فارم 47 حکومت دنیا کے مسائل حل کرنے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے جبکہ لیکن کل رات بارش کے بعد راولپنڈی کے یہ حالات ہیں۔
ان سے چھوٹے قد کے لوگ تو اس گندے پانی میں ڈوب چکے ہوتے
اس لاچار شہری پر دہشتگردی کا مقدمہ نہ ہو جاۓ کہ اس نے سچ بتا کر اس جعلی حکومت کو "بدنام" کرنے کی کوشش کی۔
آج ہی عدالت نے حکم دیا تھا کہ فیملی کی ملاقات ہونی چاہیے عمران خان سے۔ آج پھر توہین عدالت کی ہے حکومت نے اور ان کے اوپر بیٹھے ڈکٹیٹر نے۔
جب تک عوام کا بھرپور پریشر نہیں ہوگا، رہائی مشکل ہے۔ ہر ممکن کوشش کریں ۲۷ ستمبر کا لانگ مارچ کامیاب بنانے کے لیے!
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
A court in Pakistan directed prison authorities to allow former Prime Minister Imran Khan to meet his jailed wife and other family members and speak to his sons by phone, according to a statement from his party https://t.co/XpbA7t1gAF
میری بہن، ڈاکٹر عظمیٰ خان نے 6 مئی 2026 کو عزیر کرامت بھنڈاری، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ (ASC) کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی، جس میں عمران خان کے معائنے اور علاج کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور یہ بھی استدعا کی گئی تھی کہ ان کا معائنہ اور علاج ان کے ذاتی ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں کیا جائے۔
18 اگست کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت کو حکم دیا کہ عمران خان کو 2 دن کے اندر اندر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ حکومت نے کھلم کھلا اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔
حکومت نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا۔ عدالتی حکم کے دیگر تمام پہلوؤں پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
سپریم کورٹ نے مزید یہ احکامات بھی دئیے تھے:
1. شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی انتظامیہ سے مشاورت اور رابطے کے ساتھ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
2. عمران خان کے ذاتی معالج، ڈاکٹر فیصل سلطان، کو ان کے طبی معائنے اور علاج کے عمل میں شامل کیا جائے۔
3. عمران خان کو ہفتے میں دو مرتبہ اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
4. عمران خان کو ہفتے میں ایک مرتبہ اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
مندرجہ بالا تمام چیزیں آئین، جیل قوانین اور اس سے قبل جاری کیے گئے عدالتی احکامات اور نظائر کے عین مطابق تھے۔
ان میں سے کسی ایک حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
خاندان کو جو محدود رسائی دی گئی ہے، وہ صرف میری بہن، نورین نیازی تک محدود ہے، جنہیں گزشتہ دو منگل کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ تاہم ناقابلِ فہم طور پر عمران خان سے ملاقات سے قبل ان سے ایک حلف نامے پر دستخط کروائے گئے، جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کے بعد وہ میڈیا سے بات نہیں کریں گی۔
عدالتی حکم کی اس سنگین اور دانستہ خلاف ورزی کے پیشِ نظر ڈاکٹر عظمیٰ خان نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی۔ ہمارے وکیل، عزیر بھنڈاری، کی جانب سے جلد سماعت اور مقدمے کو فوری طور پر مقرر کرنے کے لیے دو درخواستیں دائر کیے جانے کے باوجود، توہینِ عدالت کی درخواست کی جلد سماعت منظور نہیں کی گئی اور اسے 16 ستمبر کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔
آئین اور قانون عمران خان کے مناسب طبی معائنے اور علاج کا تقاضا کرتے ہیں، اور انہیں تنہائی اور قیدِ تنہائی کے ذریعے دی جانے والی اذیت کا خاتمہ ہونا چاہیے!!
سپریم کورٹ کا حکم بھی دراصل یہی تقاضا کرتا تھا۔ اس مطالبے میں کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔۔۔۔ یہ عمران خان کے وہ بنیادی حقوق ہیں جن کی ضمانت آئینِ پاکستان دیتا ہے۔
اگر حکومت کو آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کوئی احترام نہیں، اور وہ محض سپریم کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کر سکتی ہے، تو پھر ہمارے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے اور کون سا فورم باقی رہ جاتا ہے؟
Those who can send an elected Prime Minister and the entire government packing can certainly do the same in cricket.
Rules don't apply to them. Neither does common sense.