الحُسَیْنٌ مِنِّیْ وَاَنَا مِنْ الحُسَیْنٍ ، اَحَبَّ اللّٰہُ مَنْ اَحَبَّ حُسَیْنًا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت رکھتا ہے."
(جامع ترمذی)
حبیب ابن مظاہرؓ کون تھے؟ اور امام حسینؓ نے حبیب ابن مظاہرؓ کو خط میں کیا لکھا؟
دراصل حبیب ابن مظاہرؓ حضرت علی کے قدیم ساتھی اور امام حسینؓ کے سچے دوست تھے۔
امام حسینؓ نے حبیب ابن مظاہرؓ کو خط میں لکھا حبیب ابن مظاہرؓ کو حسین ابن علیؓ کا سلام ہو اور نیچے لکھا حبیب تم ہمارے نبی کو ہماری نسبت سے خوب پہچانتے ہو کربلا میں دشمنوں نے ہمیں گھیر لیا ہے اور نیچے لکھا
وَالسَّلَامُ حسین ابن علیؓ۔
خط قاصد کو دیا اور حبیب ابن مظاہرؓ کی جانب روانہ کر دیا۔
جب قاصد حبیب ابن مظاہرؓ کے دروازے پر پہنچا تو اس وقت حبیب ابن مظاہرؓ اپنی اہلیہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔
اندر سے آواز آئی کون ہے دروازے پر؟
قاصد نے جواب دیا میں حسین ابن علیؓ کا قاصد ہوں۔
کھانا فوراً چھوڑا ننگے پاؤں دروازے کی جانب دوڑے قاصد کے ہاتھ چومے خط کو پڑھا۔
خط کو پڑھتے پڑھتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جسم کانپنے لگا۔
اہلیہ کہنے لگی خط میں کیا لکھا ہے؟
تو حبیب ابن مظاہرؓ کہنے لگا کہ حسین ابن علیؓ مجھے مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔
تو اہلیہ کہنے لگی پھر دیر کس بات کی کر رہے ہو؟
تو حبیب ابن مظاہرؓ اپنی بیوی کا اپنی اہلیہ کا ایمان دیکھنے کے لیے کہنے لگے کہ میں اس وقت پچھتر برس کا ہو چکا ہوں میں اب ان کی مدد کیسے کر سکتا ہوں؟
تو اس کی اہلیہ نے فوراً سے دوپٹہ اوڑا اور نکلنے لگی۔
تو حبیب ابن مظاہرؓ کہنے لگے کہ تم کدھر جا رہی ہو؟
تو اہلیہ کہنے لگی تم مدد کے لیے نہیں جا سکتے تو میں تو جا سکتی ہوں نا۔
حبیب ابن مظاہرؓ نے اپنے غلام لیا اور گھوڑے کو ایڑ لگائی تو دشوار راستوں سے ہوتے ہوئے میدان کربلا میں پہنچ گئے۔
جب امام حسینؓ نے دور سے گھوڑے کی دھول اڑتے دیکھی تو آپ فرمانے لگے دیکھو میرا حبیب ابن مظاہرؓ پہنچ گیا۔
جب حبیب ابن مظاہرؓ امام حسینؓ کے پاس پہنچے تو گلے لگا لیا۔
اندر سے خیمے سے آواز آئی حبیب زینب تم کو سلام کہہ رہی ہے۔
تو چیخ مار کر رونے لگا کہ واللہ کون سی مصیبت اہل بیت آل محمد پر آن پہنچی ایک آقا زادی اپنے غلام کو سلام کہہ رہی ہے۔
سر پہ رومال لیا اپنے ماتھے پر پٹی باندھی اور دشمنوں کی صف میں پہنچ کے ستر سے زیادہ کافروں کو واصل جہنم کیا۔
زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گھوڑے سے نیچے گر گئے۔
اور امام حسینؓ نے حبیب ابن مظاہرؓ کا سر اپنی گود میں رکھا اور آپ فرمانے لگے حبیب میں گواہی دیتا ہوں تم اہل بیت کے آل رسول کے سچے ساتھی ہو۔
آج ہم محبتِ اہلِ بیتؑ کے نعرے تو بلند کرتے ہیں، مگر جب سنت، اطاعت، کردار، انصاف اور حق پر ثابت قدمی کا وقت آتا ہے تو اکثر ہمارے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔
اور ہم سوشل میڈیا پر چند الفاظ لکھ کر خود کو عاشقِ اہلِ بیتؑ سمجھ لیتے ہیں۔
دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر حق کے لیے قیمت ادا کرنا ہر کسی کے ب�� کی بات نہیں۔
محبت اگر سچی ہو تو کردار میں نظر آتی ہے، ورنہ نعرے تو ہر دور میں لگتے رہے ہیں
ذرا سوچ��ں کہ معاذ بن جبلؓ کو کیسا لگا ہو گا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا " معاذ اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ "
اور عبداللہ بن عباسؓ کو کیسی خوشی ہوئی ہوگی جب رسول اللہﷺ نے انہیں گلے لگایا اور فرمایا : ” اے اللہﷻ اسے قرآن سکھا دیجیے“۔
علی ابن ابی طالبؓ کیا سوچتے ہوں گے جب انہوں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں کل ضرور جھنڈا ایک ایسے شخص کے حوالے کروں گا جو اللہﷻ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہﷻ اور اس کا رسول بھی اسے محبت کرتے ہیں اور پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ تو یہ خود ہیں ۔ ؟
یا سعد بن ابی وقاصؓ کے شل ہاتھوں میں تو بجلی دوڑ گئی ہو گ�� جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا ہوگا کہ
" اے سعد تیر چلا ، میرے ماں باپ تجھ پر قربان "
اور عثمان بن عفانؓ کے کیا جذبات ہوں گے جب انہوں نے تبوک کی جنگ کےلیے جانے والی فوج کو مکمل سامان فراہم کیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "عثمان نے آج جو کچھ کیا اس کے بعد کچھ بھی اسے نقصان نہ پہنچائے گا ۔"
یا ابو موسیٰ اشعرؓی نے پھر قرآن کی تلاوت کیسے کی جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کاش تم مجھے اس وقت دیکھ لیتے جب میں کل تمہاری تلاوت سن رہا تھا “
اور سائب بن یزیؓد کیا سوچتے ہوں گے کہ جن کے سر کے بالوں کو رسول اللہﷺ نے چھوا تو صرف وہ ہی سیاہ رہ گئے ، جب ان کے باقی بال بڑھاپے میں سفید ہو گئے ؟
اور انصاؓر کی خوشی کا کیا عالم ہوا ہوگا جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تمام لوگ ایک راستے پر چلیں اور انصار دوسرے راستے پر تو میں انصار کا راستہ اختیار کروں گا ۔
اور انصارؓ کیسا فخر کرتے ہوں گے جب اللہ کے نبیﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ ایمان کی علامت انصار سے محبت ہے اور نفاق کی علامت ان سے دشمنی ہے ۔
اور صدیقؓ کے جذبات کیا تھے جب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا دوست بناتا تو ابوبکر کو بنا لیتا ۔
اماں عائشؓہ کا دل تو دھڑکنا بھول ہی گیا ہو گا جب رسول اللہﷺ نے اُن کے نام کے ساتھ جواب دیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟
اور بلال بن رباحؓ کے آنسو کیا تھم گئے ہوں گے جب رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا کہ اے بلال مجھے وہ عمل تو بتاؤ جس سے ��م سب سے زیادہ امید رکھتے ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے سامنے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے ۔
اور عمر بن خطابؓ کو کیسا محسوس ہوا جب انہوں نے رسول اللہﷺ کے پاس داخل ہونے کی اجازت چاہی اور آپ ﷺ نے دربان سے فرمایا کہ اسے داخل ہونے دو اور جنت کی بشارت دو ۔
تصور کریں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کو دیکھیں گے اور محمد عربیﷺ ہم سے کہیں گے : " تم میرے وہ بھائی ہو جن سے ملنے کے لیے میں رویا ، تم میرے وہ بھائی ہو جو مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائے ۔ "
اس وقت ہم کیا محسوس کریں گے؟
یا اللہ ہمیں بھی ان میں شامل فرما ۔ آمین یارب العالمین .
کوفہ والوں کے پاس پورا دین مکمل تھا سواۓ امام حسین علیہ السلام کی محبت کے جس کی بدولت انکا سارا دین تباہ ہو گیا اور کوٸی علم ان کے کسی کام نہ آسکا
حضرت ابوانیس محمد برکت علی لودھیانوی
تذکرہ حسین شہزادہ کونین علیہ السلام صفحہ 100
لودھراں میں نیا نشہ متعارف کروایا گیا ہے
یہ دوائی ڈاکٹر ڈپریشن کے مریضوں کو لکھ کر دیتے ہیں۔مگر یہ دوائی نوجوان لڑکے سٹنگ بوتل کے ساتھ لیتے ہیں اور اپنا آپ تباہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ سٹنگ کا فارمولا اس کی طاقت کو 10 گنا بڑھا دیتا ہے۔ اور نوجوان نشے میں گرتے پڑتے ہیں اس لیئے نوجوان نسل پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ وہ اس لعنت میں مبتلا نہ ہوں
لودھراں میں نیا نشہ متعارف کروایا گیا ہے
یہ دوائی ڈاکٹر ڈپریشن کے مریضوں کو لکھ کر دیتے ہیں۔مگر یہ دوائی نوجوان لڑکے سٹنگ بوتل کے ساتھ لیتے ہیں اور اپنا آپ تباہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ سٹنگ کا فارمولا اس کی طاقت کو 10 گنا بڑھا دیتا ہے۔ اور نوجوان نشے میں گرتے پڑتے ہیں اس لیئے نوجوان نسل پر خصوصی نظر رکھیں تاکہ وہ اس لعنت میں مبتلا نہ ہوں
اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم
انک حمید مجید
اللھم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم و علی آل ابراھیم
انک حمید مجید
حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے
۵ محرم کے حوالے سے تاریخی روایات میں چند مزید اہم پہلو بھی بیان کیے جاتے ہیں.
از قلم چوہدرانی✒️👑
لشکرِ یزید کی مسلسل آمد کربلا میں یزیدی فوج کی تعداد روز بروز بڑھ رہی تھی۔ کوفہ کے گورنر Ubayd Allah ibn Ziyad مسلسل مزید فوجی دستے بھیج رہا تھا تاکہ امام حسینؑ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ مزاحمت کا راستہ روکا جا سکے۔
امام حسینؑ کا موقف ان دنوں امام حسینؑ بار بار اپنے موقف کو واضح فرما رہے تھے کہ آپؑ جنگ کے خواہاں نہیں ہیں۔ آپؑ کا مقصد امتِ مسلمہ کی اصلاح اور حق کا قیام تھا۔ آپؑ مختلف مواقع پر دشمن کے سامنے بھی حجت تمام کرتے رہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ حق واضح نہیں تھا۔
اصحاب کی وفاداری محرم کے ابتدائی دنوں میں ہی امامؑ کے اصحاب نے ثابت کر دیا تھا کہ وہ ہر حال میں اپنے امام کا ساتھ دیں گے۔ جیسے جیسے دشمن کی تعداد بڑھتی گئی، اصحاب کا عزم بھی مضبوط ہوتا گیا۔ ان کے چہروں پر خوف کے بجائے قربانی کا جذبہ نمایاں تھا۔
خیموں میں عبادت اور دعا کربلا کے خیموں میں ان دنوں عبادت، تلاوتِ قرآن اور دعا کا خاص اہتمام تھا۔ اہلِ بیتؑ اور اصحاب جانتے تھے کہ آزمائش کا وقت قریب آ رہا ہے، اس لیے وہ اپنے رب سے تعلق کو مزید مضبوط کر رہے تھے۔
حضرت عباسؑ کی ذمہ داریاں Al-Abbas ibn Ali لشکرِ حسین�� کے علمبردار تھے۔ محرم کے ان ابتدائی دنوں میں آپؑ خیموں کی حفاظت، بچوں اور خواتین کی دلجوئی، اور لشکر کے نظم و ضبط کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
ایک اہم حقیقت اگرچہ ۵ محرم کے دن کوئی بہت بڑا جنگی واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن یہی وہ ایام تھے جن میں کربلا کے المیے کی بنیادیں مضبوط ہو رہی تھیں۔ دشمن اپنی تیاری مکمل کر رہا تھا جبکہ امام حسینؑ اور ان کے ساتھی حق و صداقت کی آخری مثال قائم کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔
۵ محرم کا پیغام:
"حق کی راہ میں استقامت صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ آزمائش کے ہر لمحے میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان والے حالات کے نہیں، اپنے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں۔" 🖤🏴
آج 21 جون سال کا سب سے طویل دن اور سب سے مختصر رات ہوگی ماہرین فلکیات کے مطابق آج دن کا دورانیہ 13 گھنٹے 41 منٹ جبکہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ دورانیے کی ہو گی۔
پاکستان میں زیادہ تر لوگ موبائل صرف سوشل میڈیا اسکرولنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ پلے اسٹور پر چند ایسی ایپس بالکل فری موجود ہیں جو آپ کے روزمرہ کے گھنٹوں کا کام سیکنڈز میں بدل سکتی ہیں۔
یہ وہ 5 بہترین ایپس ہیں جنہیں ہر بندے کو استعمال کرنا چاہیے:
1. Adobe Scan
کئی بار ہمیں کسی سرکاری کام، دکان کے بل، یا شناختی کارڈ کی کاپی کسی کو واٹس ایپ پر بھیجنی ہوتی ہے۔ لوگ عام موبائل کیمرے سے ٹیڑھی میڑھی اور دھندلی تصویر بھی�� دیتے ہیں جو پروفیشنل نہیں لگتی۔
یہ کیا کرتی ہے: آپ اس ایپ سے کسی بھی کاغذ یا شناختی کارڈ کی تصویر لیں۔ یہ اس کے فالتو کونے خود بخود کاٹ کر، اس کا رزلٹ بالکل ایک اسکینر مشین جیسا صاف کر کے پی ڈی ایف (PDF) فائل بنا دیتی ہے۔
2. Microsoft Loop / Notion
لوگ اپنے دکان کے حساب کتاب، روزمرہ کے ادھار، گاہکوں کی لسٹ یا گھر کے راشن کا سامان یاد رکھنے کے لیے کاغذ کے ٹکڑوں یا ڈائریوں پر لکھتے ہیں جو اکثر کھو جاتے ہیں۔
یہ کیا کرتی ہے: یہ آپ کی ڈیجیٹل ڈائری ہے۔ آپ اس میں اپنے پورے مہینے کا حساب، دکان کا اسٹاک، اور روزمرہ کے کاموں کی لسٹ بنا سکتے ہیں۔ یہ ڈیٹا لائف ٹائم کے لیے محفوظ رہتا ہے اور آپ اسے کمپیوٹر پر بھی کھول سکتے ہیں۔
3. Truecaller
پاکستان میں نامعلوم نمبروں سے بار بار کالز آنا یا رانگ نمبرز کی طرف سے تنگ کیا جانا ایک عام مسئلہ ہے، جس سے وقت اور سکون دونوں برباد ہوتے ہیں۔
یہ کیا کرتی ہے: جیسے ہی کسی انجان نمبر سے کال آئے گی، یہ سکرین پر اس بندے کا اصل نام دکھا دے گی، چاہے وہ نمبر آپ کے موبائل میں سیو نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ فراڈ اور بینک کے نام پر آنے والی فیک اسپیم (Spam) کالز کو خود بخود بلاک کر دیتی ہے۔
4. Google Keep
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ بائیک چلا رہے ہوتے ہیں یا کسی کام میں مصروف ہوتے ہیں اور اچانک دماغ میں کوئی اچھا بزنس آئیڈیا یا ضروری کام یاد آ جاتا ہے، لیکن لکھنے کا وقت نہیں ہوتا۔
یہ کیا کرتی ہے: یہ گوگل کی آفیشل نوٹ ایپ ہے۔ آپ صرف مائیک کا بٹن دبا کر اردو یا انگلش میں بولیں، یہ آپ کی آواز کو سیکنڈز میں ٹیکسٹ (لکھائی) میں بدل کر سیو کر دے گی۔ آپ اس میں تصویریں اور آڈیو نوٹس بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
5. CapCut (Auto Captions Feature)
اگر آپ آن لائن بزنس کرتے ہیں، دکان کی تشہیر کے لیے ویڈیوز بناتے ہیں، یا سوشل میڈیا پر کوئی چیز بیچتے ہیں تو ویڈیو کے نیچے ٹیکسٹ (Subtitles) لکھنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ گاہک کو بات سمجھ آئے۔ خود ٹائپ کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں۔
یہ کیا کرتی ہے: ویڈیو ایڈیٹنگ کے علاوہ اس ایپ میں ایک فری بٹن ہ�� "Auto Captions"۔ آپ ویڈیو اپلوڈ کر کے یہ بٹن دبائیں، ویڈیو میں آپ جو کچھ بول رہے ہوں گے، یہ ایپ سیکنڈز میں وہ سب کچھ خود بخود نیچے ٹائپ کر کے لکھ دے گی۔
دنیا کے دو پھول
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا"
"یہ دونوں (حسن اور حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔"
(صحیح بخاری)