصف علی ذرداری جیسے سیاستدان کو مفاہمت کا بادشاہ اور نظریاتی مرد حر پتا نہیں کون کون سےخطابات سےنوازا جائےوہاں سیاسی شعور لانا مشکل ہی نہیں بلکہ چھوٹی سی زندگی میں ناممکن کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا
تحریر:محمدعلی ابڑو
عوام کا بجٹ یا اشرافیہ کا ریلیف پیکیج؟
ایک بار پھر بجٹ آ گیاوہی پرانے دعوے، وہی جھوٹے وعدے، اور وہی امیروں پر مہربانی، غریبوں پر سختی۔ 2025-26 کا و��اقی بجٹ پیش ہوا، لیکن جسے “بجٹ برائے عوام کہا گیا، وہ درحقیقت عوامی مفادات کو یکسر نظر انداز کر کے طاقتور طبقے کو نوازنے کی ایک اور دستاویز ثابت ہوا
حیرت ہے کہ ملک شدید معاشی، سیاسی اور قانونی بحرانوں سے دوچار ہے، عوام دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، کاروبار تباہی کے دہانے پر ہیں، لیکن حکومت کے اقدامات دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سب کچھ ٹھیک چل رہا ہو
وزرا، مشیران، سینیٹرز اور ایم این ایز کی مراعات اور تنخواہوں میں تواتر سے اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ عام آدمی کے لیے پیٹرول، بجلی، گیس، آٹا، چینی، دوائیں، اور تعلیم سب ناقابلِ برداشت بنا دیا گیا ہے بجٹ 2025-26 کی تقریباً 18 ہزار ارب روپے حجم رکھا گیا ہے جس میں قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص رقم 9 ہزار ارب روپے دفاعی بجٹ میں اضافہ: 2.2 ہزار ارب روپے ترقیاتی بجٹ (PSDP): محض 1.5 ہزار ارب روپےتنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس بوجھ ڈالہ گیا ہےنجی اداروں اور صنعتوں پر سبسڈی کی کمی غریب طبقے کے لیے ریلیف نہ ہونے کے برابر ہےایک طرف حکومت کفایت شعاری کی بات کرتی ہے، دوسری طرف سرکاری اخراجات، غیر ضروری اسکیمیں، پروٹوکول، اور وزارتی اللے تللے کم ہونے کا نام نہیں لیتے عوام کو مہنگائی، بیروزگاری، بجلی کے بل، اور ادویات کی عدم دستیابی کی شکل میں سزا دی جا رہی ہے، اور بدلے میں حکومتی وزرا خود کو ترقیاتی الاؤنس، تنخواہ میں اضافہ، اور نئی گاڑیاں دے رہے ہیں
سب ایک پیج پر” کا کڑوا سچ
ماضی میں جب کبھی عدلیہ، میڈیا، یا اپوزیشن کسی حد تک آزاد تھی، تو حکومتی فیصلوں پر کچھ نہ کچھ چیک اینڈ بیلنس ہوتا تھا اب حالت یہ ہے کہ سب “ایک پیج” پر آ گئے ہیں نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پارلیمان ہو یا کابینہ، ہر جگہ وہی فیصلے کیے جا رہے ہیں جو طاقتور طبقے کے مفاد میں ہوں قوانین اس انداز میں بنائے جا رہے ہیں کہ احتساب ختم، شفافیت مفقود، اور سرکاری ادارے مفلوج ہو چکے ہیں NAB، FIA، اور دیگر احتسابی ادارے یا تو سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہیں یا مکمل بے بس
ایسے میں کرپشن، اقرباپروری، اور حکومتی بدعنوانی کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے
کیا یہ حکومت واقعی عوام کی نمائندہ ہے؟
موجودہ حکومت نے جتنے بھی فیصلے کیے، ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو عوام کے مفاد میں ہو چاہے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے ہوں یا ٹیکس اصلاحات، ہر قدم غریب کو مزید نچوڑنے اور اشرافیہ کو تحفظ دینے کے لیے اٹھایا گیا چھوٹے کسان، دیہاڑی دار، سفید پوش، سب اس معاشی پالیسی کے ہاتھوں پس گئے ہیں ان کے لیے کوئی سبسڈی نہیں، کوئی ریلیف نہیں، کوئی حکومتی قدم نہیں
اگر یہی طرزِ حکمرانی جاری رہا، تو آنے والے دنوں میں عوامی غصہ سڑکوں پر نظر آئے گا یہ بجٹ ایک اقتصادی دستاویز نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے عوام کے ساتھ بے رحمانہ مذاق ہے یہ بجٹ نہیں، غریب دشمن منشور ہے
وقت آ گیا ہے کہ صحافت، عدلیہ، سول سوسائٹی اور حقیقی سیاسی قیادت اٹھ کھڑی ہو، ورنہ تاریخ ہم سب کو معاف نہیں کرے گی