مولانا فضل الرحمان نے اس تقریر میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں شام کے بعد حکومت کی رٹ ختم ہو جاتی ہے پولیس تھانوں سے نہیں نکلتی بلوچستان کے اکثر علاقوں میں بھی کوئی حکومت نہیں اس دعوے پر قومی اسمبلی میں بحث کی ضرورت ہے تا کہ کوئی حل نکالا جا سکے اب ہمیں اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بیرونی مسائل بیرونی طاقتوں پر چھوڑ دیں
باجوڑ میں امن کے علمبردار، ہمارے بھائی، ممتاز عالمِ دین اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری برائے علماء، مولانا خانزیب شہید کی شہادت کو آج ایک سال مکمل ہوگیا۔ ان کی شہادت نہ صرف ان کے اہلِ خانہ اور جماعت کے لیے، بلکہ پورے خیبر پختونخوا میں امن کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی اور انتہائی المناک سانحہ تھا۔
/
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود نہ صرف قاتل گرفتار نہیں کیے جا سکے بلکہ آج تک ان کی شناخت بھی س��منے نہیں آسکی۔ ہمارے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے بھی اٹھایا اور باقاعدہ خط بھی تحریر کیا، مگر تاحال کوئی مؤثر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے خیبر پختونخوا کے لوگوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں، یا ان کے دکھ اور قربانیوں کی کوئی اہمیت نہیں سمجھی جاتی۔
#MaulanaKhanzebShaheed
On the 1st death anniversary of Maulana Khanzeb, we pay tribute to a man of profound knowledge & unwavering conviction, he embodied the rare union of intellect & action. Such voices become dangerous to those who thrive on oppression & political engineering. His struggle lives on.
as a remarkable achievement. No one—including the United States or Israel—has the authority to decide who should govern a country.
Loyal unto the end ♥️🫡
#AyatollahKhamenei
ایمان بر ترس مقدم است 🥀
His courage and unwavering devotion to principle remain a guiding light for generations.
Beyond his religious views and style of governance, Great Khomeini’s resistance to colonialism and his choice of death over slavery stand
1/2
#AyatollahKhamenei
پاکستان کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہاں اداروں کے اشاروں پر اٹھنے اور بیٹھنے والے بھی صدیوں پر محیط سیاسی تحریکوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔ 1947ء میں ریفرنڈم کے بائیکاٹ کے ہمارے فیصلے کی وجوہات خالصتاً سیاسی تھیں، اور سیاسی معاملات کو سیاسی لوگ ہی ��ہتر سمجھ سکتے ہیں، فواد جیسے مسلط ٹولے کے افراد ہرگز نہیں۔
1937ء اور 1946ء کے انتخابات میں خدائی خدمتگاروں نے آپ کی مسلم لیگ کے مقابلے میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسے میں آپ یہ کیسے ��عویٰ کر سکتے ہیں کہ 1947ء میں پورا صوبہ انضمام کا خواہاں تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم جیسے لوگ نہ ہوتے تو آج بھی آپ پورے صوبے کے پاکستان کے ساتھ تعلق کا دعویٰ نہ کر پاتے۔ پختونوں اور دیگر مظلوم قومیتوں نے پاکستان کے ساتھ جو رشتہ نبھایا ہے، اس میں ہمارا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر خان صاحب کے حوالے سے آپ نے کون سی کتاب پڑھی ہے جس میں یہ لکھا ہو کہ انہوں نے قومی پرچم کو سلام نہیں کیا؟ تاریخ کو مسخ کرنے کے بجائے اسے درست طور پر پڑھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کا خاتمہ دراصل پاکستان میں پہلا مارشل لاء تھا،یہ مارشل لاء بدقسمتی سے جناح صاحب کی موجودگی میں لگایا گیا تھا،��مارے ایم پی ایز کو پابند سلاسل کیا گیا اور قیوم کو وزیراعلٰی بنایا گیا،جس نے بعد میں بابڑہ کا واقعہ کیا اور پاکستان نے نہتے 600 سے زائد خدائی خدمتگاروں کو شہید کیا۔
سوویت یونین کے دور میں ہم نے عالمی طاقتوں کے کھیل کو مسترد کرتے ہوئے آپ کے نام نہاد جہاد کو فساد قرار دیا۔ ہم اُس وقت بھی آزاد خارجہ پالیسی کے حامی تھے، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ افسوس کہ ہماری باتیں آپ جیسے ریاستی ترجمانوں کو سمجھنے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں، مگر آخرکار حقیقت وہی ثابت ہوتی ہے جس کی نشاندہی ہم پہلے ہی کر چکے ہوتے ہیں۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، غلامی کی زنجیریں توڑنے کا بیانیہ قوم پرستوں کا نہیں تھا۔ ہم نے تو ہمیشہ یہی کہا کہ افغانستان کو افغانستان ہی رہنے دیا جائے، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے، ورنہ اس کے نتائج خود پاکستان کو بھگتنا پڑیں گے۔ مگر اُس ��قت بھی ہمیں آپ جیسوں کی جانب سے گالیوں اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔
ہم نے دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے 1300 سے زائد کارکنان کی قربانیاں دیں۔ کیا یہ دہشت گردی ہمارے خلاف کوئی ذاتی جنگ تھی؟ اس کے باوجود پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے صوبے پر آپ جیسے عناصر مسلط کیے، جو گرفتاری کے خوف سے بھی راہِ فرار اختیار کرتے ہیں اور ایسے بھاگتے ہیں کہ اُن کے اس بھاگنے پر بھی میمز بن جاتی ہیں۔
پاکستان سے دہشت و وحشت کے خاتمے کا واحد حل یہ ہے کہ خلوصِ نیت سے گڈ اور بیڈ کی تفریق ختم کر کے ان دہشت گردوں کی حقیقی معنوں میں کمر توڑی جائے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے والے، افغانستان میں طالبان رجیم کو انقلاب سے تشبیہ دینے والے، امن پر تقریریں بھی کرتے پھریں اور اندر سے وہ دہشتگرد بھی ہو۔
تاریخ بہت بے رحم ہوتی ہے۔ اپنے آقاؤں سے کہیں کہ ایک ٹرتھ اینڈ ری کنسیلی ایشن ��میشن بنایا جائے، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ تاریخ میں کون کہاں کھڑا تھا۔
ایک سیاست وہ تھی جس سے بشیر بلور جیسا جیدار وابستہ تھا
جو خونخوار دہشت گردوں کے سامنے پشاور جیسے خطرناک شہر میں بھی آخر سانس تک ڈٹ کر کھڑا رہا
حتی کہ اپنے بیٹے سمیت جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا!
اور ایک سیاست یہ بھی ��ے
جو اپنے لیڈرکا ٹوئیٹ بھی ریٹوئیٹ نہیں کرسکتے
Shaheed Bashir Ahmed Bilour was a brave son of the soil who laid down his life fighting terrorism without ever compromising on his principles. As violence resurfaces, his sacrifice reminds us that we will never bow before fear or terrorism. #RememberingBashirBilour
پنجاب کی جانب سے آٹے کی بندش پر آئینی ماہرین ریت میں سر دھنسا کر غائب ہوگئے ہیں
لیکن
اگر خیبر پختونخوا نے بجلی بندش کی بات کردی تو پھر قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچے گا اور آئین و قانون بھی یاد آجائیگا
سینیٹر @AimalWali کو ریاست نے منسٹرز انکلیو میں بنگلہ اس لئے الاٹ کیا ھے کہ وہ نہ صرف سینیٹر ہیں بلکہ اس پارٹی کو بھی ہیڈ کر رھے ہیں جس جماعت پر ( والد اسفندیار خان سمیت )سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے اور سینکڑوں شہادتیں ہوئیں !
(سو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ایک اہم سیاسی رہنما کو تحفظ فراہم کرے )
ل��کن ریٹائرڈ بیروکریٹس مشتاق احمد سکھیرا، شاھد اشرف تارڑ ن لیگ کے سینئر ناصر بٹ سابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان چیئرمین نیب جنرل نذیر بٹ اور گمنام غلام مرتضی شاہ، حذیفہ رحمان، جاوید سہراب ملک اور عبد القادر کو کن "قربانیوں " یا "خطرات " کی وجہ سے بنگل�� الاٹ ہوئے ہیں؟
Chill bro. Wait for my answer. Why in a hurry. And as far as this question is concerned it was a taunt because this reporter has asked this question a lot many times and he has been answered too. These are know as loaded journalists who do journalism for their masters that’s why I had to give a rebuttal. All answers will be given to the nation and the touts. Just chill till then.
جہاں تک مجھے یاد ہے طلال چوہدری صاحب آپ نے سپریم کورٹ سے ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ غیر مشروط معافی مانگی تھی ! پہلی مرتبہ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے اور دوسری مرتبہ انٹرا کورٹ اپیل میں جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے ! اعظم نذیر تارڑ نے بھی عدالت سے درگزر سے کام لینے کی استدعا کی تھی !