Allāh didn’t remove sea fr Musa. He parted it.
Allāh didn’t extinguish fire fr Ibrahim. He made it cool. Allāh didn’t directly heal Ayyub. He guided him to water. Allah doesn’t always take away our hardships, bt He provides a path through them. ♥️
People are such that if good touches you, it distresses them; but if harm strikes you, they rejoice at it. Such is life in this day & age. That’s why you need to be discerning when sharing aspects of your life. Choose carefully. Not everyone deserves to know everything about you.
When Tahzib Hafi said:
'' Mein in dinu hoon khud se itna be khabr
Mein mar chuka hoon aur mujhe pata bhi nahi ''
And Wajid Sheikh wrote:
'' Aisa bhi kya khud mein masroof rehna
Ki khud ko bhi, ab khud ki khabar na rahe ''
ملزم ایک 15 سالہ لڑکا تھا۔ ایک اسٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کے دوران اسٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹا۔
جج نے فرد ِ جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا "تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟"
"بریڈ اور پنیر کا پیکٹ" لڑکے نے اعتراف کرلیا۔
"کیوں؟"
"مجھے ضرورت تھی" لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
"خرید لیتے"
"پیسے نہیں تھے"
"گھر والوں سے لے لیتے"
"گھر پر صرف ماں ہے۔ بیمار اور بے روزگار۔ بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔"
"تم کچھ کام نہیں کرتے؟"
"کرتا تھا ایک کار واش میں۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔"
"تم کسی سے مدد مانگ لیتے"
"صبح سے مانگ رہا تھا۔ کسی نے ہیلپ نہیں کی"
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
"چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے۔ اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ عدالت میں موجود ہر شخص، مجھ سمیت۔ اس چوری کا مجرم ہے۔ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔" یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے۔
"اس کے علاوہ میں اسٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ اسٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔"
فیصلے کے آخری ریمارک یہ تھے: "اسٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔"
فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی، اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اور وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔
("کفر" کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے۔ اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہ��ں)
Surah Yusuf is so beautiful. It teaches us the closest people can betray you, broken hearts can be healed with love, ease comes after hardship, being sad doesn't equal being ungrateful, and people of patience have beautiful endings.
’’ قائداعظم نے ابھی اپنی رہائش گاہ نہیں بنایا تھا کہ گورنمنٹ نے ۔۔جب حملہ ہوا تو جناح ہاؤس ہوگیا، ایک چڑیا کو بھی گزرنے نہیں دیتے ، کدھر ہے آئی جی پولیس۔۔۔ پہلے کٹہرے میں ان کو کھڑا کرو"... اعتزاز احسن بھی بول پڑے
#DunyaNews#AtizazAhsan