اپنی پسند کا شعر کمنٹ کریں، جس میں لاہور کا زکر ہو۔
اُچے برج لاہور دے
جتھے بلدے چار مشال
ایتھے ای میاں میرؒ دی بستی
ایتھے ای شاہ جمالؒ
اک پاسے دا داتاؒ مالک
اک دا مادھو لالؒ
زندگی سے ڈرتے ہو؟
!زندگی تو تم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں!
زندگی سے ڈرتے ہو؟
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں
آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے
''ان کہی'' سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی اس گھڑی سے ڈرتے ہو
اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو
پہلے بھی تو گزرے ہیں
دور نارسائی کے ''بے ریا'' خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مندی
یہ شب زباں بندی ہے رہ خداوندی
تم مگر یہ کیا جانو
لب اگر نہیں ہلتے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اٹھتے ہیں صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو
روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں
روشنی سے ڈرتے ہو
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر خاک ہو گیا آخر
اژدہام انساں سے فرد کی نوا آئی
ذات کی صدا آئی
راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے
آدمی چھلک اٹھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟
ہاں ابھی تو تم بھی ہو
ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں
تم ابھی سے ڈرتے ہو
ن م راشد
10 سیکنڈ کا بوسہ تقریباً 80 ملین بیکٹیریا منتقل کرتا ہے۔
@کیا یہ بوسہ فائدہ مند ہے یا نقصان دہ ہے؟ اگر نقصان دہ ہے تو کن صورتوں میں پرہیز کرنا چاہیے؟ 👇
منیر نیازی کے پنجابی اشعار
طارق عزیز کی زبان سے
کُج اونج وی رَاہواں اَوکھیاں سَن
کُج گَل وِچ غم دا طوق وِی سِی
کُج شہر دے لوک وِی ظالم سَن
کُج مَينوں مَرن دا شوق وِی سِی
منیر نیازی
This song has a special place in my heart. I catch myself humming it all the time. Some songs never get old
—they stay timeless forever. 🎶❤️
آپ نے پہلے سنا تھا اسے۔??
چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو
منیر نیازی
ــــــــــــــــــ
یہ شعر انسانی زندگی کی تھکن اور عمر کے اختتام پر ایک سادہ مگر گہری خواہش کو بیان کرتا ہے کہ انسان چاہتا ہے اس کی زندگی الجھنوں اور تکلیفوں سے پاک ہو۔
منیر نیازی نے نہایت خوبصورتی سے دل کی وہ کیفیت بیان کی ہے جہاں سکونِ حیات سب سے بڑی آرزو بن جاتا ہے۔
آئیں مَہدی حَسن سے خواجہ پرویز کا لِکھا لازوال گیت سُنیں۔
پیار بَھرے دو شَرمیلے نین
جِن سے مِلا ٫ میرے دِل کو چین
کوئی جانے نہ
کیوں مُجھ سے شرمائیں
کیسے مُجھے تڑپائیں
دِل یہ کہے ٫ گیت میں تیرے گاؤں
تُو ھی سُنے ٫ اور میں گاتا جاؤں
تُو جو رھے ساتھ میرے
دُنیا کو ٹُھکراؤں ٫ تیرا دِل بہلاؤں
روپ تیرا ٫ کَلیوں کو شَرمائے
کیسے کوئی ٫ اَپنے دِل کو بچائے
پاس ھے تُو پھر بھی جَلوں
کون تُجھے سَمجھائے ٫ ساون بیتا جائے
ڈر ھے مُجھے ٫ تُجھ سے بِچھڑ نہ جاؤں
کھو کے تُجھے ٫ مِلنے کی راہ نہ پاؤں
ایسا نہ ھو جب بھی تیرا
نام لبوں پر لاؤں ٫ میں آنسو بن جاؤں۔
خواجہ ��رویز